Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

خلافت راشدہ کے نقوش و آثار

  علی محمد الصلابی

ا: خلفائے راشدینؓ اپنے فیصلوں، تصرفات، حکومتی معاملات کی دیکھ ریکھ، پیش آمدہ مسائل کو حل کرنے میں اسلامی تعلیمات اور مسلمانوں کی شورائیت پر عمل کرتے تھے۔

ب: ان میں سے کسی نے بھی خلافت اس طرح حاصل نہیں کی کہ انھوں نے اپنے کو، یا انھیں پیشرو خلیفہ نے مسلمانوں پر تھوپ دیا ہو، بلکہ خلیفہ بنائے جانے کا عمل مسلمانوں کی شورائیت سے پورا ہوتا تھا، لیکن اس شورائیت کی مختلف وقتوں میں مختلف شکلیں رہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ کے انتخاب کے لیے اسلام نے کوئی خاص کیفیت متعین نہیں کی ہے۔

ج: شورائیت سے منتخب ہونے کے بعد کھلم کھلا خلیفہ کی بیعت مکمل ہوتی تھی، بعض لوگوں کی مخالفت کاکوئی اعتبار نہیں ہوتا تھا، امت کی اکثریت کی رائے کا اعتبار ہوتا تھا، بیعت ہو جانے کے بعد بغیر صریح کفر کے اسے توڑا نہیں جا سکتا تھا۔

د: مالی امور سے لے کر سیاسی امور تک تمام تصرفات میں خلیفہ کے احتساب کی ذمہ داری پوری امت کی ہوتی تھی، لیکن وہ احتساب اسلام کے مقرر کردہ نظام کے مطابق ہوتا اور ارباب حل و عقد کے ذریعہ سے اس کی تکمیل ہوتی تھی، یہ جائز نہیں تھا کہ پوری امت خلیفہ کے خلاف بھڑک اٹھے، اس لیے کہ اس سے فتنہ پیدا ہوتا اور افواہیں پھیلتیں جیسا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے فتنہ میں ہوا۔

(الخلفاء الراشدون أعمال و أحداث: دیکھیے۔ امین القضاۃ: صفحہ 13)

حاکم کے احتساب کے اصول اور اس کے مراقبہ سے متعلق امت کے حق کو خلفائے راشدینؓ نے اپنے اقوال و افعال سے ثابت کیا ہے، چنانچہ

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

فَإِنْ أَحْسَنْتُ فَأَعِیْنُوْنِیْ وَ إِنْ أَسَاْتُ فَقُوْمُوْنِیْ۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 305)

’’اگر میں اچھا کروں تو میری مدد کرو، اگر غلط کروں تو تم مجھے سیدھا کرو۔‘‘

اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ مَنْ رَفَعَ إِلَيَّ عُیُوْبِیْ۔

(الشیخان ابوبکر و عمر و من روایۃ البلاذری: صفحہ 231)

’’مجھے وہ شخص زیادہ پسندیدہ ہے جو مجھ تک میرے عیوب پہنچاتا ہے۔‘‘

نیز فرمایا:

إِنِّیْ أَخَافُ أَنْ أُخْطِیَٔ فَلَایَرُدُّنِیْ أَحَدٌ مِّنْکُمْ تَہَیُّبًا۔ 

(الشیخان ابوبکر و عمر و من روایۃ البلاذری: صفحہ 213، نظام الحکم فی عہد الخلفاء الراشدین: صفحہ 198)۔

’’میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ مجھ سے کوئی غلطی ہو جائے تو ڈر کے باعث تم میں سے کوئی مجھے نہ ٹوکے۔‘‘

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

إِنْ وَجَدْتُمْ فِیْ کِتَابِ اللّٰہُ أَنْ تَضَعُوْا رِجْلِیْ فِی الْقَیْدِ فَضَعُوْا رِجْلِیْ فِی الْقَیْدِ۔

(مسند أحمد: حدیث نمبر 524)

’’اگر تم کتاب اللہ میں پاتے ہو کہ تم میرے پاؤں میں بیڑی ڈال دو تو میرے پاؤں میں بیڑی ڈال دو۔‘‘

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا قول ہے:

إِنَّ ہٰذَا أَمْرُکُمْ لَیْسَ لِأَحَدٍ فِیْہِ حَقٌّ إِلَّا مَنْ أَمَرْتُمْ، إِلَّا إِنَّہٗ لَیْسَ لِیْ أَمْرٌ دُوْنَکُمْ

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 449-457)

’’بلاشبہ یہ (خلافت) تمھارے حوالے ہے، وہی اس کا مستحق ہوگا تم جس کے حوالے کردو، تمھارے بغیر مجھے خلافت کا کوئی حق نہیں۔‘‘

عہدِ خلفائے راشدینؓ میں حکام سے متعلق امت کے حقِ مراقبہ کو تسلیم کیا جاتا ہے، اس کا کسی نے انکار نہیں کیا ہے، جس سے اس پر اجماع کا پتہ چلتا ہے۔

(الدولۃ و السیادۃ فی الفقہ الإسلامی: فتحی عبدالکریم: صفحہ 378)

عہد خلافتِ راشدہ میں صحابہؓ (چاہے حاکم ہوں یا محکوم) کے اجماع کے ایک ہی معنیٰ تھے: کتاب اللہ کی صحیح سمجھ، سنت پر عمل کرنے کا صحیح طریقہ۔ 

(علی بن أبی طالب: للصلابی: جلد 1 صفحہ 345)

ھ: جن امور میں کتاب و سنت کی کوئی نص نہیں ہوتی ان میں باہمی مشورے اور مصالح مرسلہ کے تحت مصلحت عامہ کے حصول کے لیے جن تنظیمی کارروائیوں کو خلیفہ مناسب سمجھتا انجام دے سکتا تھا۔ جیسا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے جمع قرآن میں، سیدنا عمر فاروقؓ نے شہر کے اطراف کی زمینوں اور دیگر تنظیمی امور (جیسے فوج اور خراج کے دفاتر کے قیام) کے سلسلے میں، سیدنا عثمان غنیؓ نے مصحف کے نسخوں کو تیار کرانے اور مختلف علاقوں میں بھیجنے کے بارے میں کیا۔

و: امت کے اکابر اور علماء کا اختلاف فطری امر ہے، لیکن امت کی مصلحت، باہمی خیرخواہی اور بھائی چارگی کے سائے میں، عقلوں کے اختلاف سے آراء و نظریات کا اختلاف وجود میں آتا ہے، جیسا کہ سقیفۂ بنوساعدہ، حروبِ ردہ، اور جمع قرآن میں ہوا، لیکن اس اختلاف کو امت کی گروہ بندی اور باہمی جھگڑے تک نہیں پہنچنا چاہیے، اس لیے کہ اس سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے، اور اس سلسلے میں اصل فیصل اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہے۔

(علی بن أبی طالب للصلابی: جلد 1 صفحہ 345)

ز: خلافت راشدہ کے نقوش و آثار کا اختصار یوں کیا جا سکتا ہے کہ سیاسی نظام میں سب سے اعلیٰ دستوری حیثیت کتاب و سنت کو حاصل تھی، آسمانی شریعت کے احکام کی مکمل تنفیذ ہوتی تھی، حاکم منتخب ہوتا اور موظف ہوتا تھا، بیت المال حاکم کے بجائے پوری امت کا ہوتا تھا، مکمل شورائی نظام تھا، اس کے کچھ منتظمین ہوتے جو معاشرہ کے افراد کو راضی کرنے کا کام انجام دیتے تھے، پیش آمدہ مسائل میں امت کا عمل دخل ہوتا تھا۔

معاشرتی امور میں عہدِ خلافت راشدہ کو اجمالاً یہ امتیاز حاصل تھا کہ لوگوں کی ایمانی تربیت کی گئی تھی، لوگوں کے دلوں میں محرمات شرعیہ سے روکنے کی پوری صلاحیت تھی، نسلی تعصب کی بالکل اجازت نہیں تھی، لوگوں کو مکمل طور پر مسلمان بنایا گیا تھا، عموماً انسانی حقوق اور داخلی اتحاد و اتفاق پر زور دیا جاتا تھا، حکومت کی سرحدوں کی حفاظت کی جاتی تھی، تمدنی ذمہ داری سب کی تھی چاہے وہ حاکم ہوں یا محکوم

اسلامی حکومت کے یہ بنیادی مفاہیم تھے جو ہر زمانے کے لیے آئیڈیل اور معیار بن گئے، مسلمانوں نے ان کی تعبیر خلافت راشدہ سے کی تاکہ وہ حکومت کی دوسری تمام شکلوں سے ممتاز رہے۔

(الذاکرۃ التاریخیۃ للأمۃ: دیکھیے۔ قاسم محمد: صفحہ 70)

 اسی لیے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح میں کتاب و سنت اور سیرتِ خلفائے راشدینؓ پر عمل کرنے کی شرط لگائی۔