Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

چالیسواں مسئلہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ہر ایک مسلمان پر فرض ہے جس کی ادائیگی پر وہ خود مجبور ہے لیکن شیعہ کا عقیدہ ہے کہ بعض شیعہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کا فریضہ ادا کریں تو بعض نہ کرنے والوں کی تلافی ہو جاتی ہے گویا یہ سب امور فرضِ عین نہیں بلکہ فرضِ کفایہ ہیں اصولِ کافی: صفحہ، 585 میں ہے:

عَنْ أبی عَبْدِاللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ اِنَّ اللَّه عَزَّوجَل لَيَدْفَعُ بِمَنْ يُصَلِّىْ عَمَّنْ لَا يُصَلِّىْ مِنْ شِيْعَتَنَا وَلَوْ اَجْمَعُوْ اعَلىٰ تَرَكَ الصلٰوةِ لَهَلَكُوْا اَوْ اِنَّ اللّٰهَ لَيَدْفَعُ بِمَنْ يُزكّىِ مِن شِيْعَتَنَا عَمَّنْ لَا يُزكّىِ وَلَوْ اَجْمَعُوْ اعَلىٰ تَرَكَ الزكٰوةِ لَهَلَكُوْا اَو اَن اللّٰهَ لَيَدْفَعُ بِمَنْ يجح من شبيتغسَا عمن يجّح وَلَوْ اَجْمَعُوْا اعَلىٰ تَرَكَ الْحَجَّ لَهَلَكُوْا وَهُوَ قَوْلُ اللّٰهِ عَزَّوجَل وَلَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الْأَرْضُ وَلكِنَّ اللّٰهَ ذُوْفَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیۡنَ فَوَ اللّٰهِ مَا نَزَلَتْ اِلِّا فِيْكُمْ وَلَاغُنِىَ بِهَا غَيْرَكم۔

ترجمہ: سیدنا صادقؒ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہمارے سے نماز پڑھنے والے شیعوں کے طفیل بے نمازوں کو بچا لیتا ہے اور اگر ہمارے سارے شیعہ بے نماز ہو جائیں تو سب ہلاک ہو جائیں اس طرح زکوٰۃ دینے والے شیعوں اور حج کرنے والوں کے طفیل نہ زکوٰۃ دینے اور نہ حج کرنے والے شیعہ بچ جاتے ہیں ورنہ سب ہلاک ہو جائیں یہی مفہوم ہے کہ اس آیت کا اگر خدا بعض لوگوں کے طفیل بعض کی مدافعت نہ کرے تو زمین تباہ ہو جائے بخدا یہ آیت صرف تم شیعوں کے حق میں نازل ہوئی ہے اس سے غیر بالکل مراد نہیں ہیں۔ 

خوب! شیعہ صاحبان کے لیے بہت سے دیگر اعمال ایسے موجود ہیں جن کی بدولت بے تعداد فرشتے پیدا ہو جاتے ہیں جو قیامت تک نیک اعمال کے بجا لانے والوں کے لیے تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں اور سب نیکی ان نیک مردوں کے نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہیں جیسا کہ متعہ جیسا کار ثواب کرنے والے ہیں۔

(کَماَ مَرَّ) 

یہ بھی کتبِ شیعہ میں لکھا ہے کہ اگرچہ بنائے اسلام پانچ ہیں نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، ولایت سب سے فضیلت ولایت کو ہے جیسا کہ اصولِ کافی میں ہے نيز جناب امیر علیہ السلام کی ولایت کے قائل ہو جانے سے شیعہ صاحبان داخل جنت ہو سکتے ہیں بالخصوص جب سال بھر میں ایک دفعہ غمِ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ میں سینا کوبى کر لیں پھر نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ایسی صعوبات میں پڑنے کی انہیں کیا ضرورت ہے؟