حائری کا خیال
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہیہ تو متقدمین شیعہ کا وقتِ ظہور امام کی نسبت خیال ہے، حال کے شیعہ کے مقتداء و پیشوا علامہ حائری کا اس بیان میں خیال نہایت ہی حیرت انگیز ہے، چنانچہ غایۃ المقصود مصنفہ علامہ حائری مطبوعہ اسلامیہ گیس پرنٹنگ لاہور 1321ھ، صفحہ 212 میں ہے۔
اما وجه عدم ظهور امام مہدی علیہ السلام دریں زمان آنست کہ آنحضرتﷺ ہم مثل آباء طاہرین علم النساب میداند۔ ازاں معلوم است آنحضرتﷺ را کہ ہنوز لکھا کفار چنیں موجود اند کہ در پشت آنہا نطفہائے مومنین است امانت ودیعت موجود اند اگر ظاہر شده اینہا کفار اقتل نکند بلکہ سکوت اختیار نماید۔ دریں صورت تخلف وعده مذکور خدا ثابت می شود۔
"امام مہدی علیہ السلام کے نہ ظاہر ہونے کی صورت میں اس وقت یہ وجہ ہے کہ آپ اپنے آباء کرام کی طرح علم انساب سے واقف ہیں اور ان کو خوب معلوم ہے کہ ابھی لکھو کھہا کفار ایسے موجود ہیں جن کی پشت میں مؤمنین کے نطفے امانت ہیں۔ اگر ظاہر ہو کر آپ ان کفار کو قتل نہ کریں بلکہ خاموشی اختیار کریں تو خدائی وعدہ میں تخلف ہوتا ہے۔"
اس سے معلوم ہوا کہ امام مہدی اس وقت تک تشریف نہیں لا سکتے جب تک دنیا میں مخلوقِ خدا باقی ہے، کیونکہ مخلوق میں مومن و کافر دونوں موجود رہتے ہیں اور شیعہ کے نزدیک تو مومن صرف شیعہ ہیں، باقی سنی مسلمان بھی گردن زدنی ہیں۔ اس لیے امام کا ظہور ناممکن ہے۔ اس سے آگے علامہ حائری صاحب اسی صفحہ پر یوں رقم طراز ہیں۔
دیگر آنکہ سلاطین جبار و قہار کہ آباء طاہرین دے را از علی گرفتہ تا امام حسن عسکری کے را بزہرو کسے را بہ تیغ کشند و حال آنکہ امامت آنہا خارج سلطنت آنہا نبود۔ لیکن ہرگا و یکے رامی کشند امام و حجت دیگر موجود بود کہ بجائے وے می نشست بخلاف زمانہ مہدی از آنجناب کہ بسیار پر حذر خواہند بود۔ زیر کہ ہمہ آنہا را یقین خواہد شد کہ زوالِ سلطنت جميع سلاطینِ دنیا از دست وے خواہد شد کے ممکن است کہ در وقت سطوت اختیار کردن آن جناب را زنده بگذا دند لطف آنکہ بعد از آنحضرت امام و حجت دیگرے نیست کہ بجائے دے قرار گیرد و آں مخالف حدیث وَلَا يَخْلُوْ الأَرْضُ مِنْ حُجَّةِ اللهِ امّا ظَاهِرٌ وَ مَكْشُوْفٌ او خَائِفٌ أَوْ مَسْتُوُرٌ می باشد این برہان واجب شد کہ آں جناب از انتظار مخفی باشد۔ باوجود آنحضرت ہر وقت منتظر این است کہ ظهور فرماید۔
ترجمہ: دوسری وجہ یہ ہے کہ گزشتہ سلاطین نے جو ان کے آباؤ اجداد کو حضرت علیؓ سے لے کر امام عسکری تک کسی کو زہر سے اور کسی کو تلوار سے شہید کیا، حالانکہ ان کی امامت ان سلاطین کی حکومت کی مانع نہ تھی لیکن جب ایک قتل کرتے دوسرا امام موجود ہوتا جو اس کا جانشین ہو جاتا۔ برخلاف اس کے امام مہدی کا زمانہ زیادہ خطرناک ہوگا، دنیا بھر کی حکومتوں کا ان کی آمد سے خاتمہ ہو جائے گا پھر کیسے ممکن ہے کہ امام کی خاموشی پر ان کو زندہ رہنے دیں۔ لطف یہ کہ آپ کے بعد کوئی دوسرا امام ایسا نہیں ہے جو ان کی جگہ سنبھالے، حالانکہ بروئے حدیث زمیں پر ایک امام کو ضرور رہنا چاہیے، خواہ وہ ظاہر ہو یا چھپا ہوا ہو اس لیے آنجناب کو نظروں سے غائب ہی رہنا چاہیے۔ گو آپ ہر وقت اس انتظار میں ہیں کہ ظہور فرمائیں۔
اس دوسری وجہ نے بالکل مطلع صاف کر دیا کہ چونکہ آپ کے بعد کسی امام نے ہونا نہیں اور آپ کے ظہور سے باقی سلطنتوں کا زوال متصور ہے اس لیے سلاطین دنیا ان کی جان لینے کے درپے ہو جائیں گے اور خاموش رہنے پر ان کو زندہ نہ چھوڑیں گے۔ اس لیے آپ کا نہ ظاہر ہونا اور محجوب رہنا ہی مناسب ہے تا کہ زمین امام سے خالی نہ رہے۔
اہلِ بصیرت غور کر سکتے ہیں کہ روئے زمین پر اگر امام کا وجود اس لیے ہے کہ باعثِ ہدایتِ خلق ہو تو یہ بات تب ہی ہو سکتی ہے کہ امام ظاہر ہو کر اشاعتِ دین کرے ورنہ ایسے چھپے رستم سے اسلام اور مسلمانوں کو کیا فائدہ؟ اگر امام دل و گردہ کے انسان ہیں کہ ان کو اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں منہ سے نقاب اُٹھائیں تو قتل نہ ہو جائیں تو ایسے حضرت دنیا میں ظاہر ہو کر کیا کچھ کریں گے۔ اس سے تو ان کا عدمِ ظہور ہی اچھا ہے کہ پردہ ڈھکا رہے۔
افسوس کہ حائری صاحب اپنے آپ کو علامہ کہلا کر ایسے بودے خیال کرنے لگے ہیں۔ بندہ خدا امام کے ساتھ ایک طاقت ہوتی ہے جو دنیا بھر کی طاقتوں سے بالاتر ہے اور اس قوت و نصرتِ الٰہی کے شامل حال ہونے سے دُنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ جب ہادی اسلامﷺ (فداہ ابی وامی) مبعوث ہوئے تو ان کے ساتھ کونسی فوج تھی۔ انہوں نے تنِ تنہا دنیا کے سامنے کلمہ توحید کا اعلان کیا سب لوگ آپ کے خون کے پیاسے تھے اور آپ کی جان کے دشمن تھے، لیکن اس خدائے قدوس نے آپ کی نصرت کی اور آپﷺ کا بال بیکا نہ ہو سکا، تمام دشمنانِ حق نیست و نابود ہو گئے۔ امام مہدی جو حضورﷺ کے مظہر اتم ہوں گے وہی طاقت لے کر دنیا میں ظہور فرمائیں گے، ان کے نور سے دنیا چمک اُٹھے گی، خلقِ خدا سب کی سب ان کے قدموں پر گر جائے گی اور لوگ اسلام کے حلقہ بگوش ہو جائیں گے۔ کیا علم انساب حضرت علی المرتضیؓ کو معلوم نہ تھا کہ جنگ چھیڑ دی اور جانبین سے ہزاروں مسلمان گھائل ہو گئے؟ کیا حضرت حسینؓ ہی علم انساب سے لا بلد تھے؟ کہ تلوار اُٹھائی اور طرفین سے سینکڑوں مسلمان موت کے گھاٹ اُتر گئے۔