سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے جب سے اسلام قبول کیا اپنا معمول بنا لیا تھا کہ آپؓ یومیہ غسل فرماتے تھے۔
(فضائل الصحابۃ: صفحہ، 756 اسنادہ حسن)
ایک دن آپؓ نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی بعد میں دیکھا کہ آپؓ کے کپڑوں میں احتلام کے آثار ہیں، فرمایا: واللہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں مجھے جنابت لاحق ہوتی ہے اور پتہ بھی نہیں چلتا پھر آپؓ نے نماز دہرائی۔
(موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان: صفحہ، 190)
لیکن مقتدیوں نے نماز نہیں دہرائی۔
(موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان: صفحہ، 192)