Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شعر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پختہ ارادہ کو نرمی اور شفقت میں بدل دیتا ہے

  علی محمد الصلابی

امیہ بن اسکر کنانی نام کا ایک آدمی تھا، وہ اپنی قوم کے بزرگوں میں سے تھا، اس کا ایک لڑکا تھا جس کا نام کلاب تھا، اس نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مدینہ ہجرت کی تھی، اور وہیں کافی دنوں تک مقیم رہا تھا، ایک دن اس کی ملاقات طلحہ بن عبید اللہ اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما سے ہو گئی، اس نے ان دونوں سے پوچھا کہ اسلام میں کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ اس کو بتایا گیا کہ جہاد، چنانچہ اس نے حضرت عمرؓ سے اہلِ فارس سے جنگ کے لیے جانے والی فوج میں جہاد کے لیے شرکت کی اجازت مانگی۔ یہ سن کر امیہ اٹھ کھڑا ہوا اور حضرت عمرؓ سے کہا: 

امیر المؤمنین! یہ دن ہماری زندگی کے کٹھن دن ہیں، اور اگر میرا بڑھاپا نہ ہوتا تو۔ لیکن یہ سنتے ہی اس کا عابد و زاہد بیٹا کلاب عمرؓ کے سامنے آکھڑا ہوا، اور کہا: لیکن میں، اے امیر المؤمنین! اپنی جان کو فروخت کر دوں گا، اور دنیا کے بدلے آخرت خریدوں گا، ایک کھجور کے سائے میں اس کا باپ کھڑا تھا وہ اپنے بیٹے سے چمٹ گیا اور کہا: اپنے کمزور والدین کو چھوڑ کر مت جاؤ، ہم نے بچپن میں تمہاری پرورش کی، اور جب ہمیں تمہاری ضرورت پڑی تو تم ہمیں چھوڑ کر جا رہے ہو؟ کلاب نے کہا: ہاں، میں ان سے بہتر پانے کے لیے ان کو چھوڑ رہا ہوں، اور پھر اپنے باپ کو راضی کر کے جہاد پر نکل گیا، باپ تھوڑی دیر کھجور کے درخت کے نیچے ساکت کھڑا رہا، اتنے میں دیکھا کہ ایک کبوتری اپنے چوزوں کو بلا رہی ہے، یہ منظر دیکھ کر بوڑھا باپ رونے لگا، اور بوڑھی ماں بھی رونے لگی، پھر بوڑھے باپ نے یہ اشعار کہے:

لمن شیخان قد نشدا کلابا

کتاب اللہ لو قبل الکتابا

’’دونوں بوڑھوں کا سہارا کون ہو گا! ان دونوں نے کلاب کو اللہ کی کتاب کا واسطہ دیا، کاش وہ کتاب الہٰی کی بات مان لیتا!‘‘

أنا دیہ فیعرض فی إباء فلا

وأبی کلاب ما أصابا

’’میں نے اسے پکارا، لیکن اس نے اعراض کرتے ہوئے انکار کر دیا، قسم ہے میرے باپ کی، کلاب اپنے فیصلہ میں صائب نہیں تھا۔‘‘

لذا ہتفت حمامۃ بطن وج

علی بیضاتہا ذکرًا کلابا

’’اسی لیے جب وادی ’’وج‘‘ کی کبوتری نے اپنے چوزوں کو کوکو کہہ کر بلایا تو ان دونوں نے کلاب کو یاد کیا۔‘‘

فإن مہاجرین تکنفاہ

ففارق شیخہ خطاً و خابا

’’دو مہاجروں نے اس کو پالا پوسا اور حفاظت میں رکھا، لیکن اس نے غلطی کرتے ہوئے اپنے بوڑھے والدین کو داغ مفارقت دے دیا، اور خسارے میں رہا۔‘‘

ترکت أباک مرعشۃ یداہ

وأمک ما تسیغ لہ شرابا

’’تو اپنے باپ سے اس حال میں جدا ہوا کہ اس کے دونوں ہاتھ کانپ رہے ہیں، اور تیری ماں کو پانی کا ایک گھونٹ بھی اچھا نہیں لگتا۔‘‘

تنفض مہدہ شفقًا علیہ

وتجنبہ أبا عرہا الصعابا

’’ماں اپنی مامتا سے اس کے بچپن کو خوشگوار کرتی رہی اور اسے اپنے اونٹوں کے خطرات و مشکلات سے بچاتی رہی۔‘‘

فإنک قد ترکت أباک شیخًا

یطارق أینقًا شربًا طرابا

’’تو نے اپنے باپ کو اس وقت داغ مفارقت دیا جب کہ وہ بوڑھا ہو گیا ہے اور رنج و غم کا قصیدہ پڑھتے ہوئے کمزور اونٹوں کو ہانکتا ہے۔‘‘

إذا ارتعشن أرقا لًا سراعًا

أثرن بکل رابیۃ ترابا

’’جب وہ اونٹ کمزوری سے ڈگمگاتے ہوئے تیزی سے چلتے ہیں تو ہر ٹیلے سے گرد و غبار اڑاتے ہیں۔‘‘

طویلًا شوقہ یبکیک فردًا

علی حزن ولا یرجو الإ یابا

’’اس سے ملنے کی شدید خواہش رنج و غم کی وجہ سے تنہائی میں تجھے رلاتی ہے، اور اب وہ باپ اس کلاب کے لوٹنے کی امید نہیں رکھتا۔‘‘

فإنک والتماس الأجر بعدی

کباغی الماء یتبع السرابا

(عمر بن الخطاب: دیکھئے محمد أبوالنصر: صفحہ 226)

’’تو اور میرے بعد ثواب کی جستجو کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کہ پیاسا آدمی سراب کے پیچھے دوڑتا ہے۔‘‘

 امیہ اندھا ہو چکا تھا، اس کا راہبر اس کا ہاتھ پکڑ کر حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس لایا، اس وقت آپؓ مسجد میں تشریف فرما تھے، اس نے وہاں یہ شعر سنائے:

أعاذل قد عذلت بغیر علم

وما تدرین عاذل ما ألاقی

’’اے ملامت کرنے والی! تو نے بغیر علم کے ملامت کی، کوئی ملامت کرنے والی کیا جانے کہ مجھ پر کیا گزر رہی ہے۔‘‘

فأما کنت عاذلتی فردی

کلابًا إذ توجہ للعراق

’’اگر تو مجھے ملامت کر رہی ہے تو کلاب کو میرے پاس لوٹا دیتی، جب کہ وہ عراق کی طرف جا رہا تھا۔‘‘

ولم أقض اللبانۃ من کلاب

غداۃ غد و اذن بالفراق

’’میں نے کلاب سے ابھی کل تک کوئی ضرورت پوری نہیں کی تھی کہ اس نے ہمیں جدائی کا پیغام دے دیا۔‘‘

فتی الفتیان فی عسر ویسر

شدید الرکن فی یوم التلاقی

’’سختی اور آسانی دونوں حالتوں میں جوانوں کا ایک جوان تھا اور جنگ کے موقع پر مردِ آہن تھا۔‘‘

فلا وأبیک ما بالیت وجدی

ولا شفقی علیک ولا اشتیاقی

’’تیرے باپ کی قسم تو نے میرے جذبات کی پروا نہ کی، اور نہ میری شفقت پدری اور شوق ملاقات کی پروا کی۔‘‘

وإیفادی علیک اذا شتونا

وضمک تحت نحری واعتناقی

’’اور ٹھنڈ کے موسم میں میں نے تجھ کو جو گرمی پہنچائی اور تجھے سینے اور گلے سے لگایا کسی چیز کی تو نے پروا نہیں کی۔‘‘

فلو فلق الفؤاد الشدید وجد

لہم سواد قلبی بانفلاق

’’پس اگر ملاقات کا شدید احساس دل کو پھاڑنے لگے تو میرے دل کا سیاہ نقطہ بھی پھٹ جانا چاہتا ہے۔‘‘

سأستعدي علی الفاروق ربًّا

لہ دفع الحجیج إلی بساق

’’میں عمر فاروق کے خلاف اپنے رب سے مدد طلب کروں گا، وہی جبل عرفات تک حاجیوں کو لے جانے والا ہے۔‘‘

وأدعو اللہ مجتہدًا علیہ

ببطن الأخشبین إلی دقاق

’’مکہ کے دونوں اخشب پہاڑوں کے درمیان کہیں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے پوری طاقت سے عمر کے لیے بد دعا کروں گا۔‘‘

إن الفاروق لم یردد کلابًا

علی شیخین ہا مہما زواق

’’اگر عمر فاروق نے کلاب کو اس کے بوڑھے والدین کے پاس جو مرنے کے قریب ہیں واپس نہ لوٹایا۔‘‘

سیدنا عمرؓ یہ سن کر بہت روئے، اور ابو موسیٰ اشعریؓ کو حکم دیا کہ کلاب کو تلاش کر کے فوراً واپس بھیجیں۔ انہوں نے فوراً انہیں حضرت عمرؓ کے پاس بھیج دیا، وہ عمر کے پاس آئے، ان سے ملاقات کی، اور پھر آپؓ نے امیہ کو بلا بھیجا اور اس سے آپؓ نے کچھ دیر بات کی، اور اس سے پوچھا کہ اس کے نزدیک اس وقت سب سے محبوب کیا چیز ہے؟ تو امیہ نے کہا: کلاب، میں چاہتا ہوں کہ وہ میرے پاس موجود ہو اور میں اسے سونگھ لوں، تب آپؓ نے کلاب کو سامنے آنے کا حکم دیا، کلاب کو دیکھ کر بوڑھا خوشی سے کود پڑا، اور اپنے بیٹے کو سونگھتے ہوئے خوشی کے آنسو بہانے لگا۔ حضرت عمرؓ بھی یہ دیکھ کر رونے لگے،

(الأدب الإسلامی: دیکھئے نایف معروف: صفحہ 180 )

 اور جو دوسرے لوگ موجود تھے وہ بھی رونے لگے اور سب نے کلاب سے کہا کہ تم اپنے والدین کے پاس ہی رہو، اور جب تک دونوں زندہ ہیں انہی میں جہاد کرو، جب وہ نہیں رہیں گے پھر تمہاری مرضی میں جو آئے سو کرنا۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے انہیں ان کا عطیہ دینے کا حکم دیا، اور ان کے باپ کے ساتھ بھیج دیا۔ پھر دیگر سوار بھی ان کے باپ کے شعر کو پڑھ کر گنگنانے لگے اور جب کلاب کو خبر ملی کہ دوسرے لوگ ان کے باپ کے شعر کو گنگناتے ہیں تو انہوں نے یہ شعر کہا: 

لعمرک ما ترکت أبا کلاب

کبیر السن مکتئبا مصابا

’’اللہ کی قسم! میں نے سخت بڑھاپے کے وقت رنجیدہ اور مصیبت کی حالت میں ابو کلاب کو نہیں چھوڑا۔‘‘

و أما لا یزال لہا حنین

تنادی بعد رقدتہا کلابا

’’اور نہ نیند سے بیدار ہونے کے بعد غم بھری ہلکی آواز میں کلاب کو پکارنے والی ماں کو۔‘‘

لکسب المال أو طلب المعالی

ولکنی رجوت بہ الثوابا

’’مال کمانے کے لیے یا ناموری کے لیے نہیں چھوڑا تھا، بلکہ اس سے میرا مقصد ثواب حاصل کرنا تھا۔‘‘

کلاب اچھے مسلمانوں میں سے تھے، وہ اپنے والدین ہی کے پاس رہے یہاں تک کہ دونوں فوت ہو گئے۔

(عمر بن الخطاب: دیکھئے محمد أبوالنصر: صفحہ 288 )

اسی سے ملتا جلتا ایک دوسرا واقعہ بھی ہے وہ یہ کہ معروف شاعر شیبان بن مخبل سعدی نے ہجرت کی اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے ساتھ فارس والوں سے جنگ کرنے کے لیے چلا گیا اس پر اس کے والد مخبل بہت زیادہ گھبرا گئے، کیونکہ وہ کمزور اور بوڑھے ہو چکے تھے، وہ جدائی پر صبر نہ کر سکے اور یہ قصیدہ کہا:

أیہلکنی شیبان فی کل لیلۃ

لقلبی من خوف الفراق وجیب

’’کیا شیبان ہر رات مجھے ایسے ہی ہلاک کرتا رہے گا، یقین جانو جدائی کے خوف و غم سے میرا دل دھڑک رہا ہے۔‘‘

فإنی حنت ظہری خطوب ألا تری

أری الشخص کالشخصین وہو قریب

’’کیا تو دیکھتا نہیں کہ نامساعد حالات نے میری کمر جھکا دی ہے، ایک ہی آدمی مجھے دو دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ وہ میرے قریب ہی ہوتا ہے۔‘‘

ویخبر شیبان أن لن یعقّنی

تعق إذا فارقتنی وتحوب

’’شیبان مجھ سے کہتا تھا کہ وہ میری نافرمانی ہرگز نہ کرے گا، لیکن اے شیبان جب تو مجھ سے بچھڑ گیا، تو نافرمان بھی ہوا اور گنہگار بھی۔‘‘

فلا تدخلن الدھر قبرک حوبۃ

یقوم بہا یومًا علیک حسیب

’’تو اپنی قبر میں گناہ لے کر کبھی نہ جانا کہ کسی دن سخت حساب لینے والا ان گناہوں کے بارے میں تجھ سے باز پرس کرے۔‘‘

جب حضرت عمرؓ نے یہ اشعار سنے تو آپ کا دل پسیج گیا اور آپؓ رونے لگے، اور سعد بن ابی وقاصؓ کے نام خط لکھا کہ شیبان کو واپس بھیج دو، چنانچہ انہوں نے شیبان کو ان کے باپ کے پاس بھیج دیا۔ 

(صدر الاسلام: صفحہ 90)

یہ اپنی نوعیت کا کوئی آخری واقعہ نہ تھا کہ جس کے بارے میں شعر سن کر حضرت عمرؓ متاثر ہوئے ہوں، بلکہ اس سے ملتے جلتے کئی واقعات ہیں، انہی میں سے ایک واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں خراش بن ابی خراش ہذلی نے ہجرت کی، مسلمانوں کے ساتھ معرکہ میں شریک ہوئے اور دشمن کی زمین میں کافی دور تک گھستے چلے گئے، ابوخراش مدینہ آئے، اور حضرت عمر بن خطابؓ کے سامنے بیٹھ کر اپنے بیٹے سے ملاقات کی شدت اشتیاق کا اظہار کیا، اور کہا کہ وہ ایسا آدمی ہے جس کی بیوی فوت ہو چکی ہے اور بھائی قتل ہو چکے ہیں، اب اس کے بیٹے خراش کے علاوہ اس کا کوئی دوسرا معین و مددگار نہیں ہے، اور وہ بھی مجھے چھوڑ کر جنگ پر چلا گیا ہے اور پھر یہ اشعار پڑھنے شروع کیے:

ألا من مبلغ عنی خراشا

وقد یأتیک بالنبأ البعید

’’کیا خراش کو کوئی میرا پیغام پہنچانے والا ہے، تیرے پاس کوئی دور کا آدمی اس کی خبر لے کر آئے گا۔‘‘

وقد تأتیک بالأخبار من لا

تجہز بالحذاء ولا تزید

’’اور ممکن ہے تیرے پاس ایسا آدمی خبریں لائے جو ننگے پاؤں اور بغیر ساز و سامان والا ہو۔‘‘

تنادیہ لیعقبہ کلیب

ولا یأتی لقد سفہ الولید

’’(اے نفس) تو اسے بلاتا ہے تاکہ غم کا مارا اسے اپنا جانشین بنائے، حالانکہ وہ آنے والا نہیں ہے، یقیناً وہ لڑکا پاگل ہو گیا ہے۔‘‘

فرد أناء ۃ لا شیء فیہ

کان دموع عینیہ الفرید

’’(اس کے دل نے) بڑی سرد مہری سے جواب دیا کہ اسے (یاد کرنے سے) کوئی فائدہ نہیں ہے، (ایسا خاموش جواب) گویا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے آنسو چمک دار موتی ہیں۔‘‘

وأصبح دون غابقۃ وأمسی

جبال من جرار الشام سود

’’غابقہ سے پہلے صبح کی، اور شام کے سیاہ پہاڑوں کے دامن میں شام کی۔‘‘

ألا فاعلم خراش بأن خیر

المہاجر بعد ہجرتہ زہید

’’خراش کو جان لینا چاہیے کہ ہجرت کے بعد مہاجر کی خبر نہیں مل رہی ہے۔‘‘

رأیتک وابتغاء البر دونی

کمخضوب اللبان ولا یصید

(عمر بن الخطاب: دیکھئے محمد أبو النصر: صفحہ 230 )

’’تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مجھے چھوڑ کر نیکی کی تلاش ایسے ہی ہے جیسے گوند لگا ہوا کانپا جو شکار نہ پھنسا سکے۔‘‘

سیدنا عمرؓ ان اشعار سے کافی متاثر ہوئے اور خراش کو اس کے باپ کے پاس واپس چلے جانے کا حکم دے دیا، اور پھر یہ عام فرمان جاری رکھا کہ ’’جس کے بوڑھے والدین زندہ ہوں وہ ان کی اجازت کے بغیر جہاد پر نہ جائے۔‘‘ 

(أدب صدر الإسلام: صفحہ 90)

بہرحال ان واقعات میں ہم ملاحظہ کر رہے ہیں کہ حضرت عمرؓ اشعار سے کس درجہ متاثر ہوتے تھے، اور شدت تاثیر کے نتیجہ میں کس قدر رونے لگتے تھے حالانکہ آپ وہی فاروق ہیں جو سختی میں منفرد تھے، بہرحال نرمی اور سختی کا یہ امتزاج بتاتا ہے کہ آپ بہت ذکی الحس تھے اور انسانی دکھ درد کو خوب محسوس کرتے تھے، مجبور باپوں کے غم میں شریک ہوتے اور ان کے لیے ان کے بیٹوں کی ضرورت کا احساس کرتے، صرف انہی کے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہر وہ انسان جو مظلوم یا مجبور نظر آتا آپ اس کی مصیبت میں شریک ہوتے، اور یہ سب آپؓ کے پختہ و کامل احساس و شعور کا نتیجہ تھا، جیسے کہ ہجویہ اشعار کے بارے میں آپ کا مؤقف گزر چکا ہے۔