محمد بن علی بن طباطبائی ابن الطقطقی رحمۃاللہ - ردِ رافضیت |…

محمد بن علی بن طباطبائی ابن الطقطقی رحمۃاللہ

  محمد ظفر اقبال

21: محمد بن علی بن طباطبائی ابن الطقطقی رحمۃ اللہ:

ساتویں صدی ہجری کے مشہور شیعہ مؤرخ ابنِ طباطبائی لکھتے ہیں:  

وَأَسلَمَ مُعَاوِیَۃُ وَ کَتَبَ الوَحیَ جُمْلَۃً مِن کتابِه بَینَ یَدَی رَسُولِ اللّٰهﷺ

(الفخری فی الآداب السلطانیہ: صفحہ85 الفصل الثالث، الدولۃ الامویہ، تحت: ذکر شیء من سیرۃ معاویہ)  

ترجمہ: حضرت امیرِ معاویہؓ اسلام لائے اور نبی کریمﷺ کے سامنے جملہ کاتبین کے ہمراہ کتابتِ وحی کرتے رہے۔

اس تفصیل سے بات واضح ہو گئی کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کاتبِ وحی ہیں، اور جب وہ کتابتِ وحی کے شرف سے مشرف ہو گئے تو ان کا عادل و امین ہونا خود ثابت ہو گیا۔ کیونکہ کَانَ لَا یَستَکتِبُ إِلَّا عَدلًا أَمِینًا۔

روایات میں یہاں تک آتا ہے کہ آنحضرتﷺ نے حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ منصب حکمِ خداوندی سے عطا فرمایا تھا ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا:  

یَا مُحَمَّدُ، اِقرِئ مُعَاوِیَۃَ السَّلَامَ، وَاستَوصِ بِه خَیرًا، فَإِنَّه أَمِینُ اللّٰه عَلَی کِتَابِه وَ وَحیِه، وَنِعمَ الأَمِین

(البدایہ والنہایہ: جلد8 صفحہ120 تحت: ترجمۃ معاویہ بن ابی سفیانؓ وذکر شیء من ایامہ وما ورد فی مناقبہ)

ترجمہ: اے محمدﷺ! معاویہؓ کو سلام کہیے اور ان کو نیکی کی تلقین فرمائیے، کیونکہ وہ اللہ کی کتاب اور اس کی وحی کے امین ہیں، اور بہترین امین ہیں۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتبِ وحی بنانے کے لیے حضورِ اکرمﷺ نے حضرت جبریلِ امین سے مشورہ فرمایا تو انہوں نے کہا:  

اِستَکتِبه فَإِنَّه أَمِینٌ

(ایضاً)  

ترجمہ: آپ ان کو کاتبِ (وحی) بنا لیں کیونکہ وہ امین ہیں۔  

اب فرمائیے، ان واضح تصریحات کے بعد مصنفِ نام و نسب کے اس بیان کی کہ صحیح قول کے مطابق (حضرت امیرِ معاویہؓ) کاتبِ وحی نہ تھے کی کیا حقیقت رہ جاتی ہے؟ دوسرے یہ کہ کیا کاتبِ نبویﷺ ہونا معمولی اعزاز ہے؟ کیا آپﷺ کے اقوال و ارشاداتِ عالیہ وحیِ خفی نہیں ہیں؟

آخر میں مصنفِ نام و نسب کی طمانیتِ قلب کے لیے شیخ الاسلام امام ابنِ تیمیہؒ کا ایک حوالہ پیشِ خدمت ہے، جس میں انہوں نے روافض کے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں عدمِ کتابتِ وحی کے قول کی تردید کرتے ہوئے لکھا ہے:  

فَھذَا قَولٌ بِلَا حُجَّۃٍ وَلَا عِلمٍ

(منہاج السنۃ: جلد2 صفحہ 214 فصل: وأما قول الرافضی وسموہ کاتب الوحی الخ جوابہ)  

ترجمہ: اور یہ قول (کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کاتبِ وحی نہ تھے) بلا دلیل اور جہالت پر مبنی ہے۔  

اس کے بعد آپ نے کاتبانِ وحی کی فہرست حسبِ ذیل تحریر فرمائی ہے:  

حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت عامر بن فہیرہؓ، حضرت عبداللہ بن ارقمؓ، حضرت ابی بن کعبؓ، حضرت ثابت بن قیسؓ، حضرت خالد بن سعید بن العاصؓ، حضرت حنظلہ بن الربیع الاسدیؓ، حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت امیرِ معاویہؓ، حضرت شرجیل بن حسنہؓ۔  

(ایضاً)