سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے زہد و ورع کی مثالیں
علی محمد الصلابیام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے کثرت صیام و قیام اور کثرت جود و سخا کے باوجود اپنی مدح و ثنا سے سخت نفرت کرتی تھیں اور ریا کے خوف سے اگر کسی موقع پر اپنی مدح ہوتے ہوئے سن لیتیں تو کہتیں: ’’کاش! میں بھولی بسری بن جاتی۔‘‘
(مصنف عبدالرزاق: جلد 11 صفحہ 307۔ فضائل الصحابۃ للامام احمد: جلد 1 صفحہ 462، حدیث: 750۔ سنن أبی داؤد، کتاب الزہد: صفحہ 279، حدیث: 318۔ مسند الشامیین للطبرانی: جلد 4 صفحہ 201، حدیث: 3102۔ حلیۃ الاولیاء لابي نعیم: جلد 2 صفحہ 45۔ شعب الایمان للبیہقی: جلد 4 صفحہ 426، حدیث: 791)
اکثر مواقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مشہور شاعر لبید (لبید بن ربیعہ بن مالک ابو عقیل عامری زمانہ جاہلیت و اسلام کے مشہور شاعر ہیں۔ جاہلیت میں مشہور جنگجو اور بہادر سپہ سالار تھے، اپنی قوم کے وفد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا۔ صحیح حدیث میں وارد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کسی شاعر کی سب سے سچی بات لبید کے یہ الفاظ ہیں: ’’خبردار! اللہ تعالیٰ کے علاوہ سب کچھ باطل ہے اور ہر نعمت بہرحال زائل ہونے والی ہے۔‘‘ وہ 41 ہجری میں فوت ہوئے۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 414 ۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 5 صفحہ 6758۔) بن ربیعہ عامری رضی اللہ عنہ کا یہ شعر پڑھا کرتیں:
ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
وَ بَقِیْتُ فِیْ خَلْفٍ کَجِلْدِ الْاَجْرَبِ
’’انسانیت کے ہمدرد و غمگسار تو یکے بعد دیگرے چلے گئے اور میں خارش زدہ جلد کی طرح بدنام لوگوں میں پیچھے رہ گیا۔‘‘
(الخلف: برا جانشین۔ (الصحاح للجوہری: جلد 4 صفحہ 1354۔ دیوان لبید شرح طوسی: صفحہ 55)
نیز سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں:
’’اللہ تعالیٰ لبید پر رحم فرمائے اگر وہ ہمارا زمانہ دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا۔‘‘
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہا کرتے:
’’اللہ تعالیٰ ام المؤمنینؓ پر رحم فرمائے اگر وہ ہمارا زمانہ دیکھ لیتیں تو ان کا کیا حال ہوتا۔‘‘
(کتاب الجامع لمعمر بن راشد: جلد 11 صفحہ 246۔ و التاریخ الاوسط للبخاری: جلد 1 صفحہ 56۔ سنن أبی داؤد، کتاب الزہد: صفحہ 316۔ مصنف عبدالرزاق: جلد 11 صفحہ 246۔ مصنف ابن أبی شیبۃ: جلد 8 صفحہ 514۔ بغیۃ الباحث عن زوائد مسند الحارث للہیثمی لحارث ابن ابی اسامۃ: جلد 2 صفحہ 845 رقم: 895۔ المجالسۃ و جواہر العلم لابی بکر دینوری: جلد 8 صفحہ 143 رقم: 3453۔ معجم الشیوخ للصیداوی: صفحہ 103۔ معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم: جلد 5 صفحہ 2422 رقم: 5924)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کی۔ چنانچہ وہ فرماتی ہیں:
مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صلي اللّٰه عليه وسلم مُنْذَ قَدَمِ الْمَدِیْنَۃَ مِنْ طَعَامٍ بُرِّ ثَلَاثَ لَیَالٍ تَبَاعًا حَتّٰی قُبِضَ۔
(صحیح بخاری: 6454۔ صحیح مسلم: 2970)
’’جب سے ہم مدینہ آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے آپﷺ کی وفات تک کبھی تین دن متواتر گندم کی روٹی سیر ہو کر نہ کھائی۔‘‘
اسی طرح آپ رضی اللہ عنہا یہ بھی فرماتی ہیں:
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب بھی مجھے سیر ہو کر کھانا ملتا تو میں رونا چاہتی تو ضرور روتی اور آل محمد نے کبھی سیر ہو کر نہیں کھایا یہاں تک کہ آپﷺ فوت ہو گئے۔‘‘
(کتاب الزہد للامام احمد: صفحہ 164 ۔ حلیۃ الاولیاء لابی نعیم: جلد 2 صفحہ 46)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف مختلف لوگ عطیات بھیجتے، لیکن آپؓ نے کبھی اپنے لیے ان کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہ دیکھا فوراً وہ انھیں اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتیں اور نہ ہی کبھی اس نے دنیاوی مال و متاع پر بھروسہ کیا اور نہ ہی وہ ان سے مطمئن ہوتیں بلکہ وہ اس سب سے اپنے ہاتھ جھاڑتی تھیں۔ کیونکہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت پائی تھی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پرورش ہی اس نہج پر ہوئی تھی۔ چنانچہ جب آیت تخییر نازل ہوئی:
يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ اِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا فَتَعَالَيۡنَ اُمَتِّعۡكُنَّ وَاُسَرِّحۡكُنَّ سَرَاحًا جَمِيۡلًا ۞ وَاِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالدَّارَ الۡاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡكُنَّ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞ (سورة الأحزاب آیت 28، 20)
ترجمہ: اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہو کہ: اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کی طلبگار ہو تو یقین جانو اللہ نے تم میں سے نیک خواتین کے لیے شاندار انعام تیار کر رکھا ہے۔
تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا انہی سے کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دنیاوی مال و متاع اور اللہ و رسول کے درمیان اختیار دیا کہ وہ اپنی خوشی سے جو بھی اختیار کر لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرصت مہیا کرنے کے لیے پیش کش بھی کی کہ فیصلہ کرنے میں جلدی کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ جاؤ اور اپنے والدین سے بھی مشورہ کر لو کہ اگر انھیں دنیا کی طرف میلان ہو تو اپنے دل میں مخفی رکھنے کی ضرورت نہیں۔ اگرچہ ان کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہ تھی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم جلدی نہ کرو تاکہ اپنے والدین سے مشورہ کر لو۔‘‘ انھوں نے فوراً جواب دیتے ہوئے کہا: کیا اس معاملے میں میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی۔ بے شک میں اللہ اس کا رسول اور دار آخرت چاہتی ہوں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر ازواج نے بھی انہی کی پیروی کی اور جو انھوں نے کہا وہی سب نے کہا۔
(صحیح بخاری: 2468۔ صحیح مسلم: 1479۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ راوی ہیں۔)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے جواب میں کامل صدیقیت نمایاں تھی اور ان کا جواب بلند اخلاق و یقین کا عمدہ نمونہ تھا۔ جیسا کہ اپنے جواب میں انھوں نے سوالیہ انداز میں انکار کرتے ہوئے کہا: کیا میں اس معاملے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں، گویا ان کے انکار میں کافی و شافی جواب تھا اور جواب کے بعد جو وضاحت تھی اس سے ان کے قلبی لگاؤ اور دنیا سے بے رغبتی، ذہانت و فطانت کا نمونہ اور خوبصورت طرز تخاطب جھلکتا تھا۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ساری زندگی زہد و ورع سے عبارت تھی۔ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں انھوں نے اپنے رضاعی چچا کو اپنے گھر نہیں آنے دیا، یہاں تک کہ انھوں نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار نہ کر لیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے قطعاً انھیں اجازت نہیں دی، جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں یہ نہ فرمایا: ’’تمہارے چچا کے تمہارے گھر آنے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘ اس کے باوجود وہ اپنے دل کے مزید اطمینان کے لیے عرض کیا: ’’مجھے عورت نے دودھ پلایا تھا مرد نے تو نہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات کی تاکید کے لیے دوبارہ وہی فرمایا: ’’بے شک وہ تمہارا چچا ہے اور تمہارے پاس آسکتا ہے۔‘‘
(صحیح بخاری: 5239۔ صحیح مسلم: 1445۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔)
ایک دفعہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے تو آپﷺ نے سیدہ عائشہؓ مخاطب کیا کہ مجھے اوڑھنی پکڑا دو۔ تو انھوں نے فوراً کہا، میں حائضہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں۔‘‘
(صحیح مسلم، حدیث: 298۔)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ورع کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ آپ نے ایک چھوٹی بچی کو اپنے پاس آنے سے صرف اس لیے منع کر دیا کہ اس نے گھنگھرو پہنے ہوئے تھے۔ سیدہ عائشہؓ نے فرمایا: جب تک اس کے گھنگھرو نہ کاٹ دو اس وقت تک میرے پاس مت لاؤ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا:
لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَۃُ بَیْتًا فِیْہِ جَرْسٌ
’’اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں (بجنے والی چیز) گھنٹی ہو۔‘‘
(سنن أبی داؤد: 4231۔ مسند احمد: جلد 6 صفحہ 242 حدیث: 26094)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ورع کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ ایک مرتبہ ایک نابینا شخص ان سے کچھ پوچھنے آیا تو انھوں نے حجاب کے پیچھے رہ کر جواب دیا، وہ کہنے لگا: میں تو نابینا ہوں، آپ مجھ سے کیوں پردہ کر رہی ہیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر تم مجھے نہیں دیکھ سکتے تو میں تو تمھیں دیکھ سکتی ہوں۔
(الطبقات الکبری: جلد 8 صفحہ 69۔ اسحاق نابینا سے مروی ہے۔ نیز (السیدۃ عائشۃ ام المومنین و عالمۃ نساء العالمین لعبد الحمید طہماز: صفحہ 171)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ورع کے بابت شریح بن ہانی سے موزوں پر مسح کے ضمن میں مروی ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے متعلق پوچھا تو انھوں نے فرمایا: تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو۔ کیونکہ وہ اس مسئلہ میں مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ چنانچہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی وہی بات بتلائی۔
( صحیح مسلم: 267۔ یہ شریح بن ہانی بن یزید ابو المقدام حارثی ہے۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تو پایا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہجرت کی۔ جنگ جمل کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مشہور کمانڈر اور ان کا حامی تھا۔ یہ 78 ہجری میں فوت ہوا۔ (الاصابۃ لابن حجر: جلد 3 صفحہ 382۔)