فوج کے وظائف - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

فوج کے وظائف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فوج کے معاملات کا کافی اہتمام کیا، فوجی دیوان کو منظم کیا اور عطیات کی تقسیم میں نسب نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرابت اور اسلام میں سبقت کو معیار بنایا۔ 

(الأحکام السلطانیۃ: صفحہ 227، سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 119)

اس طرح وظائف و عطیات سے نوازے جانے والوں میں سب سے پہلے اہلِ بیت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یعنی قبیلہ بنو ہاشم کے لوگ تھے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ اسے حکومت سے حاصل کرتے اور اپنے گھرانے والوں پر تقسیم کرتے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواجِ مطہراتؓ حکومتی عطیات سے نوازی جاتیں، آل بیت النبیﷺ سے الگ ان میں سے ہر ایک کا مستقل حصہ ہوتا تھا۔ رہے ان دونوں کے علاوہ بقیہ مسلمان تو جہاد فی سبیل اللہ میں تقدیم و تاخیر کے اعتبار سے جس طرح جس کی شرکت تھی اس طرح انہیں کئی درجات میں تقسیم کر دیا گیا۔ 

چنانچہ سب سے پہلے شرکائے بدر کو درج کیا، پھر ان لوگوں کو جو بدر کے بعد حدیبیہ تک کی تمام جنگی مہمات میں شریک رہے، پھر ان لوگوں کو جو حدیبیہ کے بعد سے دور صدیقی میں جنگ ارتداد تک شریک رہے، اور پھر ان لوگوں کو جو بالترتیب قادسیہ اور یرموک میں شریک ہوئے، اسی طرح آپؓ نے مجاہدین کی بیویوں اور پیدائش کے وقت سے ان کے بچوں کے لیے وظیفہ مقرر کر دیا، نیز آپؓ نے عوام کے بچوں اور لاوارث اولادوں سے چشم پوشی نہیں کی، بلکہ ان کے لیے سالانہ وظیفہ مقرر کیا۔ وظیفہ کی سب سے کم مقدار سو 100 درہم تھی، جس میں سال بہ سال بلوغت کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اضافہ ہو جاتا تھا۔ 

(الطبقات: جلد 3 صفحہ 301) 

 اسی طرح آپؓ نے غلاموں کے لیے اپنی صواب دید پر ایک ہزار سے دو ہزار درہم تک وظیفہ مقرر کیا۔ 

(تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 153، 154)

مجاہدین کے لیے آپؓ کی طرف سے متعین کیے جانے والے مقررہ وظائف کی مقدار کے بارے میں بہت سی روایات وارد ہیں، اور ساری روایات معمولی اختلاف کے ساتھ تقریباً مقدار کے بیان میں متفق نظر آتی ہیں۔ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 200)

البتہ جن وظائف کی متعینہ مقدار کا قطعی ثبوت ہے ان کی تفصیل یہ ہے کہ جویریہ، صفیہ، اور میمونہ رضی اللہ عنہن کو چھوڑ کر نبیﷺ کی دیگر ازواجِ مطہراتؓ کا سالانہ وظیفہ دس ہزار 10،000 درہم تھا اور جویریہ، صفیہ و میمونہ کا اس سے کم تھا۔ کچھ دنوں بعد ان ازواج مطہراتؓ کا وظیفہ بارہ ہزار 12،000 سالانہ تک پہنچ گیا، مگر صفیہ اور جویریہ رضی اللہ عنہما کا سالانہ عطیہ چھ ہزار 6،000 درہم ہی رہا، لیکن جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عمرؓ سے وظائف میں تمام امہات المؤمنینؓ کے ساتھ یکساں برتاؤ کا مطالبہ کیا تو آپؓ نے ان کی موافقت کی اور سب کا وظیفہ یکساں کر دیا۔

مہاجرین اور انصار میں ہر ایک کا سالانہ وظیفہ چار ہزار 4،000 درہم تھا، البتہ عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے لیے آپ نے ساڑھے تین ہزار 3،500 درہم سالانہ وظیفہ مقرر کیا اور اس کی علت یہ بتائی کہ انہیں ان کے باپ ہجرت کرا کے لائے تھے، یعنی یہ ان مہاجرین کی طرح نہیں ہیں جنہوں نے خود ہجرت کی ہے۔

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 214)

 عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہجرت کے وقت بچے تھے۔ بعد میں آپ نے مہاجرین کا وظیفہ ایک ہزار اور بڑھا دیا۔ اس طرح ان کا سالانہ وظیفہ ساڑھے چار ہزار 4،500 ہو گیا۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 214)

 ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ وظیفہ ان مہاجرین و انصار کو ملتا تھا جنہوں نے غزوۂ بدر میں شرکت کی تھی 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 214)

 اور جو مہاجرین و انصار صلح حدیبیہ میں شریک ہوئے تھے ان کا سالانہ وظیفہ تین ہزار 3،000 درہم تھا۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 215 )

 اسی طرح ہر نو مولود کا سالانہ وظیفہ سو 100 درہم ہوا کرتا تھا، لیکن اس کا اعتبار شروع میں اس وقت سے ہوتا تھا جب کہ بچہ ماں کا دودھ پینا چھوڑ دے، لیکن جب یہ خوف پیدا ہو گیا کہ مائیں بچوں کا وظیفہ لینے کی خاطر وقت سے پہلے انہیں دودھ چھڑانے لگیں گی تو آپؓ نے ولادت کے بعد سے ہی نومولود کا وظیفہ جاری کر دیا۔ البتہ موالی جو معززین میں سے تھے، مثلاً ہرمزان وغیرہ تو ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کا سالانہ وظیفہ دو ہزار 2،000 درہم مقرر کیا، اس کے علاوہ بھی کئی وظائف مقرر کیے، واضح رہے کہ اس سالانہ وظیفہ کے ساتھ ساتھ آپؓ مختلف مواقع پر مختلف عطیات سے لوگوں کو نوازتے رہتے تھے۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 215)

مذکورہ افراد میں جن کے لیے جو وظیفہ مقرر ہوتا اس پر مزید ہر مہینے گندم کی شکل میں کچھ غلہ بھی بطور عطیہ دیتے تھے۔ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 202)

آپؓ نے اپنے عہد خلافت کے آخری ایام میں فرمایا: اگر ملکی خزانے میں زیادتی ہوئی تو ہر فرد کے لیے چار ہزار 4،000 درہم سالانہ وظیفہ مقرر کروں گا، ایک ہزار سفر کے لیے، ایک ہزار ہتھیار کے لیے، ایک ہزار بال بچوں کے لیے اور ایک ہزار گھوڑے و خچر یعنی سواری کے لیے۔ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 203۔ الطبقات الکبرٰی: جلد 3 صفحہ 298)

 آپؓ کا یہ نظریہ تھا کہ بیت المال میں ہر مسلمان کا پیدائش سے لے کر موت تک حق ہے اور آپؓ نے اپنے اس مؤقف کا یہ کہتے ہوئے اعلان کیا: قسم ہے اللہ کی جس کے علاوہ کوئی برحق معبود نہیں آپؓ نے تین بار یہی کہا نہیں ہے کوئی مسلمان مگر اس مال میں اس کا حق ہے، وہ اسے دیا جائے یا اس سے روک دیا جائے۔ اس مال کا کوئی شخص کسی سے زیادہ حق دار نہیں ہے مگر مملوک غلام وہ بھی اس میں تمہاری طرح ایک عام فرد ہے، اللہ کی کتاب کی رو سے ہم اپنے مرتبہ پر ہیں، اور اس مقام پر ہیں جہاں ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھا ہے۔ لہٰذا آدمی اور اسلام کے راستے میں اس کی آزمائشوں کی رعایت کی جائے گی، آدمی اور اسلام میں اس کی سبقت دیکھی جائے گی، آدمی اور اسلام میں اس کی مال داری اسی طرح آدمی اور اس کی ضرورت دیکھی جائے گی، اللہ کی قسم اگر میں زندہ رہا تو صنعاء کی پہاڑی کے چرواہے کو اس مال سے اس کا حق مل کر رہے گا اور وہ اپنی جگہ پر ہی رہے گا، اس سے پہلے کہ وہ کفن دے دیا جائے، یعنی وفات پا جائے۔ 

صفحہ 1 از 2