پانچواں مرحلہ
علی محمد الصلابیکوفہ سے مدائن کی جانب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی لشکر کشی کی خبر سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بھی شام سے نکل پڑنے، اس سلسلے میں ابن سعدؒ ’’الطبقات‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے جنگ کے ارادے سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اہل شام کو لے کر نکل پڑے تاآنکہ ’’جسرمنیح‘‘ نامی گاؤں کے پاس پڑاؤ کیا۔‘‘
مزید فرماتے ہیں:
’’پھر ’’جسرمنیح‘‘ سے مقام ’’مسکن‘‘ تک کا سفر پانچ دن میں طے کیا اور چھٹے دن داخل ہوئے۔‘‘
(الطبقات، تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 323)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی لشکر کشی کی خبر سننے کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی لشکر کشی میں قدرے تاخیر ہوئی، سبب یہ تھا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس قاتلانہ حملہ میں شدید زخمی ہو گئے تھے، جس کا ارتکاب برک بن عبداللہ تمیمی نامی خارجی شخص نے کیا تھا، جب آپ صلاۃِ فجر کے لیے نکلے تھے، یہ حملہ بھی اسی دن فجر کے وقت ہوا تھا جس دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا، صحیح قول کی روشنی میں وہ 17 صفر 40ھ جمعہ کے دن فجر کا وقت تھا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 131)
جندب کے طریق سے خلال نے جو روایت نقل کی ہے اس میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے زخم کی شدت کو بیان کیا ہے۔ کہتے ہیں:
’’ہم ایک قافلے میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، سعد رضی اللہ عنہ ٹھہرے اور میں بھی، میں نے آپ کے ٹھہرنے کو غنیمت جانا، میں آپ کے ساتھ ساتھ پیدل چلنے لگا، میں نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد کہا: معاویہ رضی اللہ عنہ شدید زخمی کردیے گئے ہیں، میرے خیال میں وہ زخم شاید ان کا کام تمام کردے، اور بلاشبہ خوارج بقیہ اصحابِ شوریٰ و صحابہ کرامؓ کو قتل کرنا چاہتے ہیں، اس لیے اگر آپ خلیفہ بنائے جائیں تو میں آپ کو اللہ کا واسطہ دلاتا ہوں کہ آپ نہ تو ان میں اختلاف و انتشار پیدا ہونے دیں گے اور نہ ہی ہلاکت و بربادی کی جانب دعوت دیں گے۔‘‘
چنانچہ سعد رضی اللہ عنہ نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا:
’’اللہ کی قسم! نہ تو میں ان میں اختلاف و انتشار پیدا ہونے دوں گا اور نہ ہی ہلاکت و بربادی کی
جانب دعوت دوں گا، تاآنکہ لوگ تلوار لے کر آئیں اور کہیں: یہ مومن ہے اس کو چھوڑ دیجیے، اور یہ کافر ہے اس کو قتل کردیجیے۔‘‘
(السنۃ للخلال: تحقیق دیکھیے۔ الزہرانی: صفحہ 474، 475، اس کی سند صحیح ہے۔)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے کہ عراقیوں میں سے کسی نے بآواز بلند اعلان کر دیا کہ قیس ( رضی اللہ عنہ ) قتل کردیے گئے، نتیجتاً فوج میں افراتفری پھیل گئی، اہل عراق میں عدمِ ثبات کی فطرت عود کر آئی، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے خیمے پر ہلہ بول دیا، سارا سامان لوٹ لیا حتیٰ کہ جس چادر پر بیٹھے تھے اسے بھی چھین لیا اور آپ کو زخمی بھی کر دیا۔
یہاں ایک نہایت اہم اور معنیٰ خیز واقعہ پیش آیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے مدائن کے گورنر سعد بن مسعود ثقفی تھے، ان کے پاس ان کا بھتیجا مختار بن ابی عبید بن مسعود آیا جو اس وقت نوجوان تھا، ان سے کہا: کیا آپ مالدار اور اچھے مقام و مرتبہ والے بننا چاہتے ہیں؟ کہا: کیسے؟ کہا: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو قید کر لیں اور اس کے بدلے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے امن حاصل کر لیں، چچا نے سخت جواب دیا: تم پر اللہ کی لعنت ہو، کیا میں نواسۂ رسول کے خلاف جرأت کر کے انھیں قید کر سکتا ہوں؟ تم بہت ہی برے آدمی ہو۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 159، نقلا عن العالم الاسلامی فی العصر الأموی: صفحہ 101)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھیوں کا سلوک دیکھ کر یہ یقین ہو گیا کہ ان سے کسی فائدے اور مدد کی توقع نہیں کی جا سکتی، شروع ہی سے یہی بات آپ کے دل و دماغ میں تھی، چنانچہ اسی کے باعث صلح کی جانب آپ کے قدم اور بڑھے اور اس سے مزید قریب ہو گئے۔