Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

گورنروں کی تنخواہیں

  علی محمد الصلابی

گورنروں کے حقوق میں سے ان کی تنخواہیں ہیں جو ان کی معیشت کا مصدر ہوتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں خلفائے راشدینؓ کے درمیان عمال و امراء اور گورنروں کی تنخواہوں کا اصول متفق علیہ رہا، اگرچہ روایات میں صرف بعض کی تنخواہوں کا ذکر آتا ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ خلفائے راشدین کے دور میں تمام عمال اور گورنروں کی تنخواہیں مقرر ہوتی تھیں۔ اکثر روایات جو اس موضوع سے متعلق وارد ہیں ان میں خاص کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور کا تذکرہ ملتا ہے، چنانچہ ان میں بعض گورنروں کی تنخواہ کی مقدار مذکور ہے۔ حضرت عثمان و علی رضی اللہ عنہما عمال اور گورنروں کی تنخواہوں سے متعلق سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے نقش قدم پر قائم رہے، لیکن حضرت عثمان غنیؓ کے دور میں بظاہر لوگوں کے وظائف و عطیات میں کافی توسع رہا عمال و گورنر بھی ان میں شامل تھے، کیوں کہ حضرت عثمان غنیؓ کے دور خلافت میں فتوحات میں وسعت کی وجہ سے بیت المال کی آمدنی میں کافی اضافہ ہوا، آپؓ کے گورنروں نے مشرقِ آرمینیہ اور افریقہ وغیرہ میں کافی فتوحات کیں۔ حضرت عثمان غنیؓ گورنروں کو ان کی خصوصی اور نمایاں خدمات کا صلہ اور معاوضہ عطا کرتے تھے، چنانچہ حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کو شمالی افریقہ کی فتح کے صلہ میں مال غنیمت کے خمس کا پانچواں حصہ عطا کیا اور ان کو اس اہم مہم پر روانہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے تمھیں افریقہ پر فتح عطا فرمائی تو مسلمانوں کو اس سے جو مال غنیمت حاصل ہو گا تو اس کے خمس کا پانچواں حصہ تمھیں عطا کروں گا۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 252)

بہر حال عمال و گورنروں کو تنخواہیں اور وظائف دینا اور انہیں لوگوں سے بے نیاز کرنا ایک اسلامی اصول و مبدا تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض کیا تھا۔ آپﷺ کے بعد آپ کے خلفائے راشدینؓ اس پر عمل پیرا رہے یہاں تک کہ لوگوں کے اموال سے اپنے عمال و گورنروں کو بے نیاز کر دیا، اور حکومت کے مصالح اور ان کی ڈیوٹی کی کما حقہ ادائیگی کے لیے ان کو فارغ کر دیا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 64)