2: ان دونوں کے لیے دل میں وہی بات رکھتا ہوں جسے کر گزرنا چاہتا ہوں:
سوید بن غفلہ کا بیان ہے کہ میں چند شیعوں کے پاس سے گزرا۔ وہ لوگ ابوبکر و عمر کی شان میں گستاخیاں کر رہے تھے، پھر میں حضرت علیؓ کے پاس گیا اور کہا: اے امیرالمومنین! ابھی میں آپ کے چند معتقدین کے پاس سے گزر رہا تھا، وہ لوگ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی شان میں ایسی ایسی باتیں کر رہے تھے جو ہرگز ہرگز ان کی شایانِ شان نہیں ہیں۔ ان لوگوں نے جن باتوں کا اظہار کیا ہے اگر وہ باتیں آپ کے دل میں نہ ہوتیں تو وہ کبھی اس کی جرأت نہ کرسکتے تھے؟ حضرت علیؓ فرمانے لگے، میں ان دونوں کے لیے وہی بات دل میں رکھتا ہوں جسے کر گزرنا چاہتا ہوں، اللہ کی لعنت ہو اس شخص پر جو ان دونوں کے بارے میں حسنِ ظن نہ رکھے پھر آپ میرا ہاتھ پکڑ کر مسجد میں لے گئے، آپ کی دونوں آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبا رہی تھیں، آپ منبر پر تشریف لے گئے، اطمینان سے بیٹھ گئے، پھر داڑھی کو اپنی مٹھی میں پکڑ کر دیکھنے لگے وہ سفید ہو چکی تھی، تب تک تمام لوگ جمع ہوگئے، پھر آپ کھڑے ہوئے اور نہایت مختصر و بلیغ خطبہ دیا، اور فرمایا: ’’لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، مسلمانوں کے دونوں باپوں، اور قریش کے دونوں سرداروں کو کیوں کوستے ہیں؟ یہ لوگ ان کے بارے میں جو کچھ بھی کہتے ہیں، میں اس کا انکار کرتا ہوں، اور ان نازیبا تبصروں پر ان کو سزا دوں گا، قسم ہے اس ذات کی! جس نے دانہ سے غلہ اگایا، اور بے روح میں جان پیدا کی ان دونوں سے وہ محبت کرے گا جو پرہیزگار مومن ہو گا اور صرف وہی شخص بغض رکھے گا، جو فاجر اور کمینہ ہوگا، پوری صداقت و وفاداری کے ساتھ وہ دونوں رسول اللہﷺ کے ساتھ رہے، بھلائیوں کاحکم دیتے رہے، برائیوں سے روکتے رہے، اللہ کے رسولﷺ بھی ان دونوں کی رائے کو سب سے بہتر سمجھتے تھے، ان دونوں جیسی کسی سے محبت بھی نہ کرتے تھے، اللہ کے رسولﷺ تاعمر ان سے خوش رہے اور تمام مومنین ان دونوں سے زندگی بھر ان سے خوش رہے، اللہ کے رسولﷺ نے ابوبکر کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، چنانچہ انھوں نے رسول اللہﷺ کی زندگی میں نو دن مسلمانوں کی امامت کی،
(اصل میں سات دن ہے، لیکن حاشیہ میں اس کی تصحیح کرکے نو دن بنایا گیا ہے۔)
اور جب اللہ نے نبی کریمﷺ کو وفات دے دی، تو مسلمانوں نے اپنے معاملات حضرت ابوبکرؓ کے1 حوالہ کر دیے، ان کو زکوۃ دینے لگے اس لیے نماز اور زکوۃ دونوں ایک ساتھ مذکور ہیں، پھر بہت خوش دلی اور رضامندی سے ان کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کی، بنو عبدالمطلب میں سے پہلے میں نے ہی بیعت کی تھی، حالانکہ وہ اس منصب کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے، ان کو خواہش تھی کہ ہم میں سے کوئی سنبھال لیتا۔ واللہ! اس وقت کے تمام لوگوں میں وہ سب سے اچھے تھے، نہایت رحمدل، نرم طبیعت کے مالک، ورع وتقویٰ کے پکے، عمر اور سبقت الی الاسلام میں سب سے قدیم تھے ہمارے درمیان جب تک رہے رسول اللہﷺ کے طریقہ پر چلتے رہے، اور اسی پر وفات ہوئی، ان کے بعد حضرت عمرؓ اس منصب کے لیے منتخب کیے گئے، مسلمانوں نے انھیں پسند کیا، اور کچھ لوگوں پر یہ بات گراں گزری، تاہم سب کے سب آپ کی پوری مدت خلافت میں آپ سے راضی رہے، آپ بھی اپنی پوری زندگی رسولﷺ، اور اپنے ساتھی ابوبکرؓ کے طریقہ پر عمل کرتے رہے، ایسے ہی جیساکہ اونٹنی کا دودھ چھڑایا ہوا بچہ اپنی ماں کے پیچھے پیچھے لگا رہتا ہے، واللہ! وہ بھی بڑے نرم دل اور مہربان تھے، مظلوموں کے لیے نہایت شفیق معادن و مدگار، اللہ کے لیے کسی ملامت گر کی ملامت کی ہرگز پرواہ نہ کرتے تھے، ان کی زبان پر اللہ نے حق کو جاری کر دیا تھا، سچائی ان کی امتیازی شان بن گئی تھی ہمارا گمان تھا کہ فرشتہ آپ کی زبان سے بول رہا ہے، اللہ نے آپ کے اسلام کو اسلام کی تقویت کا ذریعہ بنایا، اور آپ کی ہجرت کو دین کے لیے ایک ستون بنادیا، منافقوں کے دلوں میں آپ کا رعب و دبدبہ ڈال دیا، اور مومنوں کے دلوں میں محبت پیدا کر دی۔ آج تم میں سے کون ہے جو ان کی طرح ہو رحمۃاللہ علیہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان دونوں کے راستہ پر چلنے کی توفیق بخشے۔ اس وقت تک ہم ان کے مقام و مرتبہ کو نہیں پا سکتے جب تک کہ ان کے نقوش کو نہ اپنائیں، اور دل سے ان سے محبت نہ کریں، سن لو! جو مجھ سے محبت کرتا ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ ان دونوں سے محبت کرے، جو شخص ان دونوں سے محبت نہیں کرتا وہ درحقیقت مجھ سے بغض و نفرت رکھتا ہے میں ایسے شخص سے اپنی برأت کا اعلان کرتا ہوں، اگر میں اس سے قبل ان دونوں کے سلسلہ میں انتباہ دے چکا ہوتا تو تمھاری اس گستاخی پر سخت سزا دیتا لیکن میں انتباہ سے قبل گرفت کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ بہرحال اگر آج کے بعد کسی کے بارے میں معلوم ہوا کہ اس نے ایسی گستاخی کی ہے تو اس پر تہمت لگانے والے کی حد نافذ کی جائے گی۔ سن لو! اس امت میں نبی کریمﷺ کے بعد سب سے بہتر ابوبکر، اور عمر رضی اللہ عنہما ہیں اور اگر چاہوں تو تیسرے کا بھی نام لے سکتا ہوں،
(یہ تیسرے سیدنا عثمانؓ تھے، جیسا کہ سیدنا علیؓ کے دوسرے بیانات سے ظاہر ہے اور صحابہ کرامؓ کا جس پر اجماع تھا۔ (مترجم)
لیکن اب اخیر میں اپنے اور آپ لوگوں کے لیے اللہ سے استغفار کا طالب ہوں۔‘‘
(شرح أصول اعتقاد وأہل السنۃ اللالکائی: حدیث نمبر 4456) النہی عن سبّ الاصحاب ومافیہ من الاثم والعقاب: صفحہ 43)۔