ان بہتانوں کا تذکرہ جن کی زد بلا واسطہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پڑتی ہے
علی محمد الصلابی1۔ پہلا بہتان اور اس کا رد
روافض کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر پلایا نیز وہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما نے اپنے والدوں کے ساتھ مل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہلاک کرنے کی سازش کی اور ان دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک میں زہر ڈالا جس کے نتیجے میں آپﷺ کی موت واقع ہو گئی۔ یعنی ان منافقوں کے نزدیک ام المؤمنین سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ اور ان کے والد ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قاتل ہیں۔ ( اللہ تعالیٰ کی ان گنت لعنتیں ہوں ان لوگوں پر جو یہ جھوٹ باندھتے ہیں)
اگر معمولی سا غور کیا جائے تو اس رائے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور حفصہ رضی اللہ عنہا پر الزام سے بہت بڑا الزام اللہ اور اس کے رسول پر لگایا گیا ہے، جس کی توجیہ یہ ہے کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کسی نے مکر و فریب کا ہتھکنڈا استعمال کیا اللہ تعالیٰ نے فوراً اپنے نبی کی طرف وحی کر کے آپﷺ کو خبردار کر دیا۔ مثلاً جب یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنا چاہا اور بکری کے گوشت پر زہر لگا دیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے بولنے کی طاقت عطا کر دی اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبردار کر دیا کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر 2617۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر 2190۔)
جب یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھاری پتھر گرا کر آپﷺ کو شہید کرنا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی اور آپﷺ جلدی سے وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔
(الطبقات الکبرٰی لابن سعد: جلد 4 صفحہ 248۔ السنن الکبرٰی: جلد 9 صفحہ 200)
تو کیا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے گھر اور اپنے مرض الموت میں تنہا چھوڑ دیا اور جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زہر دینا چاہتے تھے ان کو یہ موقع مہیا کیا کہ وہ اپنے ناپاک فعل کو پایۂ تکمیل تک پہنچا دیں، حالانکہ ان لمحات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی نصرت و حمایت اور اس کی رحمت کے سب سے زیادہ محتاج تھے۔ بے شک اللہ تعالیٰ کے متعلق رافضیوں کی یہ بہت بڑی بدگمانی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِلَّا تَـنۡصُرُوۡهُ فَقَدۡ نَصَرَهُ اللّٰهُ۞ (سورۃ التوبة آیت 40)
ترجمہ: ’’اگر تم ان کی (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی) مدد نہ کرو گے تو ( ان کا کچھ نقصان نہیں کیونکہ) اللہ ان کی اس وقت مدد کر چکا ہے۔‘‘
پھر یہ بھی سوچنا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان حالات میں اپنی بیوی کے پاس ہی رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی یہ اندازہ نہ ہوا کہ وہ آپﷺ کے خلاف سازش کر رہی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے رہے کہ آپﷺ اپنی بیماری کے دن انہی کے گھر میں گزاریں۔ آپﷺ اسی پاک و مطہر بیوی کی آغوش میں (سر رکھ کر) وفات پاتے ہیں۔ اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو احساس تک نہ ہوا کہ وہ آپﷺ سے دھوکہ کر رہی ہیں؟
(دلائل النبوۃ للبیہقی: جلد 3 صفحہ 180)
کوئی عقل مند اس میں ذرہ بھر شک نہیں کرے گا کہ مذکورہ رائے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایسا گھناؤنا الزام لگایا جا رہا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بہت ہی برا ہے۔ خصوصاً جب الزام لگانے والے اپنے ’’ائمہ معصومین‘‘ کے بارے میں یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ وہ غیب کا علم جانتے تھے، ایسے فضول اور لغو الزامات کا جواب کئی ایک طریقوں سے بھی دیا گیا ہے۔
(الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افتراء ات الشیعۃ علی ام المومنین عائشۃ لعبد القادر محمد عطا صوفی: صفحہ 57)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر شیعوں کے ایسے الزامات کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض رکھتے تھے، رد کرتے ہوئے لکھا:
’’کمزور ترین عقل والے پر بھی یہ مخفی نہیں کہ جو شخص ایسے کٹھن سفر (سفر ہجرت) میں کسی کو ہمراہی بنائے اور وہ جن لوگوں کے ساتھ رہتا ہو وہی اس کے دشمن ہوں اور اسے قتل کرنے کی سازش میں ملوث ہوں اور شخص مذکور کے دوست اور مددگار اس کی مدد نہ کر سکتے ہوں تو یہ شخص کسی ایسے شخص کو کیسے اپنا ہم سفر بناتا ہے جو کسی اور کی بجائے اس سے اپنی دوستی جتاتا ہے اور یہ شخص اپنی پریشانی اس کے سامنے ظاہر کرتا ہو۔ حالانکہ وہ اندر سے اس کا دشمن ہو اور جس نے اسے ہمسفر بنایا ہو وہ یہ سمجھتا ہو کہ یہ اس کا دوست ہے۔ ایسا تو کوئی احمق ترین اور جاہل اعظم ہی کر سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس شخص کے چہرے کو مسخ کرے جو اس کے رسول کہ جو تمام لوگوں سے عقل، علم اور ذہانت و فطانت میں کامل ترین ہیں، کی طرف ایسی جہالت اور کم عقلی کی باتیں منسوب کرتا ہے اور مجھے منگولوں کے بادشاہ ’’خدا بندہ‘‘(خربند ابن ارغون بن ابغا۔ تاتاریوں کا بادشاہ تھا۔ یا اس کا نام خدابندا تھا۔ جب یہ بادشاہ بنا تو اسلام لے آیا اور اس کا نام محمد رکھا گیا اور کتاب و سنت کا متبع تھا اور اپنی سلطنت میں استعمال ہونے والے سکوں پر خلفائے اربعہ کے نام کندہ کروائے۔ یہاں تک کہ آوی نامی شیعہ اسے ملا وہ اس کے ساتھ ایسا چمٹا کہ اس تاتاری بادشاہ کو بھی شیعہ بنا ڈالا اور اس نے اپنے تمام نائبین کی طرف سب و شتم کرنے کا حکم لکھ دیا۔ 717 ہجری میں فوت ہوا۔ (النجوم الزاہرۃ لیوسف بن تغری بردی: جلد 9 صفحہ 239۔) جس کے لیے اس رافضی نے ’’امامت‘‘ کے مسئلہ پر ایک کتاب لکھی۔ جب شیعوں نے اسے یہ بتایا کہ ابوبکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بغض رکھتا تھا اور وہ اصل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن تھا۔ پھر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سفر ہجرت میں ابوبکر ہی اس کا ہمسفر تھا جو کہ خوف و خطرے کے لحاظ سے سب سے مشکل سفر تھا تو اس نے ایک نہایت گھٹیا جملہ کہا، لیکن رافضیوں کے ان خبیثانہ اقوال کا لازمی نتیجہ تھا جو وہ اسے سنا رہے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان الزامات سے بری قرار دیا۔ لیکن ان ظالموں اور مفتریوں نے اسے ایسے ایسے جھوٹ سنائے کہ اس کے نتیجے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ گھٹیا بات اس کے منہ سے نکلی۔ اس نے کفریہ کلمہ کہا: شاید وہ کم عقل تھا۔ نعوذ باللّٰہ من ذلک۔نقل کفر کفر بناشد
اس میں شک نہیں کہ جو رافضیوں کے جھوٹے افسانوں سے متاثر ہو کر یہ کہہ رہا ہے وہ (رسول) کم عقل ہے۔ جبکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے یار غار سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو ان الزامات سے بری قرار دیا لہٰذا رافضیوں کی باتوں سے واضح ہو گیا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیب جوئی ہے۔‘‘
(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 8 صفحہ 430)
(بقول مصنف) میں کہتا ہوں:
اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی پر جھوٹے الزام سے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام آتا ہے تو پھر اس شخص کے بارے میں کیا کہا جائے گا جو کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی نے آپ سے دھوکہ کیا۔ جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم محبت میں اسے دوسروں پر ترجیح دیتے ہوں اور ایام مرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گزارنا پسند کریں اور آپﷺ کی وفات کے بعد اس کے کمرے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کیا گیا ہو؟