فصل: ....[روافض کی کج فہمی] - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل: ....[روافض کی کج فہمی]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 9

فصل: ....[روافض کی کج فہمی]

[کج فہمی]:شیخ الاسلام مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں : بعض روافض کہتے ہیں :کہ﴿اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَاتَخْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا﴾۔[التوبۃ۴۰]’’جب آپ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘کے الفاظ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ایمان ثابت نہیں ہوتا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ صاحب‘‘ رفیق اور ساتھی کو کہتے ہیں ۔ساتھی کبھی ایماندار بھی ہوسکتا ہے ‘ اور کبھی کافر بھی۔[یہ ضروری نہیں کہ وہ ایماندار ہو]۔جیسا قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَ اضْرِبْ لَہُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِہِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰہُمَا بَنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَہُمَا زَرْعًاo کِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُکُلَہَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْہُ شَیْئًا وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَہْمَا نَہَرًاo وَّ کَانَ لَہٗ ثَمَرٌ فَقَالَ لِصَاحِبِہٖ وَ ہُوَ یُحَاوِرُہٗٓ اَنَا اَکْثَرُ مِنْکَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًاOوَ دَخَلَ جَنَّتَۃٗ وَ ہُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ قَالَ مَآ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ ھٰذِہٖٓ اَبَدًا﴾۔....آگے تک....﴿قَالَ لَہٗ صَاحِبُہٗ وَ ہُوَ یُحَاوِرُہٗٓ اَکَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَکَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ [ثُمَّ سَوّٰیکَ رَجُلًا]﴾ (کہف ۳۲۔۳۷)

’’اور ان کے لیے ایک مثال بیان کیجیے، دو آدمی ہیں ، جن میں سے ایک کے لیے ہم نے انگوروں کے دو باغ بنائے اور ہم نے ان دونوں کو کھجور کے درختوں سے گھیر دیا اور دونوں کے درمیان کچھ کھیتی رکھی۔دونوں باغوں نے اپنا پھل دیا اور اس سے کچھ کمی نہ کی اور ہم نے دونوں کے درمیان ایک نہر جاری کر دی۔اور اس کے لیے بہت سا پھل تھاتو اس نے اپنے ساتھی سے، جب اس سے باتیں کررہا تھا، کہا میں تجھ سے مال میں زیادہ اور نفری کے لحاظ سے زیادہ باعزت ہوں ۔اور وہ اپنے باغ میں اس حال میں داخل ہوا کہ وہ اپنی جان پر ظلم کرنے والا تھا، کہا میں گمان نہیں کرتا کہ یہ کبھی برباد ہوگا۔‘‘........’’اس کے ساتھی نے، جب کہ وہ اس سے باتیں کر رہا تھا، اس سے کہا کیا تو نے اس کے ساتھ کفر کیا جس نے تجھے حقیر مٹی سے پیدا کیا، پھرنطفہ کے ایک قطرے سے،[پھر تجھے ٹھیک ٹھاک آدمی کردیا]۔‘‘

[جواب]: ان سے کہا جائے گا: یہ بات معلوم شدہ ہے کہ : ’’صاحب کا لفظ ساتھی اور دوسروں سب کو شامل ہے۔ [اس آیت میں صاحب کا لفظ مطلق ساتھی کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے]۔محض اس لفظ کے استعمال میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ کوئی دوست ہو یا دشمن ؛ یا پھر کافر ہو یا مؤمن ۔یہ صرف اس صورت میں ہوسکتا ہے جب اس کے ساتھ وصف کو بھی ملا کر بیان کیا جائے۔ فرمان الٰہی ہے: ﴿وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وابن السبیل﴾ یہاں پر صاحب کا لفظ بیوی اور رفیق سفر دونوں کے لیے استعمال ہوا ہے؛ اس میں کافر اور مؤمن کی کوئی تمیز نہیں کی گئی ۔اور نہ ہی اس فرق کی کوئی دلیل موجود ہے۔ایسے ہی اللہ تعالیٰ کافرمان ہے: 

﴿وَالنجم اِِذَا ہَوٰی ٭مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰی﴾ [النجم۱۔۲]

’’قسم ہے ستا رے کی جب وہ گرے ! تمھارا ساتھی نہ راہ بھولا ہے اور نہ غلط راستے پر چلا ہے۔‘‘

اوراللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿وَمَا صَاحِبُکُمْ بِمَجْنُوْنٍ ﴾ [التکویر۲۲]

’’اور تمھارا ساتھی ہرگز کوئی دیوانہ نہیں ہے۔‘‘

یہاں پر ساتھی سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔اس لیے کہ آپ نے بشر کی مصاحبت کی تھی۔ بیشک جب آپ لوگوں کے ساتھی تھے؛ اور آپ کے اور لوگوں کی ما بین مشارکت تھی ؛ تو جو وحی آپ لیکر آتے اس کا نقل کرنا ممکن ہوا۔ اورایسے ہی آپ کی جو بات سنتے اس کے معانی سمجھ سکتے۔ بخلاف فرشتہ کے جو کہ ان کے ساتھ نہیں رہا؛ اس لیے کہ لوگوں کے لیے ممکن نہیں تھا کہ براہ راست اس سے تعلیمات اخذ کریں ۔

نیز یہ آیت اس بیان کو بھی متضمن ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان ہی کی جنس سے ایک بشر ہیں ۔ اور اس سے بھی خاص بات یہ ہے کہ آپ عربی ہیں ‘ اور اسی قوم کی زبان میں مبعوث ہوئے ہیں ۔جیساکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ ﴾ [التوبۃ ۱۲۸]

’’(لوگو)تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک پیغمبر آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف انکو گراں معلوم ہوتی ہے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَہُمْ﴾ [ابراہیم۴]

’’ ہم نے ہر نبی کو اس کی قومی زبان میں ہی بھیجا ہے تاکہ ان کے لیے بیان کر دے ۔‘‘

جب آپ ان کی صحبت میں رہے تھے تو ان لوگوں کی زبان بھی سیکھی تھی۔اور آپ کے لیے یہ ممکن تھا کہ ان لوگوں کی زبان میں ان سے بات کرسکیں ۔تو اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں کی طرف ان کی زبان میں ہی رسول بناکر بھیجا تا کہ لوگ آپ کی بات سمجھ سکیں ۔پس اس لحاظ سے یہاں پر صحبت کا ذکر کرنا ان پر مہربانی اور احسان کے باب سے تھا۔ بخلاف اس کے کہ صحبت کی جو اضافت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی گئی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے:

﴿لَاتَخْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا﴾۔ ’’گھبرائیے نہیں ! بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘

صحیح مسلم میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ میرے صحابہ کو گالی نہ دو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! ، اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر دے تو ان کے پاسنگ کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔‘‘[سبق تخریجہ]

جیسا کہ اس حدیث مبارک میں ہے: ’’ اے لوگو! کیا تم میرے لیے میری ساتھی کو نہیں چھوڑو گے۔‘‘اس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطاب میں یا مسلمانوں کے خطاب میں صحبت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مضاف کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے موالات اور دوستی کی صحبت کو متضمن ہے۔یہ دوستی اور موالات آپ پر ایمان لائے بغیر ممکن نہیں ۔پس صحابی کے لفظ کا اطلاق اس انسان پر نہیں ہوسکتا جو سفر میں آپ کا ساتھی بنا ہو اور وہ حالت کفر پر ہو [جیساکہ عبداللہ بن اریقط]۔

صفحہ 1 از 9