حضرت زین العابدینؒ علی بن حسینؓ
مولانا اقبال رنگونیسیدنا علی بن حسینؓ (حضرت زین العابدینؒ) خاندانِ نبوت کے چشم و چراغ اور کثیر الحدیث محدث اور فقیہ ہیں کثرت عبادت کی وجہ سے آپ کو زین العابدین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت اونچا رتبہ اور مقام عطا فرمایا تھا اور علماء اسلام کے ہاں آپ بہت زیادہ مناقب و فضائل کے حامل بزرگ ہوئے ہیں۔
علامہ ابنِ تیمیہؒ (728ھ) لکھتے ہیں:
وَأَمَّا ثَنَاءُ الْعُلَمَاءِ عَلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ وَمَنَاقِبُهُ فَكَثِيرَةٌ
(منہاج: جلد 7 صفحہ 534)
امام زہریؒ فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں آپ سے زیادہ صاحب فضیلت کوئی نہیں تھا۔
(منہاج: جلد 7 ص 534)
آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ بڑے اونچے درجہ کے فقیہ تھے تاہم آپ بہت کم گو تھے آپ کو صدقہ خیرات کرنا بہت محبوب تھا اور آپ کبھی تو اپنا سارا مال اللہ کے رستے میں خرچ کر دیا کرتے تھے۔
(حلیۃ الاولیاء: جلد 3 صفحہ 140)
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زین العابدینؒ سے زیادہ خشیت الٰہی رکھنے والا شخص نہیں دیکھا۔ (حلیۃ الاولیاء)
اللہ تعالیٰ نے آپ کے اوقات میں بہت برکت اتاری تھی امام مالکؒ کا بیان ہے کہ آپ روزانہ ایک ہزار رکعت نفل پڑھتے تھے آپ کا یہ معمول موت تک رہا آپ کی کثرت عبادت کے سبب زین العابدین آپ کے نام سے جڑ گیا ہے:
أنه كان يصلي في كل يوم وليلة ألف ركعۃ إلى أن مات وكان يسمى زين العابدين لعبادتہ۔
(تہذیب: جلد 7 صفحہ 306، سیر اعلام النبلاء: جلد 4 صفحہ 440)
آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ اہل بیت نبوت میں حضرت زین العابدینؒ جیسا کوئی نہ تھا۔
لم يكن في أهل بيت رسول اللہﷺ مثل علي بن الحسین۔ (ایضاً: جلد 7 صفحہ 305)
شیبہ بن نعامہ کا بیان ہے کہ آپ کی وفات پر لوگوں کو پتہ چلا کہ آپ تو مدینہ منورہ کے سو سے زائد گھرانوں کی خفیہ طور پر کفالت کیا کرتے تھے
(طبقات: جلد 5 صفحہ 222، منہاج: جلد 4 صفحہ 49)۔
آپ خود اپنی کمر پر اناج وغیرہ لے کر جایا کرتے تھے جس کی وجہ سے آپ کی کمر پر کچھ نشانات بھی پڑ گئے تھے۔ (حلیۃ الاولیاء)
محمد ابن سعد آپ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ آپ ثقہ، مامون، کثیر الحدیث، بلند مقام والے، صاحب رفعت اور بڑے پرہیزگار خوف خدا رکھنے والے تھے۔
(سیر اعلام النبلاء: 2768، تہذیب: جلد 7 صفحہ 305)
علامہ ابن تیمیہؒ (728ھ) آپ کے بارے میں لکھتے ہیں:
وَأَمَّا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ فَمِنْ كِبَارِ التَّابِعِينَ وَسَادَاتِهِمْ عِلْمًا وَدِينًا۔
(منہاج السنہ: جلد 4 صفحہ 49)
حافظ ابن حجر عسقلانیؒ (852ھ) تقریب میں لکھتے ہیں:
ثقہ ثبت عابد فقیہ فاضل مشہور۔
(تقریب التہذیب: صفحہ 400)
آپ کی حدیث شریف کی مجلس مسجد نبویﷺ میں منعقد ہوتی تھی، آپ کے قریب سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے مولی حضرت سلیمان بن یسار ہلالیؒ کی مجلس حدیث رہتی۔ سلیمان بن یسارؒ مدینہ کے فقہاء سبعہ میں سے ہیں۔ یزید بن حازم اس مجلس میں جایا کرتے تھے اور اس مجلس کے عینی شاہد تھے وہ فرماتے ہیں:
رَأَيْتُ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يَجْلِسَانِ بَيْنَ الْقَبْرِ وَالْمِنْبَرِ يَتَحَدَّثَانِ إِلَى ارْتِفَاعِ الضُّحَى وَيَتَذَاكَرَانِ. فَإِذَا أَرَادَا أَنْ يَقُومَا قَرَأَ عَلَيْهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ سُورَةً فَإِذَا فَرَغَ دَعَوَا۔
(طبقات ابن سعد: جلد 5 صفحہ 217)
میں نے سیدنا علی بن حسینؓ اور حضرت سلیمان بن یسارؒ کو دیکھا ہے دونوں مسجد نبوی میں حضورﷺ کے روضہ اطہر اور منبر شریف کے درمیان بیٹھتے تھے اور دن چڑھے تک حدیث کی روایت اور اس کا مذاکرہ کرتے تھے اور جب مجلس سے اٹھنے کا ارادہ کرتے تو عبداللہ ابن ابی سلمہ قرآن کی کوئی سورت تلاوت کرتے اس کے بعد یہ دونوں حضرات دعا کرتے تھے۔
آپ روزانہ نمازِ عشاء کے بعد مسجد نبوی کے آخر حصہ میں بھی بیٹھا کرتے تھے آپ کے ساتھ حضرت عروہ بن زبیر بھی ہوتے تھے (طبقات ابن سعد) اور لوگ آپ کی اس مجلس سے مستفید ہوا کرتے تھے۔
ایک مرتبہ لوگوں نے آپ سے کہا کہ آپ ان لوگوں کی مجلس میں کیوں بیٹھتے ہیں جو مرتبہ میں آپ کے برابر نہیں ہیں آپ نے فرمایا کہ میں ایسے لوگوں کی مجلس میں بیٹھتا ہوں جن سے مجھے دینی نفع ملتا ہے۔
إِنِّي أَجَالِسُ مَنِ انْتَفَعَ بِمجَالَسَتِهِ فِي دِينِي
(تہذیب: جلد 7 صفحہ 305)۔
آپ کے شیوخِ حدیث میں آپ کے والدِ محترم سیدنا علی، حضرت عبداللہ بن عباسؓ، مسور بن مخرمہؓ، ابو رافعؓ، ام المؤمنین حضرت عائشہؓ، ام المؤمنین حضرت ام سلمہؓ، ام المؤمنین حضرت صفیہؓ، مروان بن حکم، سعید بن مسیب، عبداللہ بن عثمان بن عفان، ذکوان وغیرہ ہیں۔
(منہاج السنہ: جلد 4 صفحہ 48)
رنگون (برما) کے ممتاز عالم اورمفتی حضرت مولانا مرغوب احمد لاجپوری صاحب نے حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی امتیازی شان کو کتنے خوبصورت لفظوں میں بیان فرمایا ہے اسے بھی پڑھتے جائیے:
حضراتِ حسنین رضی اللہ عنہما کی دینی پیشوائی اور ان کے کارناموں اور خصوصی مقام اور امتیازی اوصافِ کمال کو اگر مختصر لفظوں میں بیان کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ ان کی مبارک زندگیاں لَمَّا صَبَرُوۡا اور وَ كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ کی عملی تفسیریں تھیں۔
(سفینۃ النجات: صفحہ 18)
