Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ورع

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ورع کی ایک مثال وہ واقعہ ہے جسے ابو زید عمر بن شبہ نے معدان بن ابو طلحہ یعمری کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ وہ حضرت عمرؓ کے پاس کپڑے اور کھانا لے کر آئے اور آپؓ کے حکم سے اسے لوگوں میں تقسیم کر دیا گیا، پھر آپؓ نے دعا کی: اے اللہ تو خوب جانتا ہے کہ میں نے خود لوگوں کو نہیں کھلایا، اور نہ خود کو ان پر ترجیح دی، صرف میں ان کے ساتھ کھانے میں شریک ہوا ہوں، پھر بھی مجھے ڈر ہے کہ کہیں تو اس کھانے کو عمر کے پیٹ میں آگ کا سبب نہ بنا دے۔ معدان کا بیان ہے کہ اس کے بعد آپؓ نے اپنی مخصوص رقم سے ایک بڑا پیالہ بنوایا پھر اسے عام لوگوں کی پلیٹوں کے درمیان رکھنے لگے۔

امیر المؤمنین عمر بن خطابؓ کی خواہش ہوتی تھی کہ عام مسلمانوں کے ساتھ کھانا تناول فرمائیں، کیونکہ اس میں کئی معاشرتی مصلحتیں پوشیدہ ہوتی تھیں۔ جو کھانا مسلمانوں کے بیت المال سے بنایا جاتا تھا اسے کھانے میں حرج محسوس کرتے تھے، اسی وجہ سے حکم دیتے تھے کہ میرے ذاتی مال سے بنایا ہوا کھانا مجھے دیا جائے، آپؓ کی یہ احتیاط ورع اور پاک دامنی کی بلند ترین مثال ہے۔ غور کا مقام ہے کہ عام مسلمانوں کے ساتھ ان کے کھانے میں شریک ہونے سے حرام مال کھانے کا اندیشہ بالکل نہیں رہتا، اس لیے کہ آپؓ اس وقت عام مسلمانوں کے ایک فرد ہوتے ہیں، تاہم آپؓ اپنے ربّ کی رضا جوئی کی خاطر اس مال سے بھی اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور خوف الہٰی کے پیشِ نظر خود کو شبہات کے قریب جانے سے روکتے ہیں۔ 

(التاریخ الاسلامی: جلد 19 صفحہ 37)

عبدالرحمٰن بن نجیح کا بیان ہے کہ میں حضرت عمرؓ کے پاس گیا، آپؓ کے پاس ایک اونٹنی تھی، آپؓ اسے خود دوہتے تھے، ایک دن آپؓ کے غلام نے آپؓ کو دودھ پلایا، آپؓ نے اسے ناپسند کیا اور کہا: تیرا برا ہو، یہ دودھ تو کہاں سے لایا؟ اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! اونٹنی کا بچہ چھوٹ گیا تھا اور اس نے دودھ پی لیا تھا۔ تو میں نے صدقہ کی اونٹنی سے آپؓ کے لیے دودھ دوھ لیا، آپؓ نے فرمایا: تیرا برا ہو۔ تو مجھے آگ پلاتا ہے، پھر آپؓ نے اس دودھ کے بارے میں بعض لوگوں سے اجازت لی، تو لوگوں نے آپؓ سے کہا اے امیر المؤمنین دودھ اور اس اونٹنی کا گوشت بھی آپؓ کے لیے حلال ہے۔

(تاریخ المدینۃ المنورۃ: صفحہ 702، اس واقعہ میں کمال کی بات یہ ہے کہ دودھ پیتے ہی آپؓ کو محسوس ہو گیا کہ دودھ میں کچھ گڑبڑ ہے، یہ تھے ہمارے اسلاف اور آج ہماری حالت یہ ہے کہ حرام و حلال میں ہمیں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا، بلکہ حرام زیادہ لذیذ لگتا ہے۔ العیاذ باللہ مترجم)

امیر المؤمنین عمر بن خطابؓ کے ورع کی یہ نادر مثال دیکھئے کہ آپؓ نے بلاقصد و ارادہ اس دودھ کو پیا تھا، لیکن عذابِ الہٰی کا ایسا خوف کہ جب تک بعض بزرگ صحابہؓ سے جو مسلمانوں کی طرف سے اس ذمہ داری پر مامور تھے اس کے بارے میں اجازت نہ لے لی آپؓ کے دل کو اطمینان نہ ہوا، یہ اور اس طرح کے دیگر واقعات اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ذکر، آخرت، وہاں کے حساب و کتاب، نعمتوں کے حصول اور بدبختی سے بچنے کا خوف آپؓ کے رگ و پے میں سرایت کرچکا تھا اور اسی غم میں آپؓ ڈوبے رہتے تھے اور یہی خوف و غم آپؓ کی زندگی میں اعلیٰ سلوک و کردار کا اصل محرک تھا۔ 

(التاریخ الإسلامی: جلد 19 صفحہ 27)

سیدنا عمرؓ ورع و تقویٰ کے شیدائی تھے یہاں تک کہ جن چیزوں کے لینے میں حق بجانب ہوتے اسے بھی لینے میں کافی احتیاط برتتے تھے، ایک دن آپؓ بیمار ہوئے، لوگوں نے بتایا کہ شہد کو بطورِ دوا استعمال کیجیے، مفید ہو گا، اتفاق سے اس وقت بیت المال میں شہد موجود تھا جو بعض مفتوحہ ممالک سے آیا ہوا تھا، لیکن معالجین کے مشورہ کے مطابق آپؓ نے اس وقت تک شہد استعمال نہ کیا جب تک کہ لوگوں کو جمع نہیں کر لیا، پھر آپؓ منبر پر تشریف لے گئے اور لوگوں سے اجازت مانگی کہ ’’اگر آپؓ لوگ مجھے اجازت دیں تو شہد استعمال کر لوں، ورنہ وہ میرے لیے حرام ہے۔‘‘ لوگ آپؓ کی یہ بات سن کر رو پڑے اور سب نے آپؓ کو اجازت دے دی، پھر بعض لوگ ایک دوسرے سے یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ اے عمر تمہاری خوبیاں تو بس اللہ ہی کے لیے ہیں، تم نے اپنے بعد کے خلفاء کو تھکا دیا۔ 

(فرائد الکلام للخلفاء الکرام: صفحہ 113 الفاروق: الشرقاوی: صفحہ 275)