*خطائے منکر کے ارتکاب کا الزام:*
مصنفِ نام و نسب کو خطاء کی حقیقت کے عنوان کے تحت ارقام فرماتے ہیں:
اس میں شک نہیں کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ خلیفہِ برحق تھے اور اس پر اجماعِ امت ہے حضرت امیرِ معاویہؓ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے خلاف جو رویہ اختیار کیا وہ کسی بھی لحاظ سے پسندیدہ نہ تھا اس کے رویے کو محض خطاءِ اجتہادی قرار دے کر موجبِ اجر و ثواب سمجھنا محلِ نظر ہے کسی شرعی مسئلے میں حتیٰ الوسع جدوجہد کے بعد اجتہادی غلطی کا معاملہ کچھ اور ہے، مگر دنیوی اور ملکی امور میں ایسی اجتہادی خطا کو جو موجبِ فتنہ بنے باعثِ اجر و ثواب قرار دینا قرینِ دانش مندی و انصاف نہیں ہے ہمیں درجہ صحابیت کا لحاظ ہے اور ہم حضرت امیرِ معاویہؓ کے بارے میں کوئی عناد نہیں رکھتے، مگر اتنی بات ضرور ہے کہ ہم ان کے طرزِ عمل کو اجتہادی کارنامہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔
(نام و نسب: صفحہ532، 533)
الجواب:چند نکات کی طرف توجہ فرمائیں:
1: جہاں تک حضرت علی المرتضیٰؓ کے خلیفہ برحق ہونے کا تعلق ہے، تو اس سے آج تک کسی سنی مسلمان نے انکار نہیں کیا سیدنا علی المرتضیٰؓ خلیفہ راشد تھے اور اپنے زمانے میں أحق بالخلافۃ بھی۔
حافظ ابنِ تیمیہؒ (متوفی 728 ہجری) فرماتے ہیں:
وَعَلِی أَحَقُّ النَّاسِ بِالْخِلَافَةِ فِی زَمَنِهِ بِلَا رَيْبٍ عِنْدَ أَحَدٍ مِنَ الْعُلَمَاءِ، مَنْ لَمْ يُرَبِّعْ بِعَلِی فِی الْخِلَافَةِ فَهُوَ أَضَلُّ مِنْ حِمَارِ أَهْلِهِ۔
(منہاج السنہ: جلد4 صفحہ208 قال الرافضی الثانی عشر الفضائل اما نفسانیۃ او بدنیۃ او خارجیۃ الخ)
ترجمہ: حضرت علی المرتضیٰؓ اپنے زمانے میں سب سے زیادہ مستحقِ خلافت تھے یہ ایسی حقیقت ہے جس کے تسلیم کرنے میں کسی ایک عالم کو بھی شک نہیں ہے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہِ رابع نہ مانے وہ اپنے گھر کے گدھے سے زیادہ گم کردہ راہ ہے۔
2: جہاں تک افضلیتِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بات ہے، تو بہ اعتبارِ مراتب سیدنا علی و سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہما کا کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ السابقون الاولون کے ائمہ میں سے ہیں، اور سیدنا امیرِ معاویہؓ مسلمۃ الفتح کے لوگوں میں سے وہ حضرات خلفاءِ راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سب سے افضل ہیں، جبکہ حضرت امیرِ معاویہؓ آپ کے بعد بہت ایمان والوں میں سے ہیں اور سیدنا امیرِ معاویہؓ فرماتے ہیں:
اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ آپؓ تمام لوگوں سے زیادہ مستحقِ خلافت ہیں، مجھ سے زیادہ حق دار ہیں آپؓ مہاجرینِ اولین میں سے ہیں، آپؓ جیسی سبقتِ اسلام اور رسول اللہﷺ کی قرابت حاصل نہیں ہے۔ (سلیم بن قیس: صفحہ161)
اسی طرح حضرت امیرِ معاویہؓ کا ارشاد ہے:
وَاللَّهِ إِنِّی لَأَعْلَمُ أَنَّ عَلِيًّا أَفْضَلُ مِنِّی وَأَحَقُّ بِالْأَمْرِ
(البدایہ والنہایہ: جلد 8 صفحہ169، سنہ 60 ہجری تحت ترجمہ معاویہؓ)
ترجمہ: اللہ کی قسم! میں خود کو سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے برابر نہیں سمجھتا، بلکہ بہت اچھی طرح جانتا ہوں کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ مجھ سے افضل ہیں اور امرِ خلافت کے مجھ سے زیادہ حق دار ہیں۔
حضرت امیرِ معاویہؓ کے ان بیانات سے واضح ہو گیا کہ وہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اپنے آپ سے افضل اور احق بالخلافہ سمجھتے تھے یہ ناکارہ اس مقام پر یہ بات کہنا ضروری سمجھتا ہے کہ جس طرح مراتبِ فضائل میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کو سیدنا علی المرتضیٰؓ سے کوئی نسبت نہیں، اس طرح بعد والوں کو سیدنا امیرِ معاویہؓ سے کوئی نسبت نہیں اگر وہاں زمین و آسمان کا فاصلہ ہے تو یہاں بھی فرق عرش سے تحت الثریٰ تک کا ہے۔
3: سیدنا علیؓ و سیدنا امیرِ معاویہؓ کے درمیان جو جنگ ہوئی ہے، جیسا کہ شروع میں حافظ ابنِ تیمیہؒ (متوفی 728 ہجری) اور مجدد الف ثانیؒ (متوفی 1034 ہجری) کے حوالے سے عرض کر چکا ہوں، کہ اس کی بنیاد حصولِ خلافت یا طلبِ اقتدار پر نہ تھی، بلکہ ہر دو فریق ایک دوسرے سے دین کے تحفظ اور سربلندی کے لیے برسرِ پیکار تھا۔ حضرت علامہ شعرانیؒ (متوفی 976 ہجری) اور علامہ کمال الدین المقدسی الشافعیؒ (متوفی 905 ہجری) منازعت کا سبب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَلَيْسَ الْمُرَادُ بِمَا شَجَرَ بَيْنَ عَلِی وَ مُعَاوِيَةَ الْمُنَازَعَةَ فِی الْإِمَارَةِ كَمَا تَوَهَّمَهُ بَعْضُهُمْ، وَإِنَّمَا الْمُنَازَعَةُ كَانَتْ بِسَبَبِ تَسْلِيمِ قَتَلَةِ عُثْمَانَ إِلَى عَشِيرَتِهِ لِيَقْتَصُّوا مِنْهُمْ
(الیواقیت والجواہر: جلد2 صفحہ77 المبحث الرابع والاربعون فی بیان وجوب الکف عما شجر بین الصحابۃ الخ، المسامرۃ: جلد2 صفحہ158، 159 تحت الاصل الثامن فی فضل الصحابۃ)
ترجمہ: حضرت علی المرتضیٰ و امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین تنازع امارت و حکومت کے حصول میں نہیں تھا، جیسا کہ بعض کم عقلوں کو وہم ہوا ہے، بلکہ قاتلینِ عثمان کو وارثینِ عثمان کے حوالے کر دینے میں تنازع ہوا تھا تاکہ وہ ان سے قصاص لے سکیں۔
حضرت مجدد الف ثانیؒ (متوفی 1034 ہجری) حضرت امام غزالیؒ (متوفی 505 ہجری) کا قول نقل کرتے ہیں: آن منازعت بر امرِ خلافت نبودہ، بلکہ استیفاءِ قصاص در بدءِ خلافتِ حضرتِ امیر بودہ
(مکتوباتِ امام ربانی: مکتوب نمبر251)
حضرت علی المرتضیٰؓ اور حضرت امیرِ معاویہؓ کے مابین تنازع امرِ خلافت میں نہیں تھا، بلکہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافت کے ابتدائی دور میں (حضرت عثمانِ غنیؓ کے) قصاص طلبی کا جھگڑا تھا۔ خود سیدنا امیرِ معاویہؓ کا ارشاد ہے:
مَا قَاتَلْتُ عَلِيًّا إِلَّا فِی أَمْرِ عُثْمَانَ
(المصنف لابنِ ابی شیبہ: جلد11 صفحہ92 کتاب الامراء)
ترجمہ: میرا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے قتال صرف (قصاصِ دمِ) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملے میں ہے۔
نیز: وَأَمَّا الْخِلَافَةُ فَلَسْنَا نَطْلُبُهَا
(وقعۃ الصفین: صفحہ 70 تحت کتاب معاویۃ و عمر والی الی اھل المدینۃ)
ترجمہ: ہم اس مقام میں خلافت کے طلب گار نہیں ہیں۔
حضرت ابو الدرداء و حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہما فریقین میں رفعِ نزاع کی کوش کر رہے تھے تو سیدنا امیرِ معاویہؓ نے ان سے کہا: سیدنا علی المرتضیٰؓ کو میری طرف سے جا کر بتلا دو:
فَقُولَا لَهُ فَلْيُقِدْنَا مِنْ قَتَلَةِ عُثْمَانَ ثُمَّ أَنَا أَوَّلُ مِمَّنْ بَايَعَهُ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ
(البدایہ والنہایہ: جلد7 صفحہ 260 تحت سنہ 37ھ)
ترجمہ: آپ کہیں کہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کو سزا دیں، پھر پہلا میں ہوں جو اہلِ شام میں سے ان کی بیعت کرے گا۔
سیدنا علی المرتضیٰؓ خود بھی سیدنا امیرِ معاویہؓ کے اس دعویٰ کو تسلیم کرتے ہوئے اپنا نامہِ عنبہ شمامہ میں فرماتے ہیں:
وَالظَّاهِرُ أَنَّ رَبَّنَا وَاحِدٌ، وَنَبِيَّنَا وَاحِدٌ، وَ دَعْوَتُنَا فِی الْإِسْلَامِ وَاحِدَةٌ، لَا نَسْتَزِيدُهُمْ فِی الْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَالتَّصْدِيقِ بِرَسُولِهِ وَلَا يَسْتَزِيدُونَنَا، إِلَّا أَمْرٌ وَاحِدٌ اخْتَلَفْنَا فِيهِ مِنْ دَمِ عُثْمَانَ، وَ نَحْنُ مِنْهُ بَرَاءٌ
(نہج البلاغہ: صفحہ 182 مکتوب نمبر، 58)
ترجمہ: (صفین میں ہمارے اور اہلِ شام کے درمیان جو جنگ ہوئی، اس سے کوئی غلط فہمی نہ ہو) ظاہر ہے کہ ہمارا رب ایک ہے، ہمارے نبیﷺ ایک ہیں، اور ہماری دعوتِ اسلام ایک ہے جہاں تک اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کے رسولﷺ کی تصدیق کا تعلق ہے، نہ ہم ان سے اس کے بارے میں کوئی مزید مطالبہ کرتے ہیں، نہ وہ ہم سے ہمارا سب کچھ ایک تھا سوائے اس کے کہ حضرت عثمانِ غنیؓ کے خون کے معاملے میں ہمارا اختلاف ہوا اور ہم اس سے بری ہیں۔
سیدنا علی المرتضیٰؓ نے ایک شخص کو اہلِ شام کے بارے میں نازیبا کلمات کہتے ہوئے سنا تو فرمایا:
لَا تَقُولُوا إِلَّا خَيْرًا، إِنَّمَا هُمْ إِخْوَانُنَا بَغَوْا عَلَيْنَا وَ بَغَيْنَا عَلَيْهِمْ فَقَاتَلْنَاهُمْ
(منہاج السنہ: جلد3 صفحہ 61 فصل ولما قال السلف ان اللہ امر بالاستغفار لاصحاب محمدﷺ الخ)
ترجمہ: یوں مت کہو اور ان کے متعلق کلمہِ خیر ہی کہو ان لوگوں نے یہ گمان کیا ہے کہ ہم نے ان پر زیادتی کی ہے اور ہم نے یہ گمان کیا ہے کہ انہوں نے ہم پر زیادتی کی ہے، سو اس پر قتال واقع ہوا۔
شیعہ محدث ابو العباس عبداللہ بن جعفر حمیری قمی لکھتے ہیں کہ سیدنا جعفر صادقؒ اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ اپنے ساتھ لڑنے والوں کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے ان کی تکفیر کی بناء پر ان سے لڑائی نہیں کی، اور نہ ہی انہوں نے ہماری تکفیر کی بناء پر ہم سے لڑائی۔ وَلَكِنَّا رَأَيْنَا أَنَّا عَلَى حَقٍّ وَرَأَوْا أَنَّهُمْ عَلَى حَقٍّ(قرب الاسناد: صفحہ45)
ترجمہ: اور لیکن ہم نے اپنے آپ کو حق پر سمجھا اور انہوں نے خود کو حق پر سمجھا۔
ایک مرتبہ سیدنا علی المرتضیٰؓ سے کسی نے مقتولینِ صفین کے متعلق دریافت کیا تو فرمایا:
لَا يَمُوتَنَّ أَحَدٌ مِنْ هَؤُلَاءِ وَقَلْبُهُ نَقِی إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ
(مقدمہ ابنِ خلدون: صفحہ215 فصل نمبر 30 تحت فی ولایۃ العہد)
ترجمہ: ان میں سے جو بھی صفائی قلب کے ساتھ مرا ہو گا وہ داخلِ جنت ہو گا۔ اور:
قَالَ عَلِی قَتْلَای وَقَتْلَى مُعَاوِيَةَ فِی الْجَنَّةِ۔ رواہ الطبرانی والرجالہ وثقوا
(مجمع الزوائد: جلد9 صفحہ 594 باب ما جاء فی معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما)
ترجمہ: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہمارے اور سیدنا امیرِ معاویہؓ دونوں کے مقتولین جنتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اختتامِ جنگ پر سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے مقتولین کی تجہیز و تکفین کی اور خود ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی شاید تاریخِ عالم میں ایسی جنگ نہ ہوئی ہو کہ دن میں جن حضرات کے درمیان جنگ ہوتی، رات کو وہی فریق ایک دوسرے کے مقتولین کی تجہیز و تدفین میں حصہ لیتا۔
(حضرت امیرِ معاویہؓ اور تاریخی حقائق: صفحہ، 243، 244 تحت جنگِ صفین کے فریقین کی صحیح حیثیت)
مولانا حالی مرحوم (متوفی 1935 ہجری) نے بالکل صحیح کہا ہے:
اگر اختلاف ان میں باہم دگر تھا
تو بالکل مدار اس کا اخلاص پر تھا
جھگڑے تھے لیکن نہ جھگڑوں میں شر تھا
خلاف آشتی سے خوش آئند تر تھا
(صحیح البخاری: جلد، 2 صفحہ، 1054 کتاب الفتن)
4: یہاں تک تو گفتگو تھی ہر دو فریق کے اخلاص پر، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ اختلاف حضورِ اکرمﷺ کی نگاہ میں کیا حیثیت رکھتا ہے حضورِ اکرمﷺ نے اپنی متعدد احادیث میں اس جنگ کی طرف اشارے دیے ہیں اور ان سے صاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ اس جنگ کو اجتہاد پر مبنی قرار دے رہے ہیں۔ صحیح مسلم اور مسند احمد میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ (متوفی 74 ہجری) سے متعدد صحیح سندوں کے ساتھ آنحضرتﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ:
تَمْرُقُ مَارِقَةٌ عِنْدَ فُرْقَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ تَقْتُلُهُمْ أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ
(البدایہ والنہایہ: جلد، 7 صفحہ، 278)
ترجمہ: مسلمانوں کے باہمی اختلافات کے وقت ایک گروہ (امت سے) نکل جائے گا اور اس کو وہ گروہ قتل کرے گا جو مسلمانوں کے دونوں گروہوں میں حق سے زیادہ قریب ہو گا۔
شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی صاحب عثمانی دامت برکاتہم فرماتے ہیں: اس حدیث میں امت سے نکل جانے والے فرقے سے مراد باتفاق خوارج ہیں انہیں سیدنا علی المرتضیٰؓ کی جماعت نے قتل کیا، جن کو سرکارِ دو عالمﷺ نے اولی الطائفتین بالحق (دو گروہوں میں حق سے زیادہ قریب) فرمایا ہے آنحضرتﷺ کے ان الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کا اختلاف کھلا حق و باطل کا اختلاف نہیں ہو گا، بلکہ اجتہاد و رائے کی دونوں جانب گنجائش ہو سکتی ہے البتہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کی جماعت حق سے نسبتاً زیادہ قریب ہو گی اگر آپﷺ کی مراد یہ نہ ہوتی تو سیدنا علی المرتضیٰؓ کی جماعت کو حق سے زیادہ قریب کی بجائے محض برحق جماعت کہا جاتا۔
(حضرت معاویہؓ اور تاریخی حقائق: صفحہ، 243، 244 تحت جنگِ صفین کے فریقین کی صحیح حیثیت)
اس طرح صحیح بخاری، صحیح مسلم اور حدیث کی متعدد کتابوں میں نہایت مضبوط سند کے ساتھ یہ حدیث آئی ہے کہ آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا:
لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ تَكُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ دَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ
(صحیح البخاری: جلد، 2 صفحہ، 1054 کتاب الفتن، صحیح مسلم: جلد، 2 صفحہ، 390 کتاب الفتن و اشراط الساعۃ)
ترجمہ: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ مسلمانوں کی دو عظیم جماعتیں آپس میں قتال نہ کریں ان کے درمیان زبردست خون ریزی ہو گی، حالانکہ دونوں کی دعوت ایک ہو گی۔
اس کے علاوہ حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم ہی فرماتے ہیں:
علماء نے فرمایا ہے کہ اس حدیث میں دو عظیم جماعتوں سے مراد سیدنا علی المرتضیٰؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کی جماعتیں ہیں۔ (شرح مسلم للنودی: جلد، 2 صفحہ، 390) اور آنحضرتﷺ نے ان دونوں کی دعوت ایک قرار دیا ہے، جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے بھی پیشِ نظر طلبِ اقتدار نہیں تھا، بلکہ دونوں (جماعتیں) اسلام ہی کی دعوت کو لے کر کھڑی ہوئی تھیں اور اپنی رائے کے مطابق دین ہی کی بھلائی چاہتی تھیں۔
یہی وجہ ہے کہ جنگِ صفین کے موقع پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک جماعت پر یہ واضح نہ ہو سکا کہ حق کس جانب ہے، اس لیے وہ مکمل طور پر غیر جانبدار رہے بلکہ امام محمد بن سیرینؒ (متوفی 110 ہجری) کا تو کہنا یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اکثریت اس جنگ میں شریک نہیں تھی۔
(منہاج السنہ: جلد، 3 صفحہ، 186)
سوال یہ ہے کہ اگر سیدنا امیرِ معاویہؓ کا مؤقف صراحتاً باطل تھا اور معاذ اللہ فسق تھا، تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اتنی بڑی تعداد نے کھل کر سیدنا علی المرتضیٰؓ کا ساتھ کیوں نہ دیا؟ اگر وہ صراحتاً برسرِ بغاوت تھے تو قرآنِ کریم کا یہ کھلا ہوا حکم تھا کہ ان سے قتال کیا جائے، پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اکثریت نے اس قرآنی حکم کو کیوں پسِ پشت ڈال دیا؟
حافظ ابنِ کثیرؒ نے بھی مذکورہ دو حدیثیں اپنی تاریخ میں نقل کر کے لکھا ہے:
وَفِيهِ أَنَّ أَصْحَابَ عَلِی أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ إِلَى الْحَقِّ، وَهَذَا هُوَ مَذْهَبُ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِی اللَّهُ عَنْهُ هُوَ الْمُصِيبُ، وَإِنْ كَانَ مُعَاوِيَةُ مُجْتَهِدًا وَهُوَ مَأْجُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ
(البدایہ والنہایہ: جلد، 2 صفحہ، 279)
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے اصحاب دونوں جماعتوں میں حق سے زیادہ قریب تھے، اور یہی اہلِ سنت والجماعت کا مسلک ہے۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ برحق تھے، اگرچہ حضرت امیرِ معاویہؓ مجتہد تھے اور ان شاءاللہ اس اجتہاد پر انہیں بھی اجر ملے گا۔
اس کے بعد امام نوویؒ کا حوالہ پیش کر کے حضرت مفتی صاحب مدظلہم لکھتے ہیں: یہ ہے اہلِ سنت کا صحیح مؤقف جو قرآن و سنت کے مضبوط دلائل، صحیح روایات اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مجموعی سیرتوں پر مبنی ہے اب اگر ان تمام روشن دلائل، قوی احادیث اور ائمہِ اہلِ سنت کے علی الرغم کسی کا دل ہشام کلبی اور ابو مخنف جیسے لوگوں کے بیان کیے ہوئے افسانوں پر فریفتہ ہے اور ان کی بناء پر سیدنا امیرِ معاویہؓ کو موردِ الزام ٹھہرانے اور گناہ گار ثابت کرنے پر ہی مصر ہے، تو اس کے لیے ہدایت کی دعا کے سوا اور کیا جا سکتا ہے؟ جس شخص کو سورج کی روشنی کی بجائے اندھیرا ہی اچھا لگتا ہو، اس ذوق کا علاج کس کے پاس ہے؟ لیکن ایسا کرنے والے کو خوب اچھی طرح سوچ لینا چاہیے کہ پھر معاملہ صرف سیدنا امیرِ معاویہؓ ہی کا نہیں، ان کے ساتھ سیدہ عائشہؓ، سیدنا طلحہؓ، سیدنا زبیرؓ، سیدنا عمرو بن العاصؓ، اور سیدنا عبادہ بن الصامتؓ پر بھی معاذ اللہ فسق کا الزام لگانا ہو گا اور پھر اجلہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی وہ عظیم الشان جماعت بھی اس ناوکِ تسفیق سے نہیں بچ سکتی، جنہوں نے نعوذ باللہ ان حضرات کو کھلے ہوئے فسق کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھا، امتِ اسلامیہ کے ساتھ اس صریح دھاندلی کا آنکھوں سے نظارہ کیا اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کو جو اس دھاندلی کے خلاف جہاد کر رہے تھے، بے یار و مددگار چھوڑ کر گوشۂِ عافیت کو اختیار کر لیا لہٰذا عشرہ مبشرہ میں سے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ اور باقی اجلہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سیدنا ابو سعید خدری، سیدنا عبداللہ بن سلام، سیدنا قدامہ بن مظعون، سیدنا کعب بن مالک، سیدنا نعمان بن بشیر، سیدنا اسامہ بن زید، سیدنا حسان بن ثابت، سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا ابو الدرداء، سیدنا ابو امامہ باہلی، سیدنا مسلمہ بن مخلد، اور سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہم جیسے حضرات کے لیے بھی یہ ماننا پڑے گا کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑ کر باطل کے ہاتھ مضبوط کیے اور امامِ برحق کی اطاعت چھوڑ کر فسق کا ارتکاب کیا۔
اگر کوئی شخص یہ تمام باتیں تسلیم کرنے کو تیار ہے تو سیدنا امیرِ معاویہؓ کو بھی فاسق قرار دے، لیکن پھر اس سے پردے میں رکھ کر بات کرنے کی بجائے کھل کر ان تمام باتوں کا اقرار کرنا چاہیے اور واضح الفاظ میں اعلان کر دینا چاہیے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں تعظیم و تقدیس کے عقائد، ان کی افضلیت کے دعوے، ان کے حق میں خیر القرون کے خطابات سب ڈھونگ ہیں، ورنہ عملاً ان میں اور آج کی دنیا پرست سیاستدانوں میں شمہ برابر کوئی فرق نہیں تھا۔
(ایضاً صفحہ، 244، 249 تحت جنگِ صفین کے فریقین کی حثیت)
ان گزارشات کے بعد اگر مصنفِ نام و نسب کے تحریر کردہ اقتباس کی تنقیح کی جائے تو مصنف کا دعویٰ درجِ ذیل نکات میں پیش کیا جا سکتا ہے:
1: سیدنا امیرِ معاویہؓ نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کے خلاف جو رویہ اختیار کیا وہ کسی بھی لحاظ سے پسندیدہ نہ تھا۔
2: کسی شرعی مسئلے میں حتیٰ الوسع جدوجہد کے بعد اجتہادی غلطی کا معاملہ کچھ اور ہے، مگر دنیوی اور ملکی امور میں ایسی اجتہادی خطا کو جو موجبِ فتنہ بنے باعثِ اجر و ثواب قرار دینا قرینِ دانش مندی و انصاف نہیں۔
3: ہم ان کے اس طرزِ عمل کو اجتہادی کارنامہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔