فصل:....فضائل علی ھادی العسکری - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....فضائل علی ھادی العسکری

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3

فصل:....فضائل علی ھادی العسکری

[وہوأبو الحسنِ علِی بن محمدِ بنِ علِی، الملقب بِالہادِی، الِإمام العاشِر عِند الرافِضِۃ، ولِد فِی المدِینۃِ سن:۲۱۴ واستقدمہ المتوکِل ِإلی بغداد ونزلہ فِی سامراء حیث توفِی بِہا سن:۲۵۴۔انظر ترجمتہ فِی: تارِیخِ بغداد: ۱۲؍ ۵۶۵۷، شذراتِ الذہبِ: ۲؍۱۲۸، ۱۲۹،العِبرِ: ۲؍۶،الأعلامِ: ۵؍۱۴۰۔]

رافضی کہتا ہے: ’’ آپ کا بیٹا علی ہادی تھا ؛ اسے عسکری بھی کہا جاتا ہے۔ متوکل آپ کو مدینہ سے بغداد لے آیا تھا ‘پھر وہاں سے ’’سرَّ من رأی ‘‘ منتقل ہوگئے۔وہاں آپ جس جگہ پر ٹھہرے ہوئے تھے اس کے قریب ایک عسکر نامی جگہ تھی۔پھر آپ سامراء چلے گئے اور بیس سال نوماہ تک وہاں رہے۔ متوکل نے آپ کو اس لیے مجبور کیا تھا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا تھا۔ جب اسے اطلاع ملی کہ مدینہ میں لوگ حضرت علی الہادی رحمہ اللہ کی کس قدر عزت کرتے ہیں اور ان کی جانب میلان رکھتے ہیں ‘ تو اسے خوف محسوس ہوا ۔ اس نے یحی بن ہبیرہ رحمہ اللہ کو بلاکرحکم دیا کہ علی الہادی کو اس کے پاس حاضر کیا جائے۔ اس وجہ سے اہل مدینہ میں خوف و دھشت طاری ہوگئی ؛ اس لیے کہ اہل مدینہ کے ساتھ آپ کے بہت بڑے احسانات تھے۔اور آپ ہمیشہ کے لیے مسجد میں ہی رہتے تھے۔ یحی نے قسم اٹھائی کہ انہیں کوئی تکلیف نہیں ہوگی ۔ پھر یحی نے ان کے گھر کی تلاشی لی ؛ اسے قرآن مجید ‘ کچھ دعاؤوں اور اہل علم کی چند کتابوں کے علاوہ کچھ بھی نہ ملا۔ اس وجہ سے اس کی نظر میں آپ کی منزلت بڑھ گئی۔ اوروہ خود آپ کی خدمت میں مصروف رہنے لگا۔ جب واپس بغداد پہنچا تو سب سے پہلے اسحق بن ابراہیم طائی والی بغداد کے پاس گیا۔ اور اس سے کہا : اے یحی! اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنم دیا ہے ‘ اور آپ جانتے ہیں کہ متوکل کون ہے؟ اگر آپ اسے ان کے خلاف برانگیختہ کریں گے تو وہ انہیں قتل کردے گا۔ اور قیامت والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف سے تیرے خلاف دعوی کرنے والے ہونگے ۔ یحی نے اسے جواب دیا: اللہ کی قسم ! میں تو ان کے متعلق صرف خیر کا ہی ارادہ رکھتا ہوں ۔ آپ کہتے ہیں : جب میں متوکل کے پاس گیا تو اسے آپ کی حسن سیرت ‘ زہد و ورع کے بارے میں خبر دی۔ تو متوکل نے آپ کا خوب احترام کیا ۔ پھر متوکل بیمار ہوگیا تواس نے منت مانی کہ اگر وہ تندرست ہوگیا تو بہت سارے دراہم صدقہ کریگا۔ پھر اس نے تندرست ہونے پر اس بارے میں فقہاء سے سوال کیا ؛ مگر کسی کے پاس کوئی جواب نہ پایا ۔ پھر اس نے علی ہادی کے پاس آدمی بھیج کردریافت کیا ‘ توآپ نے کہا: تراسی(۸۳)درھم خیرات کردو۔ جب متوکل نے اس کا سبب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَۃٍ ﴾ [التوبہ ۲۵]

’’ اور یقیناً اللہ تعالیٰ نے بہت سارے مقامات پر آپ کی مدد فرمائی ۔‘‘

٭ یہ مواطن ومقامات اپنی جگہ ایک معنی رکھتے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ستائیس غزوات کئے اور چھپن سرایا بھیجے۔ مسعودی نے کہا ہے کہ: اس کے بعد متوکل کے پاس جھوٹی شکایات کی گئیں کہ محمد بن علی رحمہ اللہ اہل قم شیعہ میں تیز دھار اسلحہ کی منزلت رکھتے ہیں اور آپ وہاں اپنا ملک قائم کرنا چاہتے ہیں ۔ خلیفہ نے ان لوگوں کی سرکوبی کے لیے ترکوں کی ایک جماعت بھیجی۔ انہوں نے رات کے وقت آپ کے گھر پر حملہ کیا؛ مگر انہیں کچھ بھی نہ ملا؛ اور انہوں نے دیکھا کہ آپ گھر کا دروازہ بند کیا ہوئے ہیں ‘ اور آپ پر ایک اونی جبہ ہے ‘اور آپ کچھ پڑھ رہے ہیں ؛ اورآپ ریت پر ایک چٹائی بچھاکر بیٹھے تلاوت کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہیں ۔ آپ کو اسی حالت میں اٹھا کر متوکل کے پاس لایا گیا۔ جب انہیں متوکل کے سامنے پیش کیا گیا تو وہ شراب کی مجلس میں تھا ؛اور جام اس کے ہاتھ میں تھا؛ اس نے آپ کی بڑی تعظیم کی اور انہیں أپنے پہلو میں بیٹھایا ؛ اس نے ایک جام آپ کے ہاتھ میں بھی دیا ؛ تو آپ نے فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! کبھی بھی میرے خون اورگوشت کے ساتھ شراب کا قطرہ نہیں ملا؛ مجھے اس سے معاف رکھیے۔ اس نے آپ کو چھوڑ دیااور کہا : مجھے اپنی آواز میں کچھ سنائیے ۔تو آپ نے یہ آیت پڑھی :

﴿کَمْ تَرَکُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ﴾ [الدخان ۲۵]

’’ ان لوگوں نے کتنے ہی باغات اور چشمے [اپنے پیچھے] چھوڑے ۔‘‘

پھر اس نے آپ سے کہا : مجھے کچھ شعر سنائیے ؟ تو آپ نے فرمایا: مجھ شعر بہت کم یاد ہیں ۔ اس نے کہا شعر سنانا لازمی ہے۔ تو آپ نے اس وقت یہ شعر پڑھے : [ترجمہ اشعار]:

’’ انہوں نے پہاڑ کی چوٹیوں پر رات گزاری؛ اور مسلح افراد ان کی پہرہ داری کررہے تھے ؛ مگر انہیں یہ چوٹیاں کچھ کام نہ آئیں ۔ انہیں اس عزت کے بعد ان کے ٹھکانوں سے اتارا گیا ؛ اور انہیں ایک گڑھے میں رکھا گیا ‘ یہ ان کے پڑاؤ کی بہت بری جگہ ہے ۔ ان کو دفن کرنے کے بعد ایک آواز لگانے والے نے آواز لگائی :’’ تمہارا خاندان ‘ تاج اور زیورات کہاں ہیں ؟ اوروہ شیریں ودلکش پرنعم چہرے کہاں ہیں جنہیں پردوں میں چھپایا جاتا تھا۔ قبرنے اس سوال کا فصیح جواب دیا اور کہا : ’’ ان چہروں پر اب کیڑے مسلط ہوچکے ہیں ‘جو انہیں ختم کررہے ہیں ۔ انہوں نے جو کچھ کھایا پیا تھا ‘ اس پر ایک لمبازمانہ گزر چکا ہے ؛ اور کے بعد اب تو وہ خود ہی کھایا ہوا بھس ہوگئے ہیں ۔‘‘

متوکل یہ سن کر اتنا رویا کہ آنسوؤں سے اس کی داڑھی تر ہوگئی۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]

جواب : یہ دعوی بھی اپنے سے پہلے کلام کی طرح ہے ۔ اس نے کسی بھی صحیح دلیل کے ساتھ آپ کی کوئی منقبت نہیں بیان کی۔ بلکہ اس نے ایسی چیز بیان کی ہے جس کے باطل ہونے کو علماء کرام جانتے ہیں ۔ 

صفحہ 1 از 3