خطائے منکر کے ارتکاب کا الزام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

خطائے منکر کے ارتکاب کا الزام

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 1 از 3

*خطائے منکر کے ارتکاب کا الزام:*  

مصنفِ نام و نسب کو خطاء کی حقیقت کے عنوان کے تحت ارقام فرماتے ہیں: 

اس میں شک نہیں کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ خلیفہِ برحق تھے اور اس پر اجماعِ امت ہے حضرت امیرِ معاویہؓ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے خلاف جو رویہ اختیار کیا وہ کسی بھی لحاظ سے پسندیدہ نہ تھا اس کے رویے کو محض خطاءِ اجتہادی قرار دے کر موجبِ اجر و ثواب سمجھنا محلِ نظر ہے کسی شرعی مسئلے میں حتیٰ الوسع جدوجہد کے بعد اجتہادی غلطی کا معاملہ کچھ اور ہے، مگر دنیوی اور ملکی امور میں ایسی اجتہادی خطا کو جو موجبِ فتنہ بنے باعثِ اجر و ثواب قرار دینا قرینِ دانش مندی و انصاف نہیں ہے ہمیں درجہ صحابیت کا لحاظ ہے اور ہم حضرت امیرِ معاویہؓ کے بارے میں کوئی عناد نہیں رکھتے، مگر اتنی بات ضرور ہے کہ ہم ان کے طرزِ عمل کو اجتہادی کارنامہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔  

(نام و نسب: صفحہ532، 533)

الجواب:چند نکات کی طرف توجہ فرمائیں:  

1: جہاں تک حضرت علی المرتضیٰؓ کے خلیفہ برحق ہونے کا تعلق ہے، تو اس سے آج تک کسی سنی مسلمان نے انکار نہیں کیا سیدنا علی المرتضیٰؓ خلیفہ راشد تھے اور اپنے زمانے میں أحق بالخلافۃ بھی۔

حافظ ابنِ تیمیہؒ (متوفی 728 ہجری) فرماتے ہیں:  

وَعَلِی أَحَقُّ النَّاسِ بِالْخِلَافَةِ فِی زَمَنِهِ بِلَا رَيْبٍ عِنْدَ أَحَدٍ مِنَ الْعُلَمَاءِ، مَنْ لَمْ يُرَبِّعْ بِعَلِی فِی الْخِلَافَةِ فَهُوَ أَضَلُّ مِنْ حِمَارِ أَهْلِهِ۔  

(منہاج السنہ: جلد4 صفحہ208 قال الرافضی الثانی عشر الفضائل اما نفسانیۃ او بدنیۃ او خارجیۃ الخ)

ترجمہ: حضرت علی المرتضیٰؓ اپنے زمانے میں سب سے زیادہ مستحقِ خلافت تھے یہ ایسی حقیقت ہے جس کے تسلیم کرنے میں کسی ایک عالم کو بھی شک نہیں ہے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہِ رابع نہ مانے وہ اپنے گھر کے گدھے سے زیادہ گم کردہ راہ ہے۔  

2: جہاں تک افضلیتِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بات ہے، تو بہ اعتبارِ مراتب سیدنا علی و سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہما کا کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ السابقون الاولون کے ائمہ میں سے ہیں، اور سیدنا امیرِ معاویہؓ مسلمۃ الفتح کے لوگوں میں سے وہ حضرات خلفاءِ راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سب سے افضل ہیں، جبکہ حضرت امیرِ معاویہؓ آپ کے بعد بہت ایمان والوں میں سے ہیں اور سیدنا امیرِ معاویہؓ فرماتے ہیں: 

اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ آپؓ تمام لوگوں سے زیادہ مستحقِ خلافت ہیں، مجھ سے زیادہ حق دار ہیں آپؓ مہاجرینِ اولین میں سے ہیں، آپؓ جیسی سبقتِ اسلام اور رسول اللہﷺ کی قرابت حاصل نہیں ہے۔ (سلیم بن قیس: صفحہ161)  

 اسی طرح حضرت امیرِ معاویہؓ کا ارشاد ہے:  

وَاللَّهِ إِنِّی لَأَعْلَمُ أَنَّ عَلِيًّا أَفْضَلُ مِنِّی وَأَحَقُّ بِالْأَمْرِ

(البدایہ والنہایہ: جلد 8 صفحہ169، سنہ 60 ہجری تحت ترجمہ معاویہؓ)

ترجمہ: اللہ کی قسم! میں خود کو سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے برابر نہیں سمجھتا، بلکہ بہت اچھی طرح جانتا ہوں کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ مجھ سے افضل ہیں اور امرِ خلافت کے مجھ سے زیادہ حق دار ہیں۔ 

حضرت امیرِ معاویہؓ کے ان بیانات سے واضح ہو گیا کہ وہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اپنے آپ سے افضل اور احق بالخلافہ سمجھتے تھے یہ ناکارہ اس مقام پر یہ بات کہنا ضروری سمجھتا ہے کہ جس طرح مراتبِ فضائل میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کو سیدنا علی المرتضیٰؓ سے کوئی نسبت نہیں، اس طرح بعد والوں کو سیدنا امیرِ معاویہؓ سے کوئی نسبت نہیں اگر وہاں زمین و آسمان کا فاصلہ ہے تو یہاں بھی فرق عرش سے تحت الثریٰ تک کا ہے۔

3: سیدنا علیؓ و سیدنا امیرِ معاویہؓ کے درمیان جو جنگ ہوئی ہے، جیسا کہ شروع میں حافظ ابنِ تیمیہؒ (متوفی 728 ہجری) اور مجدد الف ثانیؒ (متوفی 1034 ہجری) کے حوالے سے عرض کر چکا ہوں، کہ اس کی بنیاد حصولِ خلافت یا طلبِ اقتدار پر نہ تھی، بلکہ ہر دو فریق ایک دوسرے سے دین کے تحفظ اور سربلندی کے لیے برسرِ پیکار تھا۔ حضرت علامہ شعرانیؒ (متوفی 976 ہجری) اور علامہ کمال الدین المقدسی الشافعیؒ (متوفی 905 ہجری) منازعت کا سبب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:  

وَلَيْسَ الْمُرَادُ بِمَا شَجَرَ بَيْنَ عَلِی وَ مُعَاوِيَةَ الْمُنَازَعَةَ فِی الْإِمَارَةِ كَمَا تَوَهَّمَهُ بَعْضُهُمْ، وَإِنَّمَا الْمُنَازَعَةُ كَانَتْ بِسَبَبِ تَسْلِيمِ قَتَلَةِ عُثْمَانَ إِلَى عَشِيرَتِهِ لِيَقْتَصُّوا مِنْهُمْ

(الیواقیت والجواہر: جلد2 صفحہ77 المبحث الرابع والاربعون فی بیان وجوب الکف عما شجر بین الصحابۃ الخ، المسامرۃ: جلد2 صفحہ158، 159 تحت الاصل الثامن فی فضل الصحابۃ)   

ترجمہ: حضرت علی المرتضیٰ و امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین تنازع امارت و حکومت کے حصول میں نہیں تھا، جیسا کہ بعض کم عقلوں کو وہم ہوا ہے، بلکہ قاتلینِ عثمان کو وارثینِ عثمان کے حوالے کر دینے میں تنازع ہوا تھا تاکہ وہ ان سے قصاص لے سکیں۔  

حضرت مجدد الف ثانیؒ (متوفی 1034 ہجری) حضرت امام غزالیؒ (متوفی 505 ہجری) کا قول نقل کرتے ہیں: آن منازعت بر امرِ خلافت نبودہ، بلکہ استیفاءِ قصاص در بدءِ خلافتِ حضرتِ امیر بودہ

(مکتوباتِ امام ربانی: مکتوب نمبر251)  

حضرت علی المرتضیٰؓ اور حضرت امیرِ معاویہؓ کے مابین تنازع امرِ خلافت میں نہیں تھا، بلکہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافت کے ابتدائی دور میں (حضرت عثمانِ غنیؓ کے) قصاص طلبی کا جھگڑا تھا۔ خود سیدنا امیرِ معاویہؓ کا ارشاد ہے:  

مَا قَاتَلْتُ عَلِيًّا إِلَّا فِی أَمْرِ عُثْمَانَ

(المصنف لابنِ ابی شیبہ: جلد11 صفحہ92 کتاب الامراء) 

ترجمہ: میرا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے قتال صرف (قصاصِ دمِ) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملے میں ہے۔  

نیز: وَأَمَّا الْخِلَافَةُ فَلَسْنَا نَطْلُبُهَا 

(وقعۃ الصفین: صفحہ 70 تحت کتاب معاویۃ و عمر والی الی اھل المدینۃ)  

ترجمہ: ہم اس مقام میں خلافت کے طلب گار نہیں ہیں۔

صفحہ 1 از 3