حجۃ الاسلام، قاسم العلوم والخیرات حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہ (متوفی 1297ھ) نے امت کو روافض کے شر و مکر سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی معروف کتاب ہدیۃ الشیعہ میں کتاب اور اس کے مصنف کے قابلِ قبول ہونے کی چھ شرطیں تحریر فرمائی ہیں۔ ان اصولوں کی کسوٹی پرکھ کر ہمیں روافض اور ان سے متاثرین کے دیے گئے حوالوں کی جانچ کرنی چاہیے۔ اگر وہ حوالہ ان اصولوں کے مطابق درست ہو تو بے سرو چشم قبول، ورنہ وہ مردود و باطل سمجھا جائے گا۔ حضرت حجۃ الاسلام قدس سرہ فرماتے ہیں:
اول، بطورِ تنبیہ یہ گزارش ہے کہ کتابیں آدمیوں ہی کی تصنیف ہوتی ہیں۔ جیسے آدمی سب طرح کے ہوتے ہیں جھوٹے، سچے، معتبر، غیر معتبر، فہمیدہ، غیر فہمیدہ ایسے ہی کتابیں بھی سب طرح کی ہوتی ہیں۔ ملحدانِ بے دین نے بہت سی کتابیں تصنیف کر کے اچھے اچھے بزرگوں کے نام لگا دیے ہیں اور ان میں اپنے واہیات سینکڑوں بھر دیے ہیں۔ اور جو کتابیں کہ کبرائے اہلِ سنت کی تصنیف ہیں، ان میں سے بھی اکثر ایسی ہیں کہ وہ لوگوں کی فیض رسانی کے لیے تصنیف نہیں ہوئیں، بلکہ بطورِ بیاض کے جمع کی گئیں، تاکہ نظرِ ثانی کر کے ان کی روایات کا حال معلوم کریں۔ اتفاق سے نظرِ ثانی کا اتفاق نہ ہوا یا اور کسی وجہ سے وہ بیاضیں لوگوں کے پلے پڑ گئیں۔ اور بعض کتابیں ایسی ہیں کہ وہ بہت کمیاب اور بدرجۂ غایت نادر الوجود، بلکہ بمنزلہ مفقود ہیں، اور وہ ملحدوں اور مبتدعوں کے ہاتھ لگ گئیں ہیں۔ انہوں نے اپنی گھڑی ہوئی روایتیں ان میں داخل کر دیں ہیں، یا اہلِ سنت کے مقابلے کے وقت کسی روایت کو ان کتابوں کی طرف منسوب کر دیتے ہیں، تاکہ اہلِ سنت خاموش ہو جائیں۔ سو اہلِ تشیع اکثر ایسا ہی کرتے ہیں اور ایسی ہی کتابوں کا حوالہ دیا کرتے ہیں۔ اس لیے اہلِ حق کو لازم ہے کہ جب کسی شیعہ یا شیعہ نواز ناقل سے کسی کتاب کا حوالہ سنے تو اول یہ دریافت کرے کہ یہ روایت اس کتاب میں ہے کہ نہیں؟ دوسرے اس کتاب کا حال تحقیق کرے کہ معتبر ہے کہ نہیں؟ اور معتبر ہونے کی یہ صورت ہے کہ کسی کتاب کی روایات کے معتبر ہونے میں چند باتیں ضروری ہیں:
پہلی شرط:اول تو یہ کہ اس کتاب کے مصنف کو تفریحِ طبائعِ محزونہ کے لیے فقط قصہ گوئی اور افسانہ خوانی میں نظر نہ ہو، بلکہ واقعاتِ واقعی کے مشتاقوں کی تسکین کے لیے اس کتاب کو تصنیف کیا ہو۔ ورنہ چاہیے کہ بہارِ دانش اور بوستانِ خیال کے افسانے اور چہار درویش اور بکاؤلی کہانیاں اور فسانہ عجائب اور فسانۂ غرائب کے طوفان سب کے سب دستاویزِ خاص و عام ہو جائیں۔
دوسری شرط:دوسرے یہ کہ مصنفِ کتاب کسی کی رو رعایات اور کسی سے بغض و عداوت نہ رکھتا ہو، اور اس کا حفظِ اخبار اور صدقِ گفتار اس درجے کو مشہور ہو کہ اس کی تحریر کی نسبت کسی کے دل میں شک و شبہ نہ ہو۔ ورنہ طومار کے طومار اخباروں کے، لڑکیوں کی زبانوں میں اپنے بزرگوں کی شجاعت اور ان کی غنیموں کی بزدلی سے مشحون ہوا کرتے ہیں، بالاتفاق مسلّم ہو جائیں؟ اور یہ جو زبان زدِ خاص و عام ہے کہ اخباروں کا کیا اعتبار؟ ایک حرف بے جا اور عقیدہ ناسزا ہو جائے، اور شیعہ سنیوں کی، اور سنی شیعوں کی سندیات بے سرو چشم رکھنے لگیں، اور ہر کس و ناکس کی بات قبول کرنے لگیں، اور یہ فرقِ قوت و ضعف، حفظ و تفاوت، صدق و کذب اور علیٰ ہٰذا القیاس، یہ تہمتِ رو و رعایت اور کینہ و عداوت ہرگز قابلِ لحاظ نہ رہے۔
تیسری شرط: تیسرے یہ کہ مصنفِ نام کتاب، باوجودِ صدق و دیانت اور حفظ و عدالت کے، اس فن میں جس فن کی وہ کتاب ہے، دستگاہِ کامل اور ملکۂ کما ینبغی رکھتا ہو، نہ یہ کہ دین میں، مثلاً یہ کہ نیم ملا ہو، جس سے خطرۂ ایمان ہو، یا طب میں، مثلاً نیم طبیب ہو، کہ بیماروں کو خطرۂ جان ہو۔
چوتھی شرط: چوتھے یہ کہ وہ کتاب، باوجودِ شرائطِ مذکورہ کے، قدیم سے مشہور و معروف اور ایسے قسم کے لوگوں کے واسطے سے جو مجموعہ اوصافِ مرقومہ ہوں، دست بدست ہم تک پہنچی ہو۔ ورنہ لازم آئے گا کہ انجیل اور تورات جو کلامِ ربانی ہیں، ہمیں اس خدا کی تصنیف ہیں جو بوجہ اتم جامعِ اوصافِ مذکورہ، کیا مجموعۂ جمیعِ صفاتِ کمال اور معدنِ جملہ کمالاتِ جلال و جمال ہے، اعتبار و اعتماد میں ہم پلہ قرآنِ مجید اور فرقانِ حمید کے ہو جائیں؟
پانچویں شرط: پانچویں یہ کہ روایت کی کتاب میں اعتبار کے لیے ضروری ہے کہ مصنفِ کتاب نے اول سے التزام اس بات کا بھی کیا ہو کہ بجز صحیح روایتوں اور محقق حکایتوں کے اور روایتیں اپنی کتاب میں درج نہ کروں گا، جیسے کہ صحاحِ ستہ، کہ ان کے مصنفین نے یہ شرط کر لی ہے کہ بجز صحیح روایت کے انہیں کتاب میں درج نہ کریں گے۔ اسی واسطے سے ان کی کتاب کا نام صحاحِ ستہ مشہور ہو گیا۔ سو اگر کوئی کتاب کسی کی بیاض ہو، کہ اس نے اس میں ہر قسم کی رطب و یابس روایتیں اور صحیح غلط حکایتیں اس غرض سے فراہم کر لی ہیں کہ بعد میں نظرِ ثانی کر کے صحیح کو قائم رکھ کر باقیوں کو نقل کے وقت حذف کر دوں گا، جیسا کہ امام بخاریؒ اور امام مسلم رحمۃ اللہ نے کیا، یا صحیح کو صحیح بتلا کر موضوع یعنی بنائی ہوئی باتوں اور گھڑی ہوئی حکایتوں اور ضعیف وغیرہ کو لکھ کر اس کے بعد لکھ جاؤں گا کہ یہ موضوع ہے یا ضعیف ہے، مثلاً جیسے امام ترمذیؒ نے کیا۔ لیکن اتفاقات نے تقدیر سے ان کا یہ ارادہ پیش نہ کیا اور یہ آرزو پوری نہ ہونے پائی، جی کی جی ہی میں تھی کہ اجل نے آ دبایا، تو ایسی کتاب کا ہرگز اعتبار نہ ہو گا۔ ورنہ کون سا مصنف ہے کہ اس نے اول ایک مجموعہ بیاض بطورِ کلیات کے فراہم نہیں کیا؟ امام بخاری رحمۃ اللہ سے بہت کی سندوں سے منقول ہے کہ انہوں نے چھ لاکھ حدیثوں سے چھانٹ کر بخاری شریف کی حدیثیں نکالی ہیں، اور عبدالرزاق بخاریؒ کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاریؒ نے کوئی تین دفعہ حدیثوں کی بیاض اکٹھی کی تھی، چھانٹ کر بخاری شریف کا مسودہ کیا تھا۔ چنانچہ یہ مضمون بخاری شریف، مطبوعہ دہلی، مطبع احمدی کے مقدمے کی دوسری اور تیسری فصل میں مندرج ہے۔
بہرحال ایسی بیاضوں کا جمع کرنا ایسے ایسے ائمہ حدیث کی نسبت بھی ثابت ہے۔ سو اگر اتفاق سے امام بخاری رحمۃ اللہ، مثلاً بعدِ فراہمِ بیاض کے، قبل اس کے کہ بخاری شریف کی حدیثیں اس میں سے چھانٹ کر بخاری تصنیف کریں، اس دارِ فانی سے کوچ کر جاتے، تو گو وہ بیاض امام بخاریؒ ہی کی تصنیف سمجھی جاتی، لیکن کوئی بتائے تو کیا وہ قابلِ اعتبار ہو جاتی؟ سب جانتے ہیں کہ اگر وہ ایسی ہوتی تو امام بخاریؒ کو چھانٹنے کی کیا ضرورت تھی؟ تو اس صورت میں امام بخاریؒ ہی اس بات کے گواہ ہیں کہ وہ میری بیاض قابلِ اعتبار نہیں۔ پھر ہم کیونکر فقط اس سبب سے اس کا اعتبار کرنے لگیں کہ وہ ایسے بڑے امام المحدثین کی تصنیف ہے کہ جہاں میں نہ کوئی ثانی ان کا ہوا ہے نہ ہو گا۔ غرض اگر کوئی کتاب اس قسم کی کسی کو مل جائے اور اس کے مصنف کو کتنا ہی بڑا محدث کیوں نہ ہو، اس کی تہذیب اور تالیف کا اتفاق نہ ہوا ہو، تو وہ کتاب کسی طرح علماء کیا، جہال کے نزدیک بھی شہادتِ عقل قابلِ اطمینان نہیں۔ بہرحال یہ نکتہ محفوظ رکھنا چاہیے کہ بسبب اس کے ملحوظ رہنے کے اکثر عالم نام سے گرفتارِ دامِ اوہام ہو جاتے ہیں، چہ جائیکہ جاہل۔
چھٹی شرط: چھٹے یہ کہ اگر چند روایتیں باہم مختلف ہوں اور پھر اختلاف بھی حدِ تضاد یا تناقض کو پہنچ جائے، دونوں کا صحیح ہونا فقط مستحیل ہی نہ ہو، تو پھر ترجیح باعتبارِ قوتِ سند ہی کے ہو گی۔ ورنہ لازم ہے کہ شیعوں کے نزدیک روایاتِ شیعہ اور روایاتِ اہلِ سنت جو مخالفِ روایاتِ شیعہ ہیں، دونوں صحیح ہوں۔
(ہدیۃ الشیعہ: صفحہ 255، 258 تحت: کتاب و مصنفِ کتاب کے قابلِ قبول ہونے کی چھ شرطیں)
حضرت حجۃ الاسلام قدس سرہ آگے اس سلسلے میں کلام فرماتے ہیں:
القصہ، دعا بازانِ شیعہ کی یہ چالاکی کتبِ غیر مشہورہ میں چل گئی۔ اسی واسطے علمائے اہلِ سنت ان کتب کو ہم سنگِ تورات و انجیل سمجھتے ہیں اور ان کی روایات کو معتبر نہیں رکھتے۔ ہاں! ان کی روایات کو روایاتِ صحاحِ ستہ و دیگر کتبِ صحاحِ مشہورہ پر پیش کر کے جو مطابق نکلے اس کو بے سرو چشم رکھتے ہیں، اور جو مخالف نکلے اس کو ملحدانِ بدعت کیش، دروغ پیشہ و خوارج وغیرہ کے سر مارتے ہیں۔ اور جو روایات خلاف وفاق سے برطرف ہو، اگر دلائلِ عقلیہ کے مخالف ہو تو اس کا بھی یہی حال ہے، ورنہ اگر تکذیب نہیں کرتے تو تصدیق بھی نہیں کرتے۔ بہرحال جو روایت کہ ان کتب میں بلا شرکتِ غیرے بھی پائی جائے، اگر روایتِ صحاح کے مخالف بھی نہ ہو تو تب بھی قابلِ تمسک اور لائقِ حجت نہیں سمجھتے، اور مثلِ مرویاتِ اہلِ کتاب، بلکہ خود انجیل و تورات، نہ ان کی تصدیق کرتے ہیں نہ تکذیب۔
(ایضاً، صفحہ 260، 261، تحت: اہلِ سنت کا نظامِ حفاظت)