اولا خلافت حسن رضی اللہ عنہ کی تنصیص کا قضیہ باطل ہے -…

اولا خلافت حسن رضی اللہ عنہ کی تنصیص کا قضیہ باطل ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 5

بیعتِ حسن رضی اللہ عنہ پر گفتگو کرتے وقت ایک ایسا قضیہ ہمارے سامنے آتا ہے جسے شیعہ امامیہ بڑے شد و مد سے رواج دیتے ہیں اور وہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی جانب سے خلافتِ حسن رضی اللہ عنہ کی تنصیص کا قضیہ ہے۔

(فرق الشیعۃ للنوبختی: صفحہ 24، مرویات خلافۃ معاویۃ۔)

اس کا شمار امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ پر افتراء پردازیوں میں ہوتا ہے، اس لیے کہ اس بارے میں کوئی منقول چیز ثابت نہیں ہے۔ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ امامت نبوت کے مانند ہے، اس کے سلسلے میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی من جانب اللہ تنصیص ضروری ہے، اور نبوت ہی کی طرح وہ من جانب اللہ خاص لطف و کرم ہے اور ہر دور میں منجانب اللہ ایک امام ہونا ضروری ہے، جس کی اطاعت فرض ہو، انسانوں کو امام کے انتخاب و تعیین کا حق نہیں ہے، بلکہ امام کو بھی اپنے بعد کے امام کی تعیین کا حق نہیں ہے، اور انھوں نے اپنے ائمہ کی طرف سے اس بارے میں دسیوں روایتیں وضع کرلی ہے، انھی روایتوں میں سے وہ روایت بھی ہے جسے وہ امام محمد باقرؒ کی جانب منسوب کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا:

’’کیا تمھارا خیال ہے کہ یہ معاملہ (امامت) ہمارے دائرہِ اختیار میں ہے کہ جسے چاہیں امام بنا دیں؟ نہیں، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے یکے بعد دیگرے لوگ مقرر ہیں تاآنکہ امامت صاحبِ امامت تک پہنچے۔‘‘

(الإمامۃ و النص: فیصل نور: صفحہ 8)

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد ائمہ کی تنصیص کی ہے، انھیں نام کے ساتھ مقرر کردیا ہے، اور وہ بارہ امام ہیں، ان میں نہ کمی ہوگی اور نہ زیادتی، اور وہ درج ذیل لوگ ہیں:

1۔ علی بن ابی طالب المرتضیٰ رضی اللہ عنہ متوفی 40ھ

2۔ حسن بن علی الزکی رضی اللہ عنہما متوفی 50ھ

3۔ حسین بن علی رضی اللہ عنہما متوفی 61ھ

4۔ علی بن حسین زین العابدینؒ متوفی 95ھ

5۔ محمد بن علی الباقرؒ متوفی 114ھ

6۔ جعفر بن محمد الصادقؒ متوفی 148ھ

7۔ موسیٰ بن جعفر الکاظمؒ متوفی 183ھ

8۔ علی بن موسیٰ الرضؒا متوفی 203ھ

9۔ محمد بن علی الجوادؒ متوفی 220ھ

10۔ علی بن محمد الہادیؒ متوفی 254ھ

11۔ حسن بن علی العسکریؒ متوفی 256ھ

12۔ محمد بن حسن المہدیؒ متوفی 260ھ

وصیت کے عقیدہ کی جڑ اور بنیاد عبداللہ بن سبا ہے، لیکن وہ وصیت کا معاملہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک محدود رکھتا تھا، بعد کے لوگوں نے اسے آپ کی چند اولاد میں عام کر دیا، جب کہ رافضی شیعہ بڑی خاموشی اور رازداری کے ساتھ کام کر رہے تھے، یہ لوگ اس کا سختی سے انکار کرتے تھے، جیسا کہ خود امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے کیا، اسی لیے آلِ بیت پر افترا پردازی کرنے والوں نے ’’تقیہ‘‘ کا عقیدہ گھڑ لیا تاکہ آسانی سے اپنے عقائد و نظریات کی نشر و اشاعت کرسکیں، اور ان کے متبعین اہلِ بیت کے سچے اور اعلان کردہ مؤقف سے محفوظ رہیں۔

(اصول الشیعۃ الإمامیۃ: جلد 2 صفحہ 800)

وصیت نہایت خطرناک چیز ہے جسے شیعوں نے گھڑ لیا ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے بعد براہِ راست سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے خلافت کی وصیت کی تھی، ان سے پہلے کے خلفاء نے ان کا حق غصب کرلیا، ان کی کتاب ’’الکافی‘‘ میں ہے کہ جو اپنے امام کو پہچانے بغیر مر گیا، وہ جاہلیت کی موت مرا۔

(أصول الکافی: جلد 2 صفحہ 16، 17)

لیکن خلفائے راشدینؓ کی تاریخ کو کھنگالنے کے بعد ہمیں نہ تو خلافتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میں وصیت کا ذکر ملتا ہے، نہ ہی خلافتِ عمر رضی اللہ عنہ میں، خلافتِ عثمان رضی اللہ عنہ کے آخری سالوں میں فتنہ کی ابتداء کے وقت ہمیں اس کے ظہور کی ابتداء ملتی ہے، یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کانوں تک پہنچی تو اس کی تردید کی اور اس کے جھوٹ کو واضح کیا، ان میں سب سے مشہور علی بن ابی طالب و ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہما تھے۔

پھر رفتہ رفتہ یہ بات خلافت علی رضی اللہ عنہ میں ایک عقیدہ و نظریہ کی صورت اختیار کر گئی، جس وصیت کا رافضی شیعہ انکار کرتے ہیں، ان کے علماء نے یہ بات ثابت کی ہے کہ اسے عبداللہ بن سبا نے گھڑا ہے جیسا کہ نوبختی اور کشی نے ذکر کیا ہے، میں نے اپنی کتاب ’’أسمی المطالب فی سیرۃ أمیر المؤمنین علی بن أبی طالب‘‘ میں اس کی تفصیلات کو ذکر کیا ہے۔ 

ان کے اس زعم باطل کی تردید کے لیے صحابہ کرامؓ سے صحیح روایتیں کافی ہیں، تردید کرنے والوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود بھی ہیں۔ چند روایتیں درج ذیل ہیں:

1۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جب اس بات کا تذکرہ کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے وصیت کی ہے، تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کب ان کے لیے وصیت کی؟ میں آپﷺ کو اپنے سینے سے سہارا دیے ہوئے تھی، آپﷺ نے طشت طلب کیا، آپ میری گود میں جھک گئے، مجھے پتہ بھی نہ چلا کہ آپﷺ کی وفات ہوگئی، تو کب وصیت کردی؟

(صحیح البخاری: کتاب الوصایا: رقم: 1471)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ صراحت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے وصیت نہیں کی ہے، عدم وصیت کی سب سے بڑی دلیل ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ عائشہؓ کی گود میں انتقال ہوا اگر آپﷺ نے وصیت کی ہوتی تو سیدہ عائشہ صدیقہؓ سب سے زیادہ جاننے والی ہوتیں۔

(بذل المجہود فی إثبات مشابہۃ الرافضۃ للیہود: جلد 1 صفحہ 190)

صفحہ 1 از 5