خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم چار ہیں پانچ نہیں - دفاعِ اہلِ…

خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم چار ہیں پانچ نہیں

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 6

خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم چار ہیں پانچ نہیں

الحمدلله وسلام على عباده الذين اصطفىٰ اما بعد
خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم آنحضرتﷺ کے چار مسلسل اور بلا فصل از نبوت جانشینوں کا یکجا تذکرہ ہے۔ آنحضرتﷺ نے وصیت فرمائی تھی کہ میرے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم و مہدیین کے طریقوں کو لازم پکڑنا۔ سو امتِ مسلمہ شروع سے ہی خلافتِ راشدہ کو تتمہ مصطفویﷺ سمجھتی آئی ہے یہ راشدین و مہدیین کون ہیں؟ سلف کی اصطلاح میں حضرات شیخین (حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنھما) اور حضرات ختنین (حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما) ہیں۔ ان سب کی خلافت ایک دوسرے سے بلا فصل مسلسل تھی۔ حضرت علی مرتضیٰ رضی الله عنہ کی خلافت حضورﷺ سے چوبیس سال کے فصل سے قائم نہیں ہوئی پہلے خلفاء کے تسلسل سے بلا فصل قائم ہوئی اہلِ سنت کے ہاں چوبیس سال کے فصل سے قائم نہیں ہوئی خلفاء کے تسلسل سے بلا فصل قائم ہوئی اہلِ سنت کے ہاں چوبیس سال کی بالفصل خلافت کا عقیدہ بالکل غلط ہے۔
بعض دوستوں نے تقاضا کیا تھا کہ اس کتاب میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی بطور پانچویں خلیفہ راشد کے ہونا چاہیے۔ وہ بھی خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم میں سے تھے۔ اس میں شبہ نہیں کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا چھ ماہ کا دورِ خلافت ان تیس سالوں میں داخل ہے۔ جسے خلافتِ نبوت کہا جاتا ہے یہ تیس سال خلافت علی منہاج النبوة میں داخل ہیں، اور ہم بجا طور پر انہیں خلافتِ راشدہ میں تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن حضرت حسنؓ چونکہ خلافت سے دستبردار ہو گئے تھے اور خلیفہ نہ رہے تھے اس لیے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم صرف چار ہی رہے۔ حضور اکرمﷺ کا ارشاد ہے العبرة بالخواتيم کہ دین میں آخر کے حالات کا اعتبار ہوتا ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی اگر قمیضِ خلافت اتار دیتے تو خلافتِ راشدہ کی اصطلاح حضرات شیخین تک محدود رہتی حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت سے دستبرداری ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔ جس نے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے لیے ایک حدِ فاصل قائم کر دی ہے۔ خلیفہ راشد وہ ہے جس کی وفات خلافت پر ہوئی ہو یہ خلافتِ تامہ ہے۔ خلافتِ راشدہ خلافتِ کاملہ کی ایک صفت ہے جن علماء نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو ان خلفاء میں شمار کیا ہے سو وہ صرف اس لیے کہ ان کا دور خلافتِ راشدہ کے تیس سالوں میں داخل ہے انہیں اس سے انکار نہیں کہ اصطلاحاً خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم یہ پہلے چار بزرگ ہی ہیں۔
امام نوری رحمۃاللہ 376ھ، خلافتِ راشدہ کی تفصیل اس طرح لکھتے ہیں:
فانه لم يكن فی ثلثين سنة الا الخلفاء الراشدون الاربعة والاشهر التی بويع فيها الحسن بن علی
(شرح صحیح مسلم: جلد 2)
ترجمہ: بے شک ان تیس سالوں میں صرف چار خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم (کی مدتِ خلافت) اور وہ (چھ مہینے) جن میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی تھی اس میں داخل ہیں۔
ملاحظہ کیجیئے اس میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کو تو خلافتِ راشدہ میں شمار کیا گیا ہے لیکن انہیں خلیفہ راشد کہہ کر پانچ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نہیں بتلائے گئے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم صرف ان چار کو ہی کہا ہے۔
جس طرح ہدایت کا تقابل ضلالت اور گمراہی سے ہے رشد کا تقابل غوایت ہے۔
وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ لَا يَتَّخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا‌ وَّاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَىِّ يَتَّخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا‌ 
(سورۃ الأعراف: آیت 146)
ترجمہ: اور اگر انہیں ہدایت کا سیدھا راستہ نظر آئے تو اس کو اپنا طریقہ نہیں بنائیں گے، اور اگر گمراہی کا راستہ نظر آجائے تو اس کو اپنا طریقہ بنالیں گے۔ 
خلفائے راشدینؓ مہدیین وہ بلند پایہ انسان تھے جنہیں خداوندِ کریم نے جانشینانِ رسالت کے طور پر کام کرنے کے لیے چنا تھا۔ سو ان کے خلافتی فیصلے ہر بھول اور بھٹک سے محفوظ رہے یہ حضرات خود تو معصوم نہ تھے لیکن ان کا دورِ خلافت بلاشبہ الله کی حفاظت کے سائے میں گزرا تھا۔ (اور یہ بات بلا شبہ غلط ہے کہ اس دور میں جاہلیت کی دبی چنگاریاں پھر سے چمک اٹھی تھیں حضور اکرمﷺ کے فیضِ رسالت سے جاہلیت کی آگ بجھی تھی دبی نہ تھی۔ چنگاری پھر سے تب سلگتی ہے جب پہلے سے پوری بجھی نہ ہو۔) اپنی ذات اور اپنے اعمال میں تو سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم راشدون ہیں۔
اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ
(سورۃ الحجرات: آیت 7)
لیکن حکومتی ذمہ داریوں کو رشد و ہدایت سے نبھانے اور ہر ایک کو اس کا حق دلانے میں جس حسنِ تدبیر، اصابتِ رائے اور جرأت مندانہ عزم کی ضرورت ہو سکتی ہے ضروری نہیں کہ ملت کا ہر نیک فرد اس سے اسی طرح عہدہ برا ہو جس طرح حضرات خلفائے راشدین رضی الله عنہم عزائمِ امور میں ان ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہوئے۔ میدانِ جہاد میں ہر جانباز مومن انتہائی اخلاص سے لڑتا ہے لیکن کمانڈ کرنے، کام کو ترتیب دینے اور فوجوں کو لڑانے کے لیے جس حسنِ تدبیر، اصابتِ ظن اور جرأت مندانہ اقدام کی ضرورت ہوتی ہے کیا یہ ضروری ہے کہ ہر لڑنے والے جانباز میں یہ صفات اس طرح موجود ہوں جس طرح حضرت ابو عبیدہ، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت خالد بن ولید (رضی اللہ عنہم) میں تھیں اور وہ ہر میدان میں الله کی تلوار بن کر چمکتے تھے۔ اگر ایک صحابی ایک درجے میں ہوتا تو حضورﷺ کو اتنے صحابہ کے ہوتے ہوئے حضرت عمرؓ کو مانگ کر لینے کی کیا ضرورت تھی؟ خدا کی زمین پر خدا کی ایسی بادشاہت قائم کرنا جیسی اُس کی بادشاہت آسمانوں پر ہے یہ ہمت اور سعادت جن بزرگوں کے نام لکھی تھی وہ خلفائے راشدین رضی الله عنہم ہیں یہ نہ صرف راشدین ہیں بلکہ مہدیین بھی تھے اور حضور اکرمﷺ نے خود خبر دی تھی کہ آپﷺ کے جانشین و مہدیین دونوں صفتوں والے ہوں گے۔ یہ نہیں ہو گا کہ آپﷺ کی وفات کے بعد آپﷺ کی امت آپ کے رستے سے بھٹک جائے رشد و ہدایت کا تسلسل سے قائم رہنا آپﷺ نے اس کی خبر دی تھی اور تاریخ گواہ ہے کہ پھر ایسا ہی ہوا اور خلفائے راشدین رشد و ہدایت کے ماہتاب بن کر چمکے۔
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا:
 من يعش منكم بعدی فسيرى اختلافا كثيرا فعليكم بسنتی و سنة الخلفاء الراشدين المهديين
(سنن ابی داود: جلد 2 صفحہ 635)
صفحہ 1 از 6