Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

متعہ سے ممانعت

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

دوسری جگہ فروع کافی: جلد 2 صفحہ 192 میں ایک حدیث ہے جس سے متعہ کی ممانعت ثابت ہوتی ہے 

عَنِ الْمُفَضَّلِ قَالَ سَمِعْتُ اَبَا عَبْدِاللّٰهِ عَلَيْهِ السَّلَام يَقُولُ فِی الْمُتْعَةِ دَعُوهَا مَا يَسْتَحَى احَدُكُمْ أَنْ يَّرَىٰ فِی مَوْضِعِ الْعَورَةِ فَيَحْمِلَ ذلك عَلَى صَالِحِی اخْوَانِهٖ وَاصْحَابِهٖ۔

ترجمہ: مفضل کہتا ہے میں نے سیدنا صادقؒ سے سنا وہ فرماتے تھے متعہ چھوڑ دو کیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ کوئی شخص عورت کی شرم گاہ دیکھے اور اس کا ذکر اپنے بھائیوں اور احباب سے جا کر کرے؟ نیز اسی کتاب میں اسی صفحہ 192 پر درج ہے:

كَتَبَ ابُو الْحَسَنِ عَلَيْهِ السَّلَامُ الى بَعْضَ موالِيْهِ وَلَا تُلِحُوا علَى الْمُتْعَةِ اِنَّمَا عَلَيْكُمُ اِقَامَةُ السُّنَّةِ فَلَا تَشْتَغِلُوا بهَا عَنْ قُرُشِكُمْ وَحَرَائِرِكُمْ فَيَكْفَفْنَ وَيَسْتَبِرٍ ان وَيَدَّعِينَ عَلَى الْامْرِ بِذلِكَ فَيَلعَنَّ لَنَا۔ (فروعِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 192)

ترجمہ: حضرت ابوالحسن نے اپنے بعض خدام کو کہا کہ متعہ پر اصرار مت کرو صرف سنت بجا لاؤ اور اس میں مصروف مت ہو جاؤ تاکہ تم اپنی منکوحہ عورتوں اور کنیزوں سے ہٹ جاؤ اور وہ معطل رہیں اور وہ پاکباز رہ کر ہماری دامن گیر ہوں اور ہمیں (اس وجہ سے کہ حکم متعہ دیا ہے) لعنت کریں دوسری حدیث میں متعہ کے اصرار کی ممانعت ہے اور پہلی حدیث میں کلی ممانعت ہے اور یہ بات کہ احادیثِ شیعہ میں اس قدر تعارض و تخالف ہے کہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ کونسا حکم درست کونسا درست نہیں ہے؟ ایک تشریح طلبِ امر ہے جس کو ہم اپنے موقع پر بیان کریں گے۔

غرض متعہ جیسا مخرب اخلاق حیا سوز مسئلہ اسلام کا مسئلہ ہرگز نہیں ہو سکتا اگرچہ بندگانِ نفس و ہوا کو اس سے کیسی ہی دلچسپی کیوں نہ ہو۔ شاعر کہتا ہے:

مطلوب ہے کہ سیم تنوں سے وصال ہو

مذہب وہ چاہیے کہ زنا بھی حلال ہو