واقعہ کربلا - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

واقعہ کربلا

  مولانا اقبال رنگونی صاحب

صفحہ 1 از 4

واقعہ کربلا

واقعہ کربلا شروع ہونے سے پہلے یزید کے بارے جان لیں کہ سیدنا معاویہؓ نے یزید کو جانشین کیوں بنایا؟

 یزید کی ولی عہدی
شیعہ حضرات یزید کے مسئلے میں سیدنا امیر معاویہؓ پر بہت کچھ اعتراضات کرتے ہیں کہ حضرت معاویہؓ کا اپنے بیٹے یزید کو خلیفہ منتخب کرنا درست نہیں تھا۔ اس طریقہ سے انہوں نے خلفائے راشدینؓ سے اختلاف کیا اور مخالفینِ اسلام یعنی قیصر و کسریٰ کے طریقہ کو رواج دیا، اس وجہ سے امت میں بڑے مفاسد کھڑے ہوئے اور انہوں نے قوم کو غلط راہ پر ڈال دیا، یہ کام انہوں نے ذاتی مفاد اور حفاظتِ اقتدار کی خاطر سر انجام دیا تھا جو کہ غلط کام تھا۔
نوٹ: اس معاملہ میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یزید صحابی نہیں ہے، اس لیے اس سے متعلق کسی قسم کے الزام کا جواب دینے کے ہم ذمہ دار نہیں اور نہ ہی ہم اس کی ضرورت سمجھتے ہیں۔ اپنے کاموں کا یزید خود ذمہ دار ہے۔
محترم قارئین کرام! اس مسئلے کو اچھی طرح سمجھانے کے لیے چند امور ذکر کیے جاتے ہیں، ان پر توجہ فرمائیں، امید ہے قابلِ اطمینان ہوں گے:
1: یزید کی جانشینی کے مسئلہ میں پہلے یہ چیز معلوم کرنی چاہیے کہ شرعی طور پر بیٹے کو اپنے والد کی جگہ پر والی و حاکم منتخب کرنا جائز ہے یا نہیں؟
اس کے متعلق یہ چیز واضح ہے کہ نصوصِ قرآنی اور احادیث صحیحہ کے اعتبار سے یہ صورت منع نہیں بلکہ جائز ہے۔ شیعہ حضرات اس مسئلہ پر اپنی کتابوں سے بھی کوئی سند نہیں لا سکتے کہ بیٹے کو جانشین بنانا ناجائز ٹھہرے۔ اگر شرعی قوانین اور آئین کی رو سے بیٹے کو باپ کی جگہ پر والی منتخب کرنا ناجائز ہوتا تو سیدنا حسنؓ کو اس دور کے اکابر نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کے قائم مقام کیسے منتخب کر لیا؟ انہیں کیوں یہ خیال نہیں آیا کہ اس طرح امت ایک غلط راہ پر چل پڑے گی۔ روایات میں اس طرح موجود ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے دفن سے فراغت کے بعد سیدنا حسنؓ نے خود لوگوں کو اپنی بیعت کی طرف دعوت دی اور بلایا۔ اس پر لوگوں نے حضرت حسنؓ کی بیعت کی۔
ثم انصرف الحسن بن علي من دفنه فدعا الناس إلى بيعته فبايعوه
(طبقات ابنِ سعد: جلد 3 صفحہ 38)
یہاں سے واضح ہو گیا کہ والد کی جگہ اس کے فرزند کو والی اور حاکم بنانا درست ہے، یہ کوئی قابل اعتراض چیز نہیں اور نہ ہی یہ قیصر و کسریٰ کے طریق کی اتباع ہے اور جو لوگ دن رات وورثَ سُلَيْمٰن دَاوُدَ پڑھتے ہوں وہ اس قسم کی غلط بات کیسے کہہ سکتے ہیں؟ البتہ انتخاب میں اس کی اہلیت شرط ہوتی ہے اور اس کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔
یزید کو جانشین بنانے کی وجہ:
ظاہر بات ہے کہ اتنی عظیم سلطنت کے نظم و انتظام کو قائم رکھنے اور اس کے استحکام کی بڑی ضرورت تھی جس کی وجہ سے سیدنا امیر معاویہؓ نے اپنا جانشین اور ولی عہد تجویز کرنے کی طرف توجہ کی اور حالات کے تقاضوں کے پیشِ نظر اپنے بیٹے یزید کو اس منصب کے لیے مناسب سمجھا۔
سیدنا امیر معاویہؓ نے اپنے ولی عہد کے انتخاب کے سلسلہ میں جو صورت اختیار فرمائی،وہ ان کے خیال میں اس دور کے حالات اور وقت کے تقاضوں کے مطابق تھی۔ سیدنا معاویہؓ کی دیانت دارانہ رائے تھی کہ یزید امور مملکت میں بہتر ہے۔
چنانچہ ابوزید عبد الرحمٰن بن محمد بن محمد بن خلدون ولی الدین التونسی الحضرمی الاشبیلی المالکی المعروف ابن خلدون ( 808ھ) لکھتے ہیں:
والّذي دعا معاوية لإيثار ابنه يزيد بالعهد دون من سواه إنّما هو مراعاة المصلحة في اجتماع النّاس واتّفاق أهوائهم باتّفاق أهل الحلّ والعقد عليه حينئذ من بني أميّة إذ بنو أميّة يومئذ لا يرضون سواهم وهم عصابة قريش وأهل الملّة أجمع وأهل الغلب منهم فآثره بذلك دون غيره ممّن يظنّ أنّه أولى بها
(تاریخ ابن خلدون: جلد 1 صفحہ 263 )
ترجمہ: جس بات نے امیر معاویہؓ کو کسی دوسرے کے بجائے اپنے بیٹے کو ولی عہد بنانے پر آمادہ کیا وہ صرف اس مصلحت کی رعایت تھی کہ اس وقت بنو امیہ کے اہل حل و عقد کے نزدیک یزید پر اتفاق کرنے سے مخالفین کا اتفاق و اجماع حاصل ہو جائے گا، اس وقت بنو امیہ اپنے اصحاب اقتدار کے علاوہ کسی اور کو قبول کرنے پر راضی نہ تھے، اور بنوامیہ ہی قریش اور پوری ملت کے سرکردہ تھے انہیں ہی تسلط و اقتدار حاصل تھا، اسی وجہ سے معاویہؓ نے دوسروں پر یزید کو ترجیح دی، جن کے متعلق یہ گمان تھا کہ وہ ولایت و خلافت کے لیے زیادہ موزوں اور بہتر ہیں۔"
جہاں تک یزید کے فاسق ہونے کا معاملہ ہے تو سیدنا امیر معاویہؓ کی زندگی میں یزید کا فاسق ہونا اس حد تک ظاہر نہیں ہوا تھا جتنا کہ بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا۔ جن روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یزید سیدنا امیر معاویہؓ کی زندگی میں ان حرکتوں کا عادی تھا وہ ضعیف اور مشکوک ہیں۔ اگر وہ روایات درست مان بھی لی جائیں تو پھر بھی یزید ولی عہد(جانشین) بننے تک ایسا کھلم کھلا بدکردار نہ تھا کہ اسے ولی عہد بنانے کی سرے سے گنجائش ہی نہ ہوتی۔ خصوصاً جس وقت یزید کو ولی عہد بنایا جارہا تھا اس وقت یزید کی شہرت اس حیثیت سے نہیں تھی جس حیثیت سے آج ہے۔ ظاہر ہے اس وقت وہ ایک صحابی اور خلیفۂ وقت کا صاحبزادہ تھا۔ اس کے ظاہری حالات، نماز روزہ کی پابندی اور اس کی انتظامی صلاحیتوں کی بنا پر یہ رائے قائم کرنے کی پوری گنجائش تھی کہ وہ خلافت کا اہل ہے۔ اسی وجہ سے دیگر جلیل القدر صحابہ کرامؓ اور تابعین بھی یہی رائے رکھتے تھے اور سیدنا معاویہؓ کی بھی یہی رائے تھی۔
  متعدد تواریخ میں منقول ہے کہ انہوں نے ایک خطبہ میں یہ دعا فرمائی کہ:
"اے اللہ! اگر میں نے یزید کو اس کی فضیلت دیکھ کر ولی عہد بنایا ہے تو اسے اس تک پہنچا دے جس کی میں نے اس کے لیے امید کی ہے اور اس کی مدد فرما اور اگر اس کام پر صرف اس محبت نے آمادہ کیا ہے جو باپ کو بیٹے سے ہوتی ہے تو اس کے خلافت تک پہنچنے سے پہلے اس کی روح قبض کر لے۔"
(الذھبی تاریخ الاسلام: جلد 2، صفحہ25)
صفحہ 1 از 4