واجب الاتباع مذہب کے بیان میں - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

واجب الاتباع مذہب کے بیان میں

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3

واجب الاتباع مذہب کے بیان میں 

دوسری فصل :....کون سا مذہب واجب الاتباع ہے؟

شیعہ مصنف ابن المطہر نے جو مضمون ذکر کیا ہے اس میں کہا ہے کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد لوگوں کا آپس میں اختلاف ہوا؛ تو حق پر غور کرنا اور عدل وانصاف سے کام لینا واجب ہو گیا تھا۔ امامیہ کا مذہب چار وجوہات کی بنا پر واجب الاتباع ہے۔اس لیے کہ یہی مذہب حق پر ہے ۔ اورسب سے سچا مذہب ہے ۔ کیونکہ اصول عقائد میں ان کا مسلک تمام اسلامی فرقوں سے جداگانہ نوعیت کا حامل ہے۔ اس لیے بھی کہ وہ اپنی نجات اخروی کا کامل یقین رکھتے ہیں ۔ ان کا دین ائمہ معصومین سے ماخوذ ہے۔شیعہ مصنف کے یہی الفاظ ہیں :

رافضی کہتا ہے:جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کے بعد مصیبت عام ہوگئی اور لوگ اختلاف کا شکار ہوگئے ؛ان کی خواہشات نفس کے مطابق ان کے فرقے بھی متعدد ہوگئے۔[[ امامیہ کے علاوہ دیگر فرقے مختلف الخیال ہیں اور ان کے طرز فکرو نظر میں بڑا اختلاف پایا جاتا ہے، چنانچہ درج ذیل افکار و آراء سے اہل سنت کے تغایر و تخالف کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے]]:

۱۔اہل سنت میں سے بعض لوگ بلا استحقاق امارت و خلافت کے طلب گار تھے۔ اور اکثر لوگ محض دنیا طلبی کے نقطہ خیال سے ان کے پیرو بن گئے تھے۔ مثلاً عمر بن سعد بن مالک[جوکہ کچھ عرصہ کے لیے بلاد رے کا حاکم رہ چکا تھا] [مالک کی کنیت ابو وقاص تھی، یہ مشہور صحابی فاتح عراق حضرت سعد رضی اللہ عنہ یکے از عشرہ مبشرہ کے والد تھے۔] ؛کو جب یہ اختیار دیا گیا کہ اگر چاہے تو امام حسین رضی اللہ عنہ کے خلاف نبرد آزما ہو اور اگر چاہے تو جنگ سے کنارہ کشی اختیار کر لے؛ تو اس نے لڑنا پسند کیا۔ حالانکہ وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے قاتل جہنمی ہیں ۔ چنانچہ وہ خود کہتا ہے:

(۱) فَوَ اللّٰہِ مَا اَدْرِیْ وَانِّیْ لَصَادِقٌ، اُفَکِّرُ فِیْ اَمْرِیْ عَلٰی خَطَرَیْنِ

’’اللہ کی قسم! میں سچ کہتا ہوں کہ میں دو خطرات کے بارے میں سوچ بچار کر رہا ہوں اور مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔‘‘

(۲) اَاَتْرُکُ مُلْکَ الرَّیِّ وَالرَّیُّ مُنْیَتِیْ ، اَوْ اُصْبِحُ مَا ثُوْمًا بِقَتْلِ حُسَیْنِ

’’آیا میں رے کی سلطنت چھوڑ دوں حالانکہ یہ میری دلی تمنا ہے یا قتل حسین کے گناہ کا مرتکب ٹھہروں ۔‘‘

(۳) وَفِیْ قَتْلِہِ النَّارُ الَّتِیْ لَیْسَ دُوْنَہَا، حِجَابٌ وَّلِیْ فِی الرَّیِّ قُرَّۃُ عَیْنِیْ

’’سیدنا حسین کے قتل کی سزا وہ آگ ہے جس میں کوئی پردہ حائل نہیں اور رے کی حکومت میرے لیے فرحت و سرور کی موجب ہے۔‘‘

۲۔ بعض اہل سنت شبہات کا شکار ہو کر دنیا دار لوگوں کے پیچھے چلنے لگے تھے۔ کوتاہ بینی کی بنا پر انہیں حق تک رسائی حاصل نہ ہو سکی، اور اللہ تعالیٰ کی گرفت کے مستوجب ٹھہرے۔اس لیے کہ انہوں نے غور وفکر نہ کرکے یہ حق غیر مستحق کے سپرد کردیا تھا۔

۳۔ بعض لوگ کوتاہ فہمی کی بنا پر مقلد محض ہوکر رہ گئے اور لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر یہ سمجھے کہ شاید کثرت افراد حق و صداقت کی علامت ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ انہی کی بیعت کر بیٹھے اور اس آیت کو یکسر نظر انداز کر دیا:

﴿ وَقَلِیْلٌ مَّا ہُمْ ﴾

’’وہ (حق پرست) کم ہی ہوتے ہیں ۔‘‘(ص۲۴)

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ﴾ [سباء۱۳]

’’’ اور میرے بندوں میں سے بہت ہی کم شکر گزار ہوتے ہیں ۔‘‘

۴۔ بعض لوگ حق کی بنا پر امارت و خلافت کے طالب تھے، چنانچہ قلیل التعداد بااخلاص مسلمانوں کی ایک جماعت نے جنھیں دنیوی زیب و زینت سے کچھ سرور کار نہ تھا؛ اور جنہیں اللہ کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی ہر گزکوئی پرواہ نہیں تھی۔بلکہ انہوں نے اخلاص کیساتھ ان کی اطاعت کا اقرار کر لیا جو تقدیم کے مستحق تھے ؛اور ان کے اوامر و احکام کی اطاعت کرنے لگے۔ جب مسلمان اس آزمائش کا شکار ہوئے ؛توہر ایک پر واجب ہوتا تھا کہ وہ حق میں غور وفکر کریں ۔اور انصاف کا سہارا لیں ۔اور حق کو اس کی جگہ پر رکھا جائے اور مستحق پر ظلم نہ کیا جائے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

﴿ اَلَا لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظَّالِمِیْنَ﴾ (ہود:۱۸)

’’آگاہ ہو جاؤ ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہے۔‘‘

ان وجوہات کی بنا پر امامیہ کا مذہب واجب الاتباع ٹھہرا۔‘‘[شیعہ مصنف کا بیان ختم ہوا]۔

[شیعہ مصنف کے نظریات پر رد:]

ان سے کہاجائے گا کہ: شیعہ مصنف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کو چار فرقوں میں تقسیم کیا ہے، حالانکہ یہ صریح قسم کی دروغ بیانی ہے۔ اس لیے کہ معروف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک فرد و احد بھی ان اقسام چہار گانہ سے وابستہ نہ تھا۔ چہ جائے کہ صحابہ میں ان چہار اقسام کے علاوہ کوئی اور قسم بھی نہ ہو۔

بلا استحقاق طالب خلافت سے شیعہ مصنف کے زعم میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حق کی بنا پر طالب خلافت سے حضرت علی رضی اللہ عنہ مراد ہیں ۔ یہ دونوں کے حق میں صاف جھوٹ ہے۔اس لیے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل سے قبل کبھی اپنے لیے خلافت و امارت کا مطالبہ نہیں کیا۔ اور نہ ہی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کبھی خلافت و امارت کا مطالبہ کیا؛ چہ جائے کہ وہ ناحق اس پر قبضہ کرلیتے۔

باقی ماندہ دو قسموں میں سے پہلی قسم کے وہ لوگ شمار کئے ہیں جو طلب دنیا کے لیے دوسروں کی تقلید کا دم بھرتے تھے۔ اور دوسرے وہ جو کوتاہ بینی کے پیش نظر دوسروں کے پیرو تھے۔

حق کی معرفت حاصل کر کے اس کی پیروی کرنا انسان کا فرض ہے۔ یہی وہ صراط مستقیم ہے ‘جو کہ ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے اپناانعام کیا۔ان میں انبیاء کرام علیہم السلام ؛ صدیقین ؛ شہداء اور صالحین شمار ہوتے ہیں ۔ ان لوگوں کاراستہ نہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا اور نہ ہی ان لوگوں کا راستہ جو راہ ِ حق سے گمراہ ہوئے اور اس راہ سے بھٹک گئے جس راہ کی طرف ہدایت ملنے کی دعا ہم ہر نماز کی ہر رکعت میں کرتے ہیں ۔ صحیح سند کیساتھ ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

صفحہ 1 از 3