سیدنا حسینؓ کی شجاعت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدنا حسینؓ کی شجاعت

  مولانا اقبال رنگونی

آپؓ بڑے بہادر تھے اور کیوں نہ ہوتے آپؓ کے ناناﷺ کائنات کے سب سے بڑے شجاع تھے اور آپؓ کے والد سیدنا علی المرتضیٰؓ کی بہادری تو ان دنوں سب کے سامنے تھی سیدنا حسینؓ کو شجاعت کی یہ صفت حضور اکرمﷺ سے وراثت میں ملی تھی۔

شیعہ علماء لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدہ فاطمہؓ نے حضور اکرمﷺ سے عرض کی کہ آپﷺ میرے دو بچوں کے لیے وراثت میں کچھ دے جائیں (آپﷺ نے اس وقت بھی کسی مال و جائیداد کا ذکر نہیں کیا بلکہ) آپﷺ نے فرمایا کہ حسن کو میرا رعب و دبدبہ اور حسین کو میری بہادری اور سخاوت ملے گی۔

محمد بن علی ابن بابویہ قمی شیعی (381ھ) اور شارح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید شیعی (656ھ) لکھتے ہیں کہ:

فقالت یا رسول اللہ ھذان ابناك فورّثھما شیئاً فقال ان الحسن فله ھیبتی و سئوددی و اما حسین فله جرأتی و جودی۔(شرح نہج البلاغہ: صفحہ 242، خصال: صفحہ 39 طبع ایران)

سیدنا حسینؓ کا شجاع ہونا کسی سے مخفی نہ تھا حضورﷺ نے بچپن میں ان کا یہ جوہر دیکھ لیا تھا اور ایک کشتی کے مقابلے میں ”ھی حسین“ کہہ کر آپ کو شاباشی دی تھی، پھر کربلا کے میدان میں آپ اپنے مخالفین کے سامنے جس بہادری اور استقامت کے ساتھ ساتھ اپنی جگہ کھڑے رہے اور اپنے گھر والوں کو ایک ایک کر کے شہید ہوتے دیکھتے رہے پھر جس طرح آپ نے سینکڑوں دشمنوں کے سامنے خود اکیلے زخمی حالت میں بھی مقابلہ کیا اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ شجاعت کے میدان میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔

حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی صاحبؒ لکھتے ہیں:

"سیدنا حسینؓ کی عظمت و جرأت اور ہمت و شجاعت قلب کا سب سے بڑا ظہور اسی واقعہ کربلاء سے ہوا ہے کہ جس چیز کو وہ حق سمجھ چکے تھے اس پر جان دے دینی گورا کی مگر باطل کے آگے سر جھکانا گوارا نہیں کیا اور باوجود بے یاری و مددگاری کے یکہ و تنہا باطل کے مقابلے پر آگئے اور شہادت عظمیٰ کے مقام پر جا پہنچے۔

(شہید کربلا و یزید: صفحہ 81)

شاعر اسلام جناب حفیظ جالندھری مرحوم نے آپ کی شجاعت ان خوبصورت لفظوں میں بیان کیا:

لباس ہے پھٹا ہوا غبار میں اٹا ہوا

تمام جسم نازنین چھدا ہوا کٹا ہوا

یہ کون ذی وقار ہے بلا کا شہہ سوار ہے

کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا 

یہ بالیقین حسینؓ ہے نبیﷺ کا نور عین ہے

یہ کون حق پرست ہے مئے رضا مست ہے 

یہ کون ہے جس کے سامنے بلند نہ پست ہے

ادھر ہزار گھات ہے مگر عجیب بات ہے

کہ ایک سے ہزار کا بھی حوصلہ شکست ہے

یہ بالیقین حسینؓ ہے نبیﷺ کا نور عین ہے

دلاوری میں فرد ہے بڑا ہی شیر مرد ہے

جس کے دبدے سے رنگ دشمنوں کا زرد ہے

حبیب مصطفٰیﷺ ہے یہ، مجاہد خدا ہے یہ

جبھی تو اس کے سامنے یہ فوج گرد گرد ہے

یہ بالیقین حسینؓ ہے نبیﷺ کا نور عین ہے

ادھر سپاہ شام ہے ہزار انتظام ہے

ادھر ہے دشمنانِ دین ادھر فقط امام ہے

مگر عجب شان ہے غضب کی آن بان ہے

کہ جس طرف اٹھی ہے تیغ، بس خدا کا نام ہے 

یہ بالیقین حسینؓ ہے نبیﷺ کا نور عین ہے