اہل سنت سے عداوت
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہایک اور بات بھی ازبس عجیب ہے جو بزمہ لبیت افترا کیا گیا ہے کہ ان کا فتویٰ ہے کہ اہل سنت کا قول کیسا ہی کتاب اللہ اور سنت الرسول کے مطابق کیوں نہ ہو اس کی مخالفت ہی کرنا چاہیے جیسا کہ اصول کافی صفحہ 39 میں ہے:
قلت فان كان الخبران عنكم المشهور ان قدر ما هما الثقات عنكم قال ينظر فما وافق حكمه الكتاب والسنة وخالف العامة فيوخذ به فيترك ما خلف حكمه حكم الكتاب والسنة قال جعلت فداك ارايت ان كان الخبران عرف حكمهما من الكتاب والسنة ووجدنا الخبرين اهداهما موافقا للعامة والاخر مخالفا باي الخبرين يوخنا قال ما خالف العامة ففيه الرشاد فقلت جعلت فداك فان وافقهما الخبران جميعا قال ينظر الى ما هم اميل حکامهم وقضاتهم فيترك ويؤخذ بالاخر۔
راوی نے امام جعفر سے کہا کہ اگر دو حدیثیں آپ سے مشہور ہیں اور ان کے راوی کے بھی ثقہ اشخاص ہیں تو کس کو لیا جائے؟کہا جس کا حکم کتاب اللہ اور سنت رسول کے مطابق ہو اور (عامہ) اہل سنت کے مخالف ہو اس کو لیا جائے اور جو کتاب و سنت کے مخالف ہو اس کو چھوڑ دیا جائے راوی نے کہا اگر دونوں حدیثیں سے کتاب و سنت سے ماخوذ ہوں اور ایک اہل سنت کے مطابق اور دوسری ان کے مخالف ہے ہم کس کو لیں؟ کہا جو اہل سنت کے مخالف ہو اس کو لینا بھلائی ہے میں نے کہا اگر دونوں حدیثیں اہل سنت کے قول کے مطابق ہوں کہا پھر یہ دیکھا جائے گا کہ ان میں سے جس کی طرف ان کے حکام اور قاضیوں کا میلان ہے اس کو چھوڑ دیا جائے اور دوسری پر عمل کیا جائے۔
جائے غور ہے کہ اہل بیت کو اہل سنت سے اس قدر دشمنی تھی کہ اگر ان کا قول مطابق کتاب اللہ اور سنت رسول بھی ہو اور اسی کے مطابق ائمہ کی بھی حدیث ہو تو پھر بھی حتی الامکان ان کی مخالفت ہی کرنی چاہیے "حاشا وکلا" پاک لوگوں کی کسی سے دشمنی نہیں ہوتی جہاں حق مل گیا سر جھکا دیا.انظر الى ما قال ولا الى من قال. ایک مسلم مقولہ ہے یہ سب کچھ سبائی کمیٹی کے ممبران کی گھڑت ہے کہ اسلام میں تفرقہ کی بنا ڈالنے کے لیے ایسے اس سے خرافات لکھ دیے گئے۔
نے فروت محکم امد نے اصول
شرم باید از خدا و از رسولﷺ
اب ہم شیعہ کے بعض مسائل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں من جملہ ان کے تعزیہ داری ماتم سینہ کوبی اور مرثیہ خوانی کا مسئلہ ہے جس کو شیعہ نے باعث نجات سمجھ رکھا ہے۔