علامہ جامی رحمۃ اللہ کی کتاب شواہد النبوۃ سے توسیس و تدلیس…

علامہ جامی رحمۃ اللہ کی کتاب شواہد النبوۃ سے توسیس و تدلیس کی چند مثالیں

  محمد ظفر اقبال

محترم قارئین! اب ہم جامی کی کتاب شواہد النبوۃ (جس کا حوالہ مصنّفِ نام و نس" نے جابجا اپنی مذکورہ کتاب میں دیا ہے) سے چند حوالہ جات پیش کرتے ہیں۔ فیصلہ آپ کریں کہ مندرجہ ذیل عقائد شیعہ حضرات کے ہیں یا اہلِ سنت کے؟  

1: جامیؒ نے اپنی کتاب میں ایک راہب کا سیدنا علیؓ کے ہاتھ پر مسلمان ہونے کا واقعہ بیان کیا ہے اور لکھا ہے: جب وہ مسلمان ہوا تو اس نے یہ کلمہ پڑھا: 

أشهد أن لا إله إلا الله و أشهد أن محمداً عبده و رسوله و أشهد أنك علہ وصی رسول الله 

(شواہد النبوۃ: صفحہ 155 رکنِ سادس: در بیانِ دلائل و شواہد) 

بتائیے کہ حضرت علیؓ کے وصیِ رسول ہونے کا عقیدہ شیعوں کا ہے یا سنیوں کا؟ 

مولانا جامیؒ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ جس طرح مسلمان ہوتے وقت اللہ کی وحدانیت اور سرکارﷺ کی رسالت کی گواہی کا اقرار ضروری ہے، اسی طرح وصایتِ علیؓ کا اقرار بھی ضروری ہے۔  

مولانا جامی رحمۃ اللہ نے اس واقعے کو بغیر کسی جرح و تردید کے بڑے اہتمام سے سیدنا علیؓ کی کرامت کے ذیل میں تحریر کیا ہے۔  

2: جامی لکھتے ہیں: 

امیر المؤمنین علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہ ولی امام اول است از ائمہ اثنی عشر 

(شواہد النبوۃ: صفحہ 150 رکنِ سادس: در بیانِ دلائل و شواہد)

حضرت علی رضی اللہ عنہ بارہ اماموں میں سے امامِ اول ہیں۔ بتلائیے! بارہ اماموں پر اعتقاد اثناء عشریہ کا ہے یا سنیوں کا؟  

3: امام جامیؒ لکھتے ہیں کہ: امیر المؤمنین سیدنا حسینؓ کی شہادت کے بعد ایک دن محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ حضرت امام زین العابدین رحمۃ اللہ کے پاس آئے اور فرمایا: میں چونکہ بلحاظِ عمر تم سے بڑا ہوں اور تمہارا چچا بھی ہوں، پس امامت کا تم سے زیادہ حق دار اور سزا وار ہوں، پس تم حضورﷺ کے ہتھیار میرے حوالے کر دو۔ یہ سن کر امام زین العابدین رحمۃ اللہ نے کہا: چچا! اللہ سے ڈرو، جس کا تمہیں حق نہیں ہے اس میں جھگڑا مت کرو۔ پس بحث و تمحیص کے بعد دونوں نے حجرِ اسود کو حکم مانا اور اس سے فیصلہ طلب کیا۔ پس حجرِ اسود نے امام زین العابدینؒ کی ولایت و امامت کی گواہی دی۔ 

(ملخص شواہد النبوۃ: صفحہ169 رکنِ سادس: در بیانِ دلائل و شواہد) 

امامت کے منصوص من اللہ ہونے کا عقیدہ شیعوں کا ہے اور یہی منقولہ بالا عبارات شیعہ کی معتبر کتاب اصولِ کافی، جلد 1 صفحہ 128 اور الثانی، جلد 2 صفحہ 314 پر موجود ہے۔ اہلِ سنت کا اس باطل عقیدے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔  

4: امام جامیؒ نے اپنی اسی کتاب میں حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ کی پیدائش کا حضرت حسن عسکری رحمۃ اللہ کے گھر میں ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے بچپن میں کلام کیا ہے۔ 

(شواہد النبوۃ: صفحہ198 رکنِ سادس: در بیانِ دلائل و شواہد) 

یہ بھی شیعوں کا عقیدہ ہے۔ اس کی تفصیل حضرت مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی شہید رحمۃ اللہ (متوفی 1417ھ) کی کتاب امام مہدی میں ملاحظہ کیجیے، اور اس کی مفصل تردید مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ لملا علی قاری رحمۃ اللہ (متوفی 1041ھ) جلد 10 صفحہ179، 180 پر ملاحظہ فرمائیے۔  

5: جامیؒ نے شواہد النبوۃ میں لکھا ہے کہ حضرت سیدنا حسنؓ کو زہر ان کی بیوی جعدہ نے حضرت امیرِ معاویہؓ کے کہنے پر دیا تھا۔ 

(شواہد النبوۃ: صفحہ163 رکنِ سادس: در بیانِ دلائل و شواہد) 

جب کہ علامہ ابنِ خلدون رحمۃ اللہ (متوفی 808ھ) لکھتے ہیں:  

وما ينقل أن معاوية دس إليه السم مع زوجته جعدة بنت الأشعث فهو من أحاديث الشيعة، و حاشا لمعاوية من ذلك 

(تاریخ ابنِ خلدون: جلد2 صفحہ 1139 تحت: بیعۃ الحسن و تسلیمہ الأمر لمعاویہ)  

ترجمہ: اور یہ بات جو کہی جاتی ہے کہ حضرت امیرِ معاویہؓ نے آپؓ کو آپؓ کی بیوی جعدہ بنتِ اشعث کے ساتھ خفیہ سازش کے تحت مل کر زہر دلایا تھا، یہ شیعوں کی خرافاتی باتیں ہیں۔ حاشا و کلا، سیدنا امیرِ معاویہؓ کا دامن اس سے بالا ہے۔  

 جمہورِ اہلِ سنت والجماعت کے برعکس جامیؒ کا حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں خطائے منکر کے ارتکاب کا قول، جس سے نعوذ باللہ صحابیِ رسولﷺ کا فاسق ہونا لازم آئے گا، عقیدہِ تشیع کی مستقل دلیل ہے۔ 

سرِ دست ان چھ نکات پر اکتفا کرتا ہوں۔ یار زندہ، صحبت باقی! آخر میں اب ہمارے قارئین خود اس بات کا فیصلہ کر لیں کہ کیا ایک صحیح العقیدہ سنی مسلمان اس قسم کے عقائد رکھ سکتا ہے؟ اگر یہ عبارات جامیؒ کی اپنی تصنیف کردہ ہیں تو ہمیں جامی کے شیعہ ہونے میں شک نہیں، اور اگر ایسا نہیں ہے تو ہمارا دعویٰ ثابت ہو گیا کہ یہ عقائد کسی سبائی نے جامی کی کتاب میں داخل کر دیے ہیں۔ اللہ ہی بہتر جانتے ہیں کہ جامی کی عبقریت و جلالتِ شان کی بدولت چھ سو سالوں میں کتنے مسلمانوں کا ایمان تباہ ہوا ہو گا۔ اگر یہ عبارات الحاقی بھی تسلیم کر لی جائیں تب بھی دشمنانِ اسلام تو اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے، اور چونکہ ان الحاقی عبارات کا متن کتاب سے خارج و حذف ہونے کا کوئی امکان نہیں، لہٰذا محمل میں بات کی پیوند کاری ہمیشہ رہے گی۔