Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ہماری فوج نے اپنے کارناموں سے ہماری زبانیں کھول دی ہیں

  علی محمد الصلابی

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے زیاد بن ابی سفیان کو مالیاتی حساب و کتاب کے ساتھ امیرالمومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا۔ زیاد ہی اموال غنیمت اور دیگر مالیاتی حساب و کتاب کے ذمہ دار تھے، جب وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو اپنی آمد کا مقصد اور لڑائی کے حالات کو نہایت دل نشین انداز میں بیان کیا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا: جس طرح تم نے مجھ سے بیان کیا ہے کیا ایسے ہی لوگوں میں کھڑے ہو کر بیان کر سکتے ہو؟ انہوں نے کہا: جب آپؓ سے بیان کر سکتا ہوں تو دوسروں کے سامنے کہنے میں کیا خوف؟ اور پھر کھڑے ہو کر اموال غنیمت، مجاہدین کے سرفروشانہ کارناموں اور دشمن کے دیگر علاقوں میں اقدامی کارروائی کی اجازت طلبی کا ذکر کیا۔ سیدنا فاروق اعظمؓ ان کے انداز بیان سے بہت متاثر ہوئے اور کہا: یہ نہایت فصیح و بلیغ خطیب ہیں۔ زیاد نے کہا: درحقیقت ہماری فوج نے اپنے کارناموں سے ہماری زبانیں کھول دی ہیں۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 479)

 جلولاء کے مال غنیمت سے متعلق سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا موقف

مسلمانوں کی فتح یابی کے ساتھ معرکہ جلولاء اختتام پذیر ہوا۔ اس میں کافی مقدار میں قیمتی مال غنیمت ہاتھ آیا، اس کا خمس سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا گیا۔ آپ نے جب اسے دیکھا تو کہنے لگے: اللہ کی قسم! اس مال کو کسی چھت کے سائے میں رکھے جانے سے پہلے ہی میں اسے تقسیم کر دینا چاہتا ہوں۔ مسجد کے صحن میں یہ مال رکھا ہوا تھا، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف اور عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہما اس کی نگرانی کر رہے تھے۔ صبح ہوئی تو سیدنا عمرؓ کی معیت میں مسجد تشریف لائے اور مال ڈھانپی ہوئی چادر کو ہٹایا، اس میں یاقوت، زمرد اور قیمتی جواہرات پر نگاہ پڑی تو رونے لگے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیرالمومنینؓ! آپ کیوں روتے ہیں، یہ تو خوشی اور اللہ کی شکر گزاری کا موقع ہے۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم رونے کی وجہ یہ نہیں ہے، بلکہ جب بھی اللہ نے کسی قوم کو اس متاع دنیا سے نوازا، وہ آپس میں بغض و حسد کرنے لگی اور جب اس میں بغض وحسد کا چلن ہوا تو آپس میں دست و گریباں ہوگئے اور آپسی اختلاف نے شدت اختیار کر لی۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 480)

یہ ہے زبردست ایمانی غیرت و احساس کا ایک لطیف پہلو کہ ایک کامل مومن ایمانی فراست کی نگاہوں سے مستقبل کے نتائج و اندیشوں کا اس طرح ادراک کر لیتا ہے، جو دوسروں کے وہم و خیال میں بھی نہیں آتا۔ پھر یہی خطرات و اندیشے اسے مومنوں کے تئیں فکر مند کر دیتے ہیں کہ کہیں ان کے صاف شفاف ایمانی تعلقات و اسلامی ہمدردی کو دنیا کی فریب کاریاں اور نیرنگیاں مکدر نہ کر دیں کہ یہی دلوں کی دوری کا اصل سبب ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں، بلکہ اس کی فکر مندی کا عالم یہ ہے کہ مجمع عام میں آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی ہے۔ یقیناً ایک ایسا انسان جس کے رعب و دبدبہ سے مسلم، کافر، منافق بلکہ سارے انسان لرزتے ہوں، اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش بہت ہی حیرت واستعجاب کی بات ہے، لیکن ہمیں متحیر ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ہے، کیونکہ یہ اس رحمت و شفقت کے آنسو تھے جسے اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے دل میں ودیعت کر دیا ہے اور وہ ایسے ہی ہو چکے ہیں جیسے کہ اللہ نے تصویر کشی کی ہے:

مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ ‌ تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا‌ سِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ‌ ذٰ لِكَ مَثَلُهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ وَمَثَلُهُمۡ فِى الۡاِنۡجِيۡلِ كَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطْئَـهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰى عَلٰى سُوۡقِهٖ يُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ‌ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡهُمۡ مَّغۡفِرَةً وَّاَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞

ترجمہ: محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ تم انہیں دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں ہیں، کبھی سجدے میں، (غرض) اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی علامتیں سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔ یہ ہیں ان کے وہ اوصاف جو تورات میں مذکور ہیں۔ اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوگئی، پھر اپنے تنے پر اس طرح سیدھی کھڑی ہوگئی کہ کاشتکار اس سے خوش ہوتے ہیں۔ تاکہ اللہ ان (کی اس ترقی) سے کافروں کا دل جلائے۔ یہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اللہ نے ان سے مغفرت اور زبردست ثواب کا وعدہ کر لیا ہے۔