مختلف اہل تشیع علماء سے ابن سبا پر نامکمل گفتگو (اسکرین…

مختلف اہل تشیع علماء سے ابن سبا پر نامکمل گفتگو (اسکرین شاٹس)

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 3

مختلف اہل تشیع علماء سے ابن سبا پر نامکمل گفتگو (اسکرین شاٹس)

1۔   شیعہ عالم علی میلانی کی  طرف سے ابن سبا پر گفتگو کی دعوت

ایک  سال قبل  22 دسمبر 2021 کے دن شیعہ عالم علی میلانی نے  مجھے ابن سبا پر باقائدہ گفتگو کی دعوت دیتے ہوئے  ایک شیعہ گروپ الاقتصاد فی الاعتقاد  میں یہ میسیج کیا تھا۔

علی میلانی: ہمارا عقیدہ ابن سبا سے متعلق واضح ہے کہ ابن سبا ایک ضال و مضل شخص تھا، باقی بعض لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ  وہ " شیعت" کا بانی ہے، ہم اس کے " منکر" ہیں۔

اگر آپ بھی یہی اعتقاد رکھتے ہیں تو اس پر گفتگو ہو سکتی ہے۔ صحیح السند روایات کی روشنی میں ،وہ بھی آپ پر ہے چاہے تو گفتگو کریں چاہیں تو  نہ کریں۔

علی میلانی شیعہ کی دعوت قبول کی گئی

جعفر صادق: بیشک ملعون ابن سبا ضال و مضل شخص تھا۔ اس یہودی عالم کا  اسلام قبول کرنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ مسلمانوں میں فتنہ فساد کرا سکے۔ سب سے پہلے اسی ملعون نے امت مسلمہ میں ایسے عقائد و نظریات کی بنیاد رکھی جو آج   شیعیت کے بنیادی عقائد ہیں۔ اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ شیعیت کے تانے بانے یہودیت کے ساتھ ملتے ہیں اور یہی شخص عبداللہ ابن سبا درحقیقت  شیعہ مذہب کے  بنیادی  عقائد کا بانی ہے۔

وقت کی شدید قلت ہے اور اگلے ہفتے فدک پر میری گفتگو بھی طئے ہے۔ اس کے بعد اس موضوع پر ضرور گفتگو کروں گا اگر آپ کی مرضی ہوئی تو ۔۔۔ یہ آپ پر ہے چاہیں تو گفتگو کریں چاہیں تو نہ کریں۔

ایک اور شعیہ عالم  عمار حیدر(ابومہدی)  کو  بھی یہ میسیج کیا گیا۔

 تمام تاریخی کتب یہی حقیقت بیان کر رہی ہیں۔ ویسے توشیعوں کا تاریخ پر پورا دین و ایمان ہوتا ہے،  لیکن انکار کرنا ہو تو تمام کتب ڈالو   ردی میں۔ مانیں گے صرف اس بات کو جو ضعیف ترین روایت سے بھی ثابت نہ ہوسکے!

علی میلانی گفتگو کے لئے تیار ۔۔۔اپنی شرائط بھی پیش کردیں۔

علی میلانی شیعہ: اس موضوع پر بات ہوگی ، لیکن چند شرائط کے ساتھ :

1 :  آپ کی عادت ہے کہ آپ دوران گفتگو "شیعہ ایسے ہیں شیعہ ویسے ہیں کہتے ہیں " چنانچہ اس طرح نہیں کہیں گے ۔

اگر مخاطب میں ہوں تو آپ میرا نام ہی استعمال کریں گے۔

شرط دوم: "عقیدہ کا بانی" ہونا صحیح روایات سے ثابت کریں گے۔

ثالثاً: کسی عالم کا قول بغیر دلیل ناقابل حجت ہے۔

چنانچہ آپ جب اگر ہمارے عالم کا قول بلا دلیل نقل کریں گے تو وہ ہم پر حجت نہیں ہوگا۔

نوٹ:شرط  2  اور 3 کو  علی میلانی شیعہ نے دوسری نشست میں غائب کردیا!  ان شرائط کی جگہ قرآن  اور متواتر روایات  کی شرط شامل کردی۔عالم کا قول پہلے حجت تھا لیکن چھ ماہ بعد حجت نہیں رہا! 

ثبوت  آگے ملاحظہ فرمائیں!

علی میلانی شیعہ  کو ان الفاظ میں جواب دیا گیا!

جعفر صادق:ٹھیک ہوگیا۔ 

اگر موضوع کے مطابق ٹو دی پوائنٹ گفتگو کی گئی تو مجھے ایسا کہنے کی ضرورت ہی نہیں کہ شیعہ ایسے ہیں یا ویسے ہیں۔ 

میں صحیح روایات سے ثابت کروں گا کہ شیعہ اثنا عشریہ کے وہ کونسے اہم عقائد ہیں جن کا بانی ملعون ابن سبا ہے۔ ان شاء اللہ۔ آپ کو میرے دلائل کا رد دو طرح سے کرنے کی اجازت ہوگی۔

1- پیش کئے گئے دلائل ضعیف ، جھوٹی روایات ہیں۔

2- ابن سبا سے پہلے بھی وہی عقائد اہل تشیع کے ہاں موجود تھے اور ابن سبا ان کا موجد نہیں ہے، اس کے لئے آپ کو بھی صحیح روایات پیش کرنی ہوں گی۔

⬅️ دوران گفتگو جیّد علماء کے اقوال بطور تائید پیش کئے جائیں گے۔

(اس کے بعد علی میلانی کے امتحانات کی وجہ سے) گفتگو اگلے ماہ فروری میں ہوگی  اور رات دس سے بارہ کے درمیان روزانہ مسلسل تین چار دن جاری رہے گی کیونکہ موضوع اتنا بڑا نہیں ہے۔  تاریخ ، دن ، شرائط میں کمی بیشی وغیرہ کا تعین بعد میں کریں گے۔ ان شاء اللہ

  أصول مناظرہ کے مطابق اہل سنت  دلائل کا رد کیا جائے گا۔(علی میلانی شیعہ)

علی میلانی شیعہ: اب غور سے سنیں:

سائل صرف معارضہ میں کوئی دلیل پیش کر سکتا ہے ( اور ہمیشہ عارض ہی لانا لازم نہیں )

اور دلیل کس نوعیت کی ہو؟

اس کا تعین بھی علم مناظرہ نے کر دیا

آپ کو الگ سے کسی کو پابند کرنے کی ضرورت نہیں ۔



 اس کے بعد کافی گفتگو ہوئی کہ اُصول  مناظرہ کے مطابق  دعویٰ کس طرح ثابت کیا جاسکتا ہے اور دلائل کی نوعیت کیا ہوگی سائل (فریق مخالف) کے پاس رد کرنے کے لئے کیا کیا آپشنز ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ

اس دوران علی میلانی صاحب کو ایک  بہت ہی سادہ مثال دی گئی کہ فریق مخالف دعویٰ کا رد اس طرح کر سکتا ہے۔

جعفر صادق: جواب دے چکا ہوں۔ آپ تین طرح سے ہی دلائل کا رد کیجئے گا۔  

میں کہہ رہا ہوں کہ زید نے گلاس توڑا۔اب اس کا انکار تین طرح سے ہوگا۔

آپ ثابت کریں گے کہ 

1: گلاس ٹوٹا ہی نہیں۔

2: گلاس فلاں نے توڑا ۔

3:  گلاس زید کے آنے سے پہلے ٹوٹا ہوا تھا۔

(آسان الفاظ میں سائل یعنی فریق مخالف شیعہ مناظر   ثابت کرے گا کہ۔۔ )

1: یہ عقائد شیعہ مذہب کے نہیں ہیں۔  

2:عقائدقرآن و حدیث/ فلاں امام سے ثابت ہیں۔

3:   عقائد ابن سبا سے پہلے بھی موجود تھے۔

 گفت و شنید کے بعد اہل سنت کی طرف سے دعوی( 24 دسمبر 2021 )

جعفر صادق:  محترم میں دعویٰ اہل سنت پیش کر رہا ہوں۔ اس کے بعد گفتگو کن مراحل میں ہوگی اس کے بارے میں بھی بتا  دیتا ہوں۔

⬇️⬇️⬇️⬇️

دعویٰ اہل سنت

شیعہ اثناعشریہ کے اہم عقائد سیدنا علی خلیفہ بلافصل، وصی رسول اللہ، عقیدہ امامت، خلفائے ثلاثہ سمیت 99.99 فیصد صحابہ کرام پر الزام بازی اور تبرہ ۔(معاذ اللہ) اور عقیدہ رجعت (نبی اور ائمہ اہل بیت کی دوبارہ دنیا میں واپسی) ان سب عقائد کا موجد عبداللہ ابن سبا یہودی ملعون ہے۔

  عبداللہ ابن سبا ایک تاریخی شخصیت ضرور ہے لیکن اس کی تعلیمات ، عقائد و نظریات مذہب تشیع کی جڑ ہیں، اہل سنت و اہل تشیع کتب بلکہ کئی تاریخی روایات سمیت ایک دو نہیں بلکہ کئی جیّد شیعہ علماء نے اس حقیقت پر سر تسلیم خم کیا ہے اور دوٹوک الفاظ میں اس حقیقت کا اقرار بھی کیا ہے۔ 

گفتگو کے دو مرحلے ہوں گے۔

1: اہل تشیع عقائد پیش کئے جائیں گے، فریق مخالف ان عقائد کا اقرار کرے گا یا بالفرض انکار کرنے پر پہلے وہ عقائد معتبر شیعہ روایات سے ثابت کئے جائیں گے۔

⬅️ پہلا مرحلہ اس طرح مکمل ہوگا کہ اہل تشیع کی طرف سے اقرار کیا جائے گا کہ واقعی وہ تمام عقائد شیعہ اثناعشریہ کے ہی ہیں ۔

اس کے بعد دوسرے مرحلے کا آغاز ہوگا۔

صفحہ 1 از 3