سیدنا حسینؓ خلفائے راشدینؓ کے دور میں
مولانا اقبال رنگونیسیدنا حسینؓ سات سال کے تھے حضورِ اکرمﷺ کا سایہ ان کے سر سے اٹھ گیا آپؓ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے دورِ خلافت میں بہت کم عمر تھے تاہم سیدنا ابوبکر صدیقؓ سیدنا علی المرتضیٰؓ سے ان کے بارے میں اکثر پوچھا کرتے تھے اور جب ملاقات ہوتی تو آپؓ ان کو پیار فرماتے تھےاور ان کے ذریعے سے سیدہ فاطمہؓ تک اپنا ہدیہ بھیج دیتے تھے۔
عہدِ صدیقی میں سیدنا خالد بن ولیدؓ کے ہاتھوں مقامِ حیرہ فتح ہوا وہاں سے بہت سا مال سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی خدمت میں آیا ان میں طیلسان کی قیمتی چادریں بھی تھیں سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے سیدنا حسینؓ کو ان میں سے ایک چادر عنایت کی۔
فوھب الطیلسان للحسین بن علی رضی اللہ عنہما۔
(فتوح البلدان: صفحہ 254)
سیدنا عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت کے آخری ایام میں آپؓ سنِ شعور کو پہنچ چکے تھے سیدنا عمر فاروقؓ ان کا خاص خیال رکھتے تھے اور ان کا دوسروں کی بہ نسبت بہت احترام کرتے تھے آپؓ کے دل میں قرابت نبی کریمﷺ کی عظمت بہت زیادہ تھی۔
سیدنا عمر فاروقؓ نے حضراتِ حسین کریمین رضی اللہ عنہما کی حضورِ اکرمﷺ سے قرابت اور محبت کا لحاظ رکھتے ہوئے ان کا بھی وہی وظیفہ رکھا تھا جو ان کے والد سیدنا علی المرتضیٰؓ کا تھا جو پانچ ہزار درہم تھا ان حضرات نے کبھی اس رقم کو لینے سے انکار نہیں کیا اور نہ کبھی کہا کہ چونکہ ہم سے خلافت غصب کی گئی ہے اور سیدنا عمر فاروقؓ کی خلافت ناجائز ہے اس لیے ہم یہ وظیفہ نہیں لیں گے اس سے یہ بات واضح ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ اور آپ کے دیگر اہلِ بیتؓ کے نزدیک ان بزرگوں کے خلافت برحق تھی۔ فافہم و تدبر
ایک مرتبہ سیدنا حسینؓ سیدنا عمر فاروقؓ کی ملاقات کے لیے گئے تو سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے ان سے کہا کہ والد صاحب کسی ضروری کام میں مصروف ہیں خود مجھے بھی ملاقات کی اجازت نہیں ملی ہے سیدنا حسینؓ واپس تشریف لے گئے جب آپؓ کی سیدنا عمرؓ سے ملاقات ہوئی تو سیدنا حسینؓ نے صورتِ حال عرض کی اور کہا کہ اس وجہ سے میں بھی واپس چلا آیا تھا آپؓ نے یہ سن کر فرمایا کہ کیا آپ ابنِ عمر کے درجے میں ہیں؟ یعنی کیا تم اور ابنِ عمر کے برابر کے درجے میں ہو؟ نہیں تمہارا مقام اور ہے اور اس کا اور ہے جو کچھ ہمیں عزت ملی ہے یہ سب کچھ آپ کے گھرانے سے حاصل ہوئی ہے آپ لوگ نہ ہوتے تو ہمیں یہ مقام کیسے حاصل ہوتا ہمیں اس گھر کی غلامی پر ہی تو فخر ہے۔
وأنت عندی مثله وهل انبتت الشعر على الراس غيركم۔
(تاریخ عمر لابن جوزی: صفحہ 164)
سیدنا عثمانِ غنیؓ بھی سیدنا حسنین کریمینؓ کے ساتھ بہت زیادہ شفقت کا معاملہ فرماتے تھے یوں بھی آپؓ ان کے خالو تھے، کہ سیدنا حسنین کریمینؓ کی دو خالہ سیدنا عثمانِ غنیؓ کے نکاح میں تھیں سیدنا عثمان غنیؓ ان پر صرف شفقت ہی نہیں، حضورِ اکرمﷺ کے نواسہ ہونے اور ان سے خصوصی محبت فرمانے کی بناء پر ان کی تعظیم بھی فرماتے تھے۔
سیدنا عثمانِ غنیؓ ایک مرتبہ عمرہ کے لیے تشریف لے گئے تو آپؓ نے اپنے ساتھ سیدنا حسینؓ کو بھی لے لیا تھا ان کے ہمراہ سیدنا جعفرؓ کے بیٹے حضرت عبداللہؓ بھی تھے راستے میں سیدنا حسینؓ بہت زیادہ بیمار ہو گئے۔ سیدنا عثمانِ غنیؓ نے چاہا کہ وہیں ان کے ساتھ رہیں، مگر سیدنا حسینؓ نے آپؓ کو قسم دے کر جانے کو کہا تو پھر آپؓ عمرہ کے سفر پر نکل پڑے اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اس واقعہ کی اطلاع دے دی۔
سیدنا حسینؓ نے عہدِ عثمانی میں ہونے والے بہت سے غزوات میں بھرپور حصہ لیا تھا اور آپؓ نے سیدنا عثمانِ غنیؓ اور ان کی خلافت پر بھرپور اعتماد رکھا تھا آپؓ سیدنا عثمانِ غنیؓ کی خلافت کو خلافتِ حقہ سمجھتے تھے اور ان کے احکامات کی تعمیل کرتے تھے خلیفہِ اسلام کی جانب سے جو کچھ ملتا تھا، آپؓ نے کبھی نہیں کہا کہ میں خلافتِ عثمانؓ کو غلط جانتا ہوں، اس لیے نہ تو کسی غزوہ میں جاؤں گا اور نہ کوئی ساز و سامان اور وظائف لوں گا اور نہ آپؓ کے حکم کی تعمیل کروں گا۔
26 ہجری میں طرابلس اور افریقہ کے علاقوں میں معرکہ لگا اس میں سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ پوری طرح شریک تھے۔ اس معرکہ میں عبداللہ نام کے چھ نوجوان بھی شریک تھے:
1: سیدنا عبداللہ بن عمرؓ
2: سیدنا عبداللہ بن عباسؓ
3: سیدنا عبداللہ بن جعفرؓ
4: سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ
5: سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ
6: اس فوج کے سالار سیدنا عبداللہ بن سعد بن ابی سرحؓ تھے۔
30 ہجری میں خراسان اور طبرستان کے علاقوں میں جہاد ہوا سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ اس میں بھی پوری طرح شریک رہے اس معرکہ میں بھی عبداللہ نام کے پانچ نوجوان شریک تھے جن کا ذکر ہم اوپر کر آئے ہیں اس قافلہ کے امیر حضرت سعید بن العاص الامویؓ تھے۔ (الکامل: جلد 3 صفحہ 83 لابن الاثیر)
اس قسم کے بہت سے واقعات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا حسینؓ دل کی گہرائیوں سے سیدنا عثمانِ غنیؓ کو خلیفہِ راشد سمجھتے تھے اور ان کی اطاعت کو اسلام کی اطاعت ہی جانتے تھے اگر اس باب میں آپؓ کے دل میں ذرا سا کوئی شک ہوتا تو آپؓ ہی بتائیں کہ سیدنا حسینؓ ان معرکوں میں حصہ لیتے؟ اور ان فتوحات سے ملنے والے اموال اور وظائف کو کسی صورت لینا پسند فرماتے؟ نہیں....
شیعہ علماء تسلیم کرتے ہیں کہ سیدنا عثمانِ غنیؓ کے عہد میں جب خراسان فتح ہوا تو وہاں کے رئیس کی دو لڑکیاں قید ہو کر آئیں تو سیدنا عثمانِ غنیؓ نے ان میں سے ایک سیدنا حسنؓ کو جب کہ دوسری سیدنا حسینؓ کو دی تھی ۔
حضرت الاستاد علامہ خالد محمود صاحبؒ لکھتے ہیں: سیدنا عثمانِ غنیؓ کے دورِ خلافت کے آخر تک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہلِ بیتِ کرامؓ میں کہیں کوئی سیاسی اختلاف نہ تھا، نہ کوئی دینی اختلاف تھا۔ سب مسلمان بطورِ امت ایک تھے۔ (اشتہار: سیدنا حسینؓ کے تین سفرِ جہاد کالم: 4)
البتہ شیعہ علماء کے اس جھوٹ کا کوئی علاج نہیں کہ سیدنا حسینؓ یہ سب کچھ تقیہ کے طور پر کرتے رہے یہ آپ کی ہوشیاری تھی کہ آپ نے دوغلی پالیسی اپنائے رکھی کسی کو پتہ نہ چلنے دیا کہ آپ اوپر سے کچھ ہیں اور اندر سے کچھ اور ہیں آپ اوپر سے تو ان کی بات ماننے کا ڈھونگ رچاتے ہیں، ان سے برابر تحفے اور وظائف لیتے ہیں، ان کا ادب و احترام کرتے ہیں، ان سے محبانہ سلوک کا مظاہرہ کرتے تھے، مگر اندر سے پوری طرح ادھار کھائے بیٹھے تھے اور سوچ سوچ کر پریشان ہو جاتے تھے کہ وہ وقت کب آئے گا کہ جب سیدنا عثمانِ غنیؓ سے ہماری جان چھوٹے گی۔ تا آنکہ مردِ مجاہد شیخ الروافض عبداللہ بن سباء میدان میں نکلا اور اس نے اپنے ساتھیوں سے مل کر ہمارے لیے سامانِ نجات پیدا کیا۔
شیعہ علماء کے اس عقیدہ اور اس سوچ کو اگر آپ صحیح سمجھتے ہیں تو خود ہی غور کر لیں کہ اس سے سیدنا حسینؓ کی تصویر کیا نظر آتی ہے تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ سیدنا عثمانِ غنیؓ کے خلاف برپا کی گئی بغاوت کے وقت سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کو ان کی حفاظت پر مامور کیا تھا اور انہوں نے اپنی ممکنہ حد تک سیدنا عثمانِ غنیؓ کی حفاظت کی اس میں وہ زخمی ہوئے مگر باغی اپنے مذموم مقاصد تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اور سیدنا عثمانِ غنیؓ کو شہید کر دیا گیا سیدنا علی المرتضیٰؓ کو بہت رنج تھا اور آپؓ نے اپنے دونوں بیٹوں سے اس پر سخت باز پرس بھی کی تھی، کہ سیدنا حسنؓ کو طمانچہ بھی مارا اور سیدنا حسینؓ کے سینے پر بھی مارا تھا۔
شیعہ شیخِ مؤرخ مسعودی لکھتا ہے:
قال لابنه کیف قتل أمیر المؤمنین وانتما علی الباب ولطم الحسن وضرب صدر الحسین رضی اللہ عنہ۔
(مروج الذہب: جلد 2 صفحہ 345)
آپؓ نے اپنے بیٹے سے کہا: تمہارے ہوتے ہوئے سیدنا عثمانِ غنیؓ کس طرح شہید کر دیے گئے؟ آپؓ نے سیدنا حسنؓ کو طمانچہ مارا اور سیدنا حسینؓ کے سینے پر بھی مارا اس سے واضح ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے دل میں سیدنا عثمانِ غنیؓ کی عزت و عظمت موجود تھی اور آپؓ ان کی زندگی کو عزیز سمجھتے تھے اور ان کی دل سے قدر کرتے تھے۔ افسوس کی بات ہے کہ شیعہ اسے تقیہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ محض دکھاوے کے لیے کر رہے تھے، ورنہ وہ چاہتے تھے کہ آپ سے جان چھوٹے۔ (استغفراللہ)
