جواب مناقشہ دوم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

جواب مناقشہ دوم

  محمد ظفر اقبال

رہی بات سیدنا امیرِ معاویہؓ اور حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے عہدِ حکومت میں فرق کی، تو اس کے لیے حضرت امام الاعمشؒ (جو حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہؒ کے استاد ہیں اور جو سیدنا امیرِ معاویہؓ کو ان کی بے پناہ خوبیوں کے باعث المصحف کے لقب سے یاد کرتے تھے۔

(العواصم من القواصم: صفحہ210) کا بیان ملاحظہ ہو:

ایک مرتبہ امام اعمش (سلیمان بن مہران) رحمۃ اللہ کی مجلس میں حضرت عمر بن عبد العزیز قدس سرہ اور ان کے عدل و انصاف کا تذکرہ ہوا تو آپ نے فرمایا:  

کَیفَ لَو أَدرَکتُم مُعَاوِیَۃَ؟ قَالُوا فِی حِلمِهِ؟ قَالَ لَا وَاللّٰه بَل فِی عَدلِهِ 

(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 185 فصل: والقاعدۃ الکلیۃ فی ہذا ان لا نعتقد الخ، المنتقیٰ: صفحہ 388 تحت ثناء الائمۃ علی معاویہ وحکمہ وسیرتہ، العواصم من القواصم: صفحہ، 205)  

ترجمہ: اگر تم سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا عہد پا لیتے تو تمہیں پتہ چل جاتا لوگوں نے کہا: ان کی حلم و بردباری کا؟ فرمایا: نہیں، (حلم و بردباری تو ان کے اندر آپﷺ کی دعا کی برکت سے بدرجہ کمال موجود تھی ہی ناقل) بلکہ ان کے عدل و انصاف کا۔

یعنی حلم و بردباری میں تو وہ فائق تھے ہی بقول سیدنا قبیصہ بن جابرؓ:  

مَا رَأَیتُ رَجُلًا أَثقَلَ حِلمًا، وَلَا أَبطَأَ جَهلًا، وَلَا أَبعَدَ أَنٰۃً مِنهُ

(تاریخِ اسلام للذہبی: جلد 3 صفحہ315 ترجمہ معاویہ بن ابی سفیانؓ، البدایہ والنہایہ: جلد 8 صفحہ135 ترجمہ معاویہ بن ابی سفیانؓ)  

ترجمہ: یعنی میں نے حضرت امیرِ معاویہؓ سے بڑھ کر حوصلہ مند، جہالت سے دور، باوقار و حلیم آدمی نہیں دیکھا۔

سو اگر حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کا عہدِ خلافت، خلافتِ راشدہ کے مشابہ ہے تو سیدنا امیرِ معاویہؓ کا بالاولیٰ ہے جس پر ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ، حضرت علامہ ابنِ خلدونؒ، حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ، جناب فیض اویسی اور احمد رضا خان صاحب کے حوالہ جات نقل کر چکا ہوں جہاں تک حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ کے طرزِ عمل کی بات ہے تو وہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف زبان درازی اور بدگوئی کرنے والے کوڑے لگواتے تھے۔  

(طبقات ابنِ سعد: جلد 5 صفحہ 299 تحت عمر بن عبد العزیز، البدایہ والنہایہ: جلد8 صفحہ139)

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ، حضرت مولانا اسماعیل شہیدؒ اور جناب فیض صاحب نے تو سیدنا امیرِ معاویہؓ کے عہدِ خلافت کو خلافتِ راشدہ کے مشابہ ہی مانا ہے لیکن آپ کے مقتدا و رہنما جن کی ثقایت اور علم و فضل پر پوری دنیا کے بریلویوں کا اتفاق ہے، وہ صراحتاً سیدنا امیرِ معاویہؓ کے عہدِ خلافت کو خلافتِ راشدہ قرار دے رہے ہیں آخر میں فاضلِ بریلوی کا ایک حوالہ حاضرِ خدمت ہے، جو انہوں نے علامہ خفاجیؒ (علامہ خفاجی رحمۃ اللہ (متوفی 1069ھ) نے یہی بات نسیم الریاض جلد 3 صفحہ 475 پر تحریر فرمائی ہے۔) کے حوالے سے لکھا ہے، اسے بہ چشمِ عبرت ملاحظہ فرمائیں:  

وَمَن یَکُن یَطعَنُ فِی مُعَاوِیَۃَ 

فَذَاکَ کَلبٌ مِن کِلَابِ الہَاوِیَۃِ  

ترجمہ: جو حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرے وہ جہنمی کتوں میں سے ایک کتا ہے۔  

(احکامِ شریعت: جلد 1 صفحہ103)