فصل:....[سانپ کا واقعہ او رحضرت علی رضی اللہ عنہ ] - ردِ…

فصل:....[سانپ کا واقعہ او رحضرت علی رضی اللہ عنہ ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 4

فصل:....[سانپ کا واقعہ او رحضرت علی رضی اللہ عنہ ]

[اشکال]:گیارہواں واقعہ:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’ علماء کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کوفہ کے منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ ایک سانپ نکلا اور منبر پر چڑھ آیا۔ لوگوں نے ڈر کر اسے مارنا چاہا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے روکا، اس کے ساتھ کچھ بات چیت کی تو وہ منبر پر سے اتر گیا۔ جب لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا تو فرمایا وہ جنوں کا حاکم تھا اورایک پیچیدہ مسئلہ دریافت کرنے آیا تھا۔ میں نے وہ مسئلہ بتادیا جس دروازے سے وہ سانپ داخل ہوا تھا اہل کوفہ اسے باب ثعبان(سانپ والا دروازہ) کہا کرتے تھے۔ بنو امیہ نے یہ نام مٹانے کے لیے اس دروازہ پر عرصہ تک بہت سے مقتولوں کو لٹکائے رکھا، اب لوگ اسے ’’باب القتلیٰ‘‘ (مقتولوں کا دروازہ) کہہ کر پکارنے لگے۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب]:ہم کہتے ہیں :’’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جنات تو ان دوسرے علماء کے پاس بھی مسائل دریافت کرنے کے لیے آتے ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہزار درجہ کم مرتبہ کے ہیں ؛قدیم و جدید دورمیں یہ بات ثابت ہے [اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے، پھر اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کیا خصوصیت ہے] ؟ اگر یہ واقعہ صحیح بھی ہے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ، اس لیے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مقام اس سے بہت بلند تھا،اور یہ آپ کے ادنیٰفضائل میں سے ایک ہوگا۔ اور اگر یہ واقعہ ظہور پذیر نہیں ہوا تو اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عظمت و جلالت میں کوئی قدح وارد نہیں ہوتی۔ایسی کہانیوں نے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل وہی لوگ ثابت کرنا چاہتے ہیں جو آپ سے[ اورعلم سے] بہت دور ہیں ۔رہ گئے وہ لوگ جنہیں اہل علم ودین کی صحبت نصیب ہوئی ہے وہ جانتے ہیں کہ دیگر اہل علم کے اس سے بھی بڑے بڑے واقعات ہیں ۔ یا انہوں نے اس سے بھی بڑی بڑی کرامات ملاحظہ کی ہوتی ہیں ۔ایسی روایت سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔ 

٭ ہم جانتے ہیں کہ وہ صحابہ جوحضرت علی رضی اللہ عنہ سے بہت کم درجہ کے ہیں ‘ لیکن ہم سے وہ درجہ ہا بہتر اوراعلی مقام رکھتے ہیں ۔ جب ایسے واقعات سے ہم جیسے کسی ایک انسان پر بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت نہیں کی جاسکتی تو پھر حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر آپ کی فضیلت کیسے ثابت ہوسکتی ہے۔

مگر اس کا کیا علاج کہ شیعہ کی جہالت ‘ظلم اور اولیاء اللہ متقین سے دوری کی وجہ سے ان کے پاس کوئی قابل اعتماد کرامت موجود نہیں ہے۔بلکہ ان کے علمی افلاس کی حالت یہ ہے کہ جب کسی خارق عادت واقعہ کا سنتے ہیں تو اس کی اس طرح تعظیم کرتے ہیں جیسے کسی قلاش انسان چند ٹکے مل جائیں تو ان کی تعظیم کرتا ہے۔اور بھوکے کو روٹی کے ٹکڑے مل جائیں تووہ انہیں بہت بڑا جانتا ہے۔

رافضی اپنی جہالت اور اولیاء اللہ متقین کی راہ اورتقوی الٰہی سے دوری کی وجہ سے کرامات اولیاء میں اپناکوئی حصہ ومقام نہیں رکھتے ۔ اسی لیے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس قسم کی من گھڑت کہانیاں سنتے ہیں تو یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ بات صرف انسان میں ہوسکتی ہے جو ساری مخلوق میں سب سے افضل ہو۔بلکہ مذکورہ بالا خوارق ہی نہیں بلکہ اس سے بڑی بڑی خرق عادات امت محمدیہ کے بہت سارے ایسے لوگوں کو حاصل ہیں جن سے ابوبکرو عمر و عثمان و علی رضی اللہ عنہم ہزاردرجہ افضل ہیں ۔جو کہ ان تمام صحابہ کرام سے محبت کرتے اور دوستی رکھتے ہیں ۔ اور جن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے تقدیم بخشی ہے وہ ان کو مقدم جانتے ہیں ۔خصوصاً وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مقام ومرتبہ سے اچھی طرح واقف ہیں ؛ اور انہیں باقی تمام صحابہ پر مقدم سمجھتے ہیں ۔اس لیے کہ اس امت میں آپ کو تقوی اور ولایت الٰہی میں بہت خاص مقام حاصل تھا۔[ ٭....جو شخص صلحاء و اولیاء سے صدور کرامات کا انکار کرتا ہے، وہ مکابرہ کا ارتکاب کرتا ہے، مگر تقویٰ کا انحصار کرامات پر نہیں ، جو شخص زیادہ متقی ہو اﷲ کے نزدیک زیادہ باعزت وہی ہے اگرچہ اس سے ایک کرامت بھی صادر نہ ہوئی ہو۔]

عقلمند انسان ان طرق کو جانتا ہے۔اوروہ یہ علم یا توصالحین کے واقعات و کرامات پر تحریر کردہ کتابوں کامطالعہ کرنے سے حاصل کرسکتا ہے ؛ جیسے : کرامات الاولیاء أز ابن ابی الدنیا؛ کتاب الخلال ؛ ابوبکر اللالکائی کی تصنیف؛اور ان کے علاوہ دیگر کتابیں ۔یا جو کچھ صالحین کے واقعات ابو نعیم کی کتاب ’’الحلیۃ ‘‘ اور ابن جوزی کی صفوۃ الصفوۃ اور دوسری کتابوں میں ہیں ۔

یا پھر وہ خود براہ راست اس کا مشاہدہ بھی کرسکتا ہے۔ یا پھر کسی سچے انسان کے خبر دینے سے بھی اسے معلوم ہوسکتا ہے۔لوگوں کے سامنے ہر دور میں اس قسم کے بہت سارے واقعات پیش آتے رہتے ہیں ۔ اورلوگ انہیں آپس میں ایک دوسرے کے سامنے بیان بھی کرتے ہیں ۔اور ایسا اکثر و بیشتر ہوتا رہتا ہے۔ یا پھر کسی انسان کے ساتھ خود بھی اس قسم کا کوئی واقعہ پیش آسکتا ہے۔

یہ حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کے لشکر اور ان کی عوام و رعیت ہیں ۔ ان کی کراما ت اس سے بھی کہیں بڑی ہیں ۔مثال کے طور پر حضرت علاء حضرمی رحمہ اللہ کا سمندر عبور کرنا۔اس کا ذکر پہلے گزر چکاہے۔سمندر کا پار کرنا پانی کے خشک ہوجانے سے بڑی کرامت ہے۔ اور مثال کے طور پر آپ کی اللہ تعالیٰ سے پانی طلب کرنے کے لیے دعا۔ اور قادسیہ کے واقعہ میں گائے کا حضرت سعد بن ابی وقاص سے کلام کرنا۔ اورحضرت عمرکا یا ساری الجبل کی آواز لگاناحالانکہ آپ اس وقت مدینہ میں تھے اورساریہ نہاوند میں تھے۔اورجیسے حضرت خالد بن ولید کا زہر پی جانا۔اورمثلا ابو مسلم خولانی کو آگ میں ڈالا جانا۔آگ آپ پر ٹھنڈی اورسلامتی والی ہوگئی تھی۔یہ اس وقت کا قصہ ہے جب اسود عنسی کذاب جھوٹی نبوت کا دعویدار یمن پر غالب آگیا تھا۔ابومسلم خولانی نے اس پر ایمان لانے سے انکار کردیا تھا لہٰذا اس نے آپ کو آگ میں ڈالدیا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ نے اس آگ کو ٹھنڈی اور سلامتی والی بنادیا۔ جب آپ اس آگ سے نکلے تو اپنی پیشانی کو پونچھ رہے تھے۔ان کے علاوہ بھی اتنے واقعات ہیں جن کے بیان کرنے کا یہ موقع نہیں ۔

صفحہ 1 از 4