سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے موقع پر

  علی محمد محمد الصلابی

سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اپنے بعد، خلیفہ کے انتخاب کے لیے جن لوگوں سے صلاح مشورہ کیا تھا ان میں حضرت علیؓ بھی شامل تھے اور ان کی رائے تھی کہ ابوبکر کے بعد عمر فاروق کو خلیفہ بنایا جائے۔

(صفۃ الصفوۃ: جلد 2 صفحہ 109، 110) مختصر الاثنا عشریۃ: صفحہ 34)۔

چنانچہ جب حضرت ابوبکر صدیقؓ کی وفات کا وقت ہوا اور موت سامنے آ کھڑی ہوئی تو آپ کی زبان مبارک سے اس دنیا میں جو آخری کلمات نکلے وہ اس قرآنی آیت کی تلاوت تھی: 

تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِينَ (سورۃ یوسف آیت 101)

’’مجھے مسلمان ہونے کی حالت میں فوت کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملادے۔ ‘‘

حضرت ابوبکر صدیقؓ کی وفات کی خبر سے پورا مدینہ تھرّا گیا،

(الکامل: ابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 79) المختصر من کتاب الموافقۃ: الزمخشری: صفحہ 70 تا 100)۔

رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد آہ وبکا میں ڈوبی ہوئی آج کی غمگین شام سے زیادہ تکلیف دہ لمحات مدینہ نے کبھی نہ دیکھے تھے۔ سیدنا علیؓ روتے ہوئے جلدی جلدی إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھتے ہوئے آگے بڑھے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے گھر کے دروازہ پر کھڑے ہو کر کہنے لگے: اے ابوبکر! تم پر اللہ کی رحمت نازل ہو، تم رسول اللہﷺ کے محبوب، مونس و غم خوار، معتمد راز دار اور مشیر تھے، تم مسلمانوں میں سب سے پہلے ایمان لائے، تمھارا ایمان سب سے زیادہ خالص اور تمھارا یقین سب سے زیادہ استوار تھا، تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے اور سب سے بڑھ کر دین کو نفع پہنچانے والے تھے۔ رسول اللہﷺ کی خدمت میں سب سے زیادہ حاضر باش، اسلام پر سب سے زیادہ شفیق، اصحابِ رسول اللہﷺ کے لیے سب سے زیادہ بابرکت اور رفاقت میں سب سے بہتر، سب سے زیادہ صاحبِ مناقب، فضائل کی دوڑ میں سب سے آگے، درجہ میں سب سے بلند، سیرت و ہیئت میں رسولﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ، قدر و منزلت میں سب سے بلند، اللہ تعالیٰ تمہیں اسلام کی جانب سے اور اپنے رسول کی جانب سے جزائے خیر دے، تم نے رسولﷺ کو اس وقت سچاجانا، جب سب نے آپﷺ کو جھوٹا کہا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی میں تمھارا نام صدیق رکھا، اور فرمایا:

وَالَّذِىۡ جَآءَ بِالصِّدۡقِ وَصَدَّقَ بِهٖۤ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ۞ (سورۃ الزمر آیت 33)

ترجمہ: اور جو لوگ سچی بات لے کر آئیں اور خود بھی اسے سچ مانیں وہ ہیں جو متقی ہیں۔

(اے ابوبکر!) تم نے آپﷺ کے ساتھ اس وقت غم خواری کی جب اوروں نے تنگ دلی کی، جب لوگ مصائب کے وقت مدد سے پیٹھ پھیر رہے تھے تم محمدﷺ کی مدد پر قائم رہے، سختی میں تم نے ان کی بہترین رفاقت کی، تم دو میں سے ایک اور رفیقِ غار تھے اور وہ شخص جس پر اللہ نے تسکینِ قلب نازل فرمائی اور ہجرت میں آپﷺ کے ساتھ تھے، دینِ الہٰی اور امت میں آپﷺ کے خلیفہ تھے، جب لوگ مرتد ہوئے تو تم نے بہترین خلافت کی اور امر الہٰی کی تم نے وہ حفاظت کی جو کسی نبی کے خلیفہ نے نہیں کی تھی، جب تمھارے ساتھی سستی کرنے لگے تو تم اٹھ کھڑے ہوئے اور جب وہ دب گئے تو تم دلیر ہو گئے اور جب وہ کمزور ہو گئے تو تم قوی رہے، تم نے رسول اللہﷺ کے طریقہ کو اس وقت تک لازم پکڑا جب لوگ مضطرب ہو گئے، تم بدن کے ایسے ہی ضعیف تھے جیسا کہ رسول اللہﷺ نے بتایا تھا، تم حکم الہٰی میں قوی، خود اپنے ذہن میں ناچیز، اللہ تعالیٰ کے نزدیک گرامی قدر، انسانوں کی نگاہوں میں باوقار اور ان کے دلوں میں باوقعت تھے، تمھاری طرف کسی کو نگاہ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت نہ تھی اور نہ کوئی طعن کا موقع پا سکتا تھا، نہ مخلوق میں کسی کی بےجا رعایت کر سکتے تھے، عاجز اور ذلیل تمھارے نزدیک قوی معزز تھا کہ تم اس کا حق اس کو دلا کر مانتے تھے، اس معاملہ میں قریب و بعید سب تمھاری نظر میں برابر تھے، تمھارا سب سے زیادہ مقرب وہ تھا جو اللہ کا سب سے زیادہ فرماں بردار اور پرہیز گار تھا، تمھاری شان حق پرستی راستی اور نرمی تھی، تمھارا قول حکم اور امر قطعی تھا، تمھارے حکم میں حلم تھا اور حزم، رائے میں دانائی اور عزم، دین تمھاری مدد سے قائم ہو گیا، ایمان تمھاری وجہ سے قوی ہو گیا اور اسلام اور مسلمان مضبوط ہو گئے، تم نے اپنے جانشین کو سخت دشواری میں ڈال دیا؟، تمھاری مصیبت پر ہم إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ    کہتےہیں، قضائے الہٰی پر رضا مند ہیں اور اس کے حکم کو تسلیم کرتے ہیں، واللہ رسولﷺ کی وفات کے بعد تمھاری وفات سے بڑھ کر مسلمانوں پر کبھی کوئی مصیبت نہیں پڑے گی، تم دین کی قوت و غلبہ اور پناہ گاہ تھے، اس کی جزا میں اللہ تعالیٰ تمہیں تمھارے نبی (ﷺ) سے ملادے اور ہمیں تمھارے اجر سے محروم اور تمھارے بعد گمراہ نہ فرمائے۔ 

راوی کا بیان ہے کہ سب لوگ خاموش رہے یہاں تک کہ سیدنا علیؓ نے اپنی بات پوری کر لی، پھرسب اس قدر روئے کہ آواز بلند ہو گئی اور بالاتفاق کہا: آپ نے سچ فرمایا۔

(التبصرۃ ابن الجوزی: جلد 1 صفحہ 77 تا جلد 4 صفحہ 479) بحوالہ أصحاب الرسول: جلد 1 صفحہ 108)۔

ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیقؓ کا جسم مبارک ڈھانپ کر اس پر کپڑا ڈال دیا گیا تو حضرت علیؓ گھر میں داخل ہوئے اور کہا: چادر سے ڈھانپے ہوئے اس جسدِ اطہر سے زیادہ میرے نزدیک کوئی محبوب نہیں ہے کہ میں اس کے صحیفہ کو لے کر اللہ سے ملوں۔

(تاریخ الذہبی: عہد الخلفاء الراشدین: صفحہ 120)