سیدنا ابوبکر صدیق راضی اللہ عنہ کی قیادت میں پہلا اسلامی حج اور اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اعلانی و نشریاتی کردار:
علی محمد محمد الصلابیعہد نبویﷺ میں اعتقادی، اقتصادی، معاشرتی، سیاسی، عسکری اور تعبدی غرض یہ کہ ہر سطح سے اور ہر میدان میں معاشرہ کی تربیت اور مملکت اسلامی کی تاسیسی کارروائی جاری تھی اور پچھلے سالوں میں خالص اسلامی طرز پر فریضۂ حج کی ادائیگی کا انتظام نہ ہوسکا تھا۔ فتح مکہ کے بعد جو حج ہوا تھا اس کی ذمہ داری عتاب بن اسیدؓ کے سر تھی اور وہ حج مشرکوں کے حج سے الگ نہ تھا۔
(السیرۃ النبویۃ: أبی شہبۃ: جلد 2 صفحہ 536، دراسات فی عہدالنبوۃ: صفحہ 22)۔
لہٰذا 9ھ میں جب حج کا وقت آیا تو نبی کریمﷺ نے حج کا ارادہ کیا، لیکن یہ کہا کہ مشرکین خانہ کعبہ کا طواف ننگے کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ حج کرنا پسند نہیں کرتا۔ چنانچہ ابوبکر صدیقؓ اپنے ساتھ صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی تعداد کو لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے،
(الطبقات لکبریٰ: جلد 2 صفحہ 168، نضرۃ النعیم: جلد 1 صفحہ 98)۔
ساتھ میں ہدی (قربانی) کے جانوروں کو بھی لیا۔
(فتح الباری: جلد 8 صفحہ 82)۔
ابھی حضرت ابوبکر صدیقؓ حاجیوں کا قافلہ لے کر نکلے ہی تھے کہ سورۂ ’’برأت‘‘ کا نزول ہوا، آپﷺ نے حضرت علیؓ کو بلایا، اور حکم دیا کہ ابوبکر صدیقؓ سے جا ملو، حضرت علیؓ رسول اللہﷺ کی اونٹنی ’’عضباء‘‘ پر سوار ہو کر روانہ ہو گئے اور ذوالحلیفہ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس پہنچ گئے، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے انھیں دیکھتے ہی پوچھا: امیر ہو کر آئے ہو یا ماتحت ہو کر؟ حضرت علیؓ نے جواب دیا: ماتحت ہو کر، اس کے بعد دونوں آگے بڑھے اور مکہ پہنچ کر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے لوگوں کے لیے ان ان جگہوں پر حج کا انتظام کیا جہاں وہ زمانۂ جاہلیت میں اپنے اپنے حج کا انتظام کرتے تھے۔ صحیح روایات کے مطابق اس سال کا حج ذی الحجہ کے مہینا میں پڑا تھا، نہ کہ ذی القعدہ میں جیسا کہ بعض روایات میں مذکور ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے یوم الترویہ سے قبل، یوم عرفہ، یوم النحر اور بارہ ذو الحجہ کو خطبہ دیا اور لوگوں کو وقوف، افاضہ، نحر اور رمی جمرات کے دوران حج کا طریقہ سکھاتے اور بتاتے رہے اور ان تمام مقامات پر حضرت علیؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پیچھے پیچھے سورۂ برأت کی ابتدائی چند آیات کی تلاوت کرتے اور چار باتوں کا اعلان کرتے: سن لو! جنت میں صرف مومن ہی داخل ہو گا، اس سال کے بعد کوئی شخص برہنہ ہو کر خانہ کعبہ کا طواف نہیں کرے گا اور جس کے لیے نبی کریمﷺ کا کوئی معاہدہ ہے تو وہ اس کے لیے اسی مدت تک ہے اور اس سال کے بعد مشرکین حج نہیں کریں گے۔
(مسندلامام احمد: الموسوعۃ الحدیثیۃ: حدیث نمبر 594 یہ حدیث صحیح ہے۔
ساتھ ہی صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت کو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حکم دیا تھا کہ وہ حضرت علیؓ کی مہم کی تنفیذ میں ان کی مدد کرتے رہیں گے۔
(السیرۃ النبویۃ: أبی شہبۃ: جلد 2 صفحہ 537)
سورۂ برأت کی ابتدائی آیات کا نزول بت پرستی اور بت پرستوں سے مکمل بائیکاٹ کا اعلان تھا، اس نے انھیں مشرکانہ حج سے روک دیا اور ان کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔
(نضرۃ النعیم: جلد 1 صفحہ 399)۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖۤ اِلَى الَّذِيۡنَ عَاهَدتُّمۡ مِّنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ۞ فَسِيۡحُوۡا فِى الۡاَرۡضِ اَرۡبَعَةَ اَشۡهُرٍ وَّاعۡلَمُوۡۤا اَنَّكُمۡ غَيۡرُ مُعۡجِزِى اللّٰهِ وَاَنَّ اللّٰهَ مُخۡزِى الۡكٰفِرِيۡنَ۞ وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ يَوۡمَ الۡحَجِّ الۡاَكۡبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِىۡۤءٌ مِّنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ وَرَسُوۡلُهٗ فَاِنۡ تُبۡتُمۡ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ۚ وَاِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّكُمۡ غَيۡرُ مُعۡجِزِى اللّٰهِ وَبَشِّرِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ۞(سورۃ التوبة آیت 1، 2، 3)
ترجمہ: (مسلمانو) یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے دستبرداری کا اعلان ہے ان تمام مشرکین کے خلاف جن سے تم نے معاہدہ کیا ہوا ہے۔ لہٰذا (اے مشرکو) تمہیں چار مہینے تک اجازت ہے کہ تم (عرب کی) سرزمین میں آزادی سے گھومو پھرو، اور یہ بات جان رکھو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے، اور یہ بات بھی کہ اللہ اب کافروں کو رسوا کرنے والا ہے۔ اور حج اکبر کے دن اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمام انسانوں کے لیے یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اللہ بھی مشرکین سے دست بردار ہوچکا ہے، اور اس کا رسول بھی۔ اب (اے مشرکو) اگر تم توبہ کر لو تو یہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہوگا، اور اگر تم نے (اب بھی) منہ موڑے رکھا تو یاد رکھو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے، اور تمام کافروں کو ایک دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو
’اس اعلان کے ساتھ ہی ان لوگوں کو مہلت دی جن کے ساتھ ایک خاص مدت تک معاہدہ تھا فرمایا:
اِلَّا الَّذِيۡنَ عَاهَدتُّمۡ مِّنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ثُمَّ لَمۡ يَنۡقُصُوۡكُمۡ شَيۡئًـاوَّلَمۡ يُظَاهِرُوۡاعَلَيۡكُمۡ اَحَدًافَاَتِمُّوۡۤااِلَيۡهِمۡ عَهۡدَهُمۡ اِلٰى مُدَّتِهِمۡاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُتَّقِيۡنَ۞ (سورۃ التوبہ آیت 4)
ترجمہ: البتہ (مسلمانو) جن مشرکین سے تم نے معاہدہ کیا، پھر ان لوگوں نے تمہارے ساتھ عہد میں کوئی کوتاہی نہیں کی، اور تمہارے خلاف کسی کی مدد بھی نہیں کی، تو ان کے ساتھ کئے ہوئے معاہدے کی مدت کو پورا کرو۔ بیشک اللہ احتیاط کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
اسی طرح دیگر تمام غیر معاہد مشرکین کو بھی حرمت کے مہینوں کے اختتام تک مہلت دیا، اور کہا کہ اس کے بعد ان کا شمار بھی حربی مشرکین میں ہونے لگے گا۔ اور اللہ نے فرمایا:
فَاِذَاانْسَلَخَ الۡاَشۡهُرُ الۡحُـرُمُ فَاقۡتُلُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ حَيۡثُ وَجَدْتُّمُوۡهُمۡ وَخُذُوۡهُمۡ وَاحۡصُرُوۡهُمۡ وَاقۡعُدُوۡا لَهُمۡ كُلَّ مَرۡصَدٍ فَاِنۡ تَابُوۡا وَاَقَامُواالصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوۡا سَبِيۡلَهُمۡ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞ (سورۃ التوبہ آیت 5)
ترجمہ: چنانچہ جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو ان مشرکین کو (جنہوں نے تمہارے ساتھ بدعہدی کی تھی) جہاں بھی پاؤ قتل کر ڈالو، اور انہیں پکڑو، انہیں گھیرو، اور انہیں پکڑنے کے لیے ہر گھات کی جگہ تاک لگا کر بیٹھو۔ ہاں اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ۔ یقیناً اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
نبی اکرمﷺ نے اہل عرب کے درمیان مروجہ نظام معاہدہ کی رعایت کرتے ہوئے حج کے ایام میں حضرت علیؓ کو مکلف کیا کہ مشرکین سے سابقہ عہد و پیمان کے اختتام کا اعلان کر دیں، اہلِ عرب کے ہاں رواج تھا کہ کسی سے معاہدہ کرنا ہو، یا توڑنا ہو، دونوں حالتوں میں قبیلہ کا سردار یا اس کی اجازت سے اس کے خاندان کا کوئی فرد ذمہ داری اپنے سر اٹھاتا تھا، چونکہ عربوں کے اس مروجہ نظام میں کوئی بات اسلام سے متصادم نہ تھی اس لیے رسول اللہﷺ نے مسئلہ کو اچھی طرح نبھایا اور حضرت علیؓ کے ذمہ یہ کام لگا دیا کہ وہ نقض عہد کا اعلان کر دیں، پس یہی وجہ تھی کہ آپﷺ نے حضرت علیؓ کو سورۂ برأت کی ابتدائی چند آیات کی تبلیغ کا مکلف بنایا، نہ یہ کہ اس میں حضرت ابوبکر صدیقؓ پر حضرت علیؓ کی خلافت کے تقدم کی طرف اشارہ مقصود تھا جیسا کہ روافض کا خیال ہے، یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ کیسے یہ لوگ ابوبکر صدیقؓ کی اس بات سے بالکل غافل ہیں۔ جس میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے حضرت علیؓ سے پوچھا تھا، کیا امیر ہو کر آئے ہو، یا ماتحت بن کر۔
(السیرۃ النبویۃ: أبی شہبۃ: جلد 2 صفحہ 540، صحیح السیرۃ: صفحہ 624)۔
جو شخص خود ماتحتی کا اقرار کر رہا ہو امیر سے زیادہ خلافت کا حق دار کیسے ہو سکتا ہے۔
(السیرۃ النبویۃ: أبی شہبۃ: جلد 2 صفحہ 540)
دراصل یہ حج، حجۃ الوداع کے لیے تمہید کے قائم مقام تھا اور اسی حج میں یہ اعلان کر دیا گیا کہ بت پرستی کا زمانہ ختم ہو چکا ہے اب نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے، اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ سارے لوگ اللہ کی شریعت کو مان لیں اور اس اعلان کے بعد ہی جزیرۂ عرب کے تمام قبائل کو یقین آ گیا کہ معاملہ یقیناً بہت ہی اہم ہے، اور بلاشبہ بت پرستی کا دور ختم ہو چکا ہے اور پھر لا تعداد قبائل عرب اپنے اسلام کا اعلان کرتے ہوئے اور توحید کے نغمے گاتے ہوئے اپنے وفود کو نبی کریمﷺ کی خدمت مبارکہ میں بھیجنے لگے۔
(قرأۃ سیاسیۃ للسیرۃ النبویۃ: صفحہ 283)۔
