خراج لگان والی زمین کی عدم تقسیم کے پیچھے کون سے بلند مقاصد اور امن و امان سے وابستہ مفادات پوشیدہ تھے
علی محمد الصلابیخراج والی زمین کی عدم تقسیم پر امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور آپؓ کے مویدین صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف سے منظور کی جانے والی قرار داد کے ضمن میں امن و امان سے وابستہ کئی مفادات پوشیدہ تھے، ان مفادات کو ہم دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں:
1۔ داخلی مفادات:
داخلی مفادات میں سب سے پہلا اور اہم مقصد مسلمانوں کے اختلافات اور ان کے باہمی جنگ و جدال کے تمام راستوں کو بند کرنا، قومی و ملکی زندگی کے لیے مستحکم ذرائع آمدنی پیدا کرنا، اور مسلمانوں کی آئندہ نسلوں کے لیے مادی ضروریاتِ زندگی پورا کرنا تھا۔
2۔ خارجی مفادات:
خارجی مفادات میں سب سے اہم اسلامی حکومت کی سرحدوں کی حفاظت، اس کے لیے مطلوبہ افراد و اخراجات کی تکمیل، اور اسلامی افواج کی ہمہ وقت تیاری تھی اور اس کا تقاضا یہ تھا کہ عام افواج، سرحدی محافظوں کی تنخواہوں، اور ان کے اہل و عیال کے لیے عطیات کا انتظام ہو، غیر ضروری اخراجات سے ہٹ کر سامان جنگ اور اسلحہ خریداری پر رقوم خرچ ہوں، تاکہ یہ اسلامی افواج خراج جیسی ملکی آمدنی پر اعتماد کرتے ہوئے ملکی سرحدوں اور اس کی اراضی کی بحسن و خوبی حفاظت کر سکیں۔
مذکورہ دونوں مفادات میں یہ بات قابل غور ہے کہ خلیفۂ وقت نے معاشرہ کو سیاسی امن و استحکام دینے کے لیے صرف اپنے ہی دور کے لیے نہیں بلکہ اپنے بعد کے ادوار کے لیے بھی یہ کہہ کر کہ ’’ان لوگوں کا کیا ہو گا جو بعد میں مسلمان ہو کر آئیں گے‘‘ اور یہ کہ ’’میں ناپسند کرتا ہوں کہ بے سہارا مسلمان چھوڑ دیے جائیں‘‘ مضبوط بنیادوں پر ایسی قرار داد پاس کرائی کہ جو مستقبل میں امن و سلامتی کے لیے آپ کی دور رس نگاہوں کی غماز ہے اور ہوا بھی ایسا ہی، خلیفۂ ثانی کے دور میں سیاسی واقعات و حادثات کی کثرت و تنوع نے آپؓ کی منظور کردہ قرار داد کی صداقت کو ثابت کر دیا۔
مفتوحہ زمین کی عدم تقسیم سے متعلق متعدد مراحل سے گزر کر پاس ہونے والی قرار داد سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں: ایک تو یہ کہ مسلمانوں کے گراں قدر مفادات سے وابستہ بعض اہم قرار دادیں کبھی کبھار طویل وقت اور کافی جہد و مشقت کی متقاضی ہوتی ہیں، نیز ایک دوسرے کے اظہار خیال اور آراء و دلائل پیش کرنے کے لیے قدرے صبر و تحمل چاہتی ہیں، بشرطیکہ یہ وقفہ اتنا طویل نہ ہو کہ لوگوں کو اختلاف کرنے اور اس کی کھائی کو مزید گہرا کرنے کا موقع ملے، یا حال و مستقبل میں امت کے امن و استحکام سے وابستہ مفادات میں سے کسی مفاد و مصلحت کے فوت ہونے کا اندیشہ ہونے لگے۔
دوسری بات یہ کہ بعض اہم قراردادیں جو کافی بحث و مباحثہ، طویل گفتگو اور ابتدائی ناکامی کے بعد بڑی مشکل سے پاس ہوتی ہیں، مسلمان حاکم سے ان کا یہ واجبی تقاضا ہوتا ہے کہ عام مسلمانوں سے قطع نظر وہ بذاتِ خود اختلاف کی کھائی کو پاٹنے اور متضاد نظریات کو قریب تر کرنے کی پوری کوشش کرے، تاکہ مسلمانوں کو در پیش اختلافی قرارداد میں شرعی حکم تک لے جا سکے۔
(الأبعاد السیاسیۃ لمفہوم إلا من فی الإسلام: مصطفٰی منجود: صفحہ 317، 318)
زیر بحث مسئلہ میں خلیفہ اور آپؓ کی رائے سے اتفاق نہ کرنے والے صحابہؓ کے درمیان باہمی اظہارِ خیال اور پھر دوران اجتہاد ہر ایک کا شرعی نصوص کو اپنی بات کی تائید میں پیش کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ عام سیاسی قراردادوں کے لیے اظہار خیال اور خاص طور پر مسلمانوں کی مصلحتوں و مفادات سے وابستہ خیالات میں قطعی فیصلہ ان خیالات کے حق میں ہو گا جن پر شرعی نصوص سے دلیل قائم ہو، یا ان سے مستنبط ہونے والے مسائل پر مشتمل دیگر ایسی کتب مصادر سے ان کی دلیل ہو جو اپنے مشتملات و عناصر میں شرعی دلائل ہی پر مبنی ہوں۔
احکام شرعیہ اور تشریعی مصادر کی سمجھ کے لیے خلیفۃ المسلمین کا اسلام میں سبقت لے جانے والے ممتاز علماء صحابہ کی طرف رجوع کرنا، اور پھر صحابہؓ کا پورے خلوص و للہیت سے خلیفہ کی خیر خواہی کے ساتھ اسے جواب دینا اس بات کی طرف خاص اشارہ ہے کہ ممبران مجلس شوریٰ کی مخصوص صفات ہیں جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں۔ پس ممبران کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسلامی فقہ و فہم، ورع و تقویٰ، اور ذکاوت و دانائی سے آراستہ ہوں، اپنے مقام و کردار کے بارے میں صحیح شعور رکھتے ہوں، اس سے بھی واضح و بامعنیٰ تعبیر میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ صرف ہاں میں ہاں ملانے والے نہ ہوں، بلکہ ان کی خصلت یہ ہو کہ حق بات اور صحیح کام کے لیے ڈٹ جانے والے ہوں، اس کے بارے میں حاکم یا غیر حاکم کسی کی ملامت کی پروا نہ کریں اور نہ خوف کھائیں۔
اس مقام پر یہ اہم فائدہ بھی نہ رہ جائے کہ مفتوحہ زمین کی عدم تقسیم سے متعلق قرار داد پاس کراتے ہوئے جو کچھ واقع ہوا اس نے اپنے بعد والوں کے لیے ایک بہترین نمونہ چھوڑا ہے، جسے آدابِ گفتگو کی رعایت کرتے ہوئے حجت کرنے، اخلاقیات کی رعایت کرتے ہوئے معاملات میں بحث و مباحثہ کرنے، اور اس کے مختلف گوشوں پر غور و خوض کرنے میں تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے براہِ راست یا بالواسطہ اسی وقت سے ملحوظ رکھا جب سے قرار داد پاس کرنے کی فکر پیدا ہوئی، اور ان آداب کی رعایت کرنے میں حضرت عمرؓ پیش پیش تھے، باوجودیکہ بیشتر صحابہؓ آپ کی رائے کے مخالف تھے۔
(الابعاد السیاسیۃ لمفہوم إلا من فی الإسلام: مصطفٰی منجود: صفحہ 317، 318)
بلکہ آپؓ نے واضح کر دیا کہ حاکم بھی مجلس شوریٰ کا محض ایک عام فرد ہے اور جس بات کی حقانیت و درستی پر آپؓ کو اعتماد تھا، اسے قرآن مجید کے حوالے سے امت کی مجلس شوریٰ میں اعلان کر دیا، آپؓ نے فرمایا: ’’میں تمہی جیسا تم میں کا ایک فرد ہوں، آج تم حق بات ہی کا فیصلہ کرو گے، جس نے میری مخالفت کی، یا جس نے موافقت کی مجھے کوئی اعتراض نہیں ہمارے ساتھ اللہ کی کتاب ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
(الدور السیاسی: الصفوۃ: صفحہ 175)