تاریخی انحراف کی اصل وجہ
علی محمد الصلابیدرحقیقت اس تاریخی انحراف کا سبب صرف یہ ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کے بچپن اور کم عمری میں شادی کر لی تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں عیب شمار ہو گا، حالانکہ ایسا کچھ نہیں، کیونکہ جزیرۃ العرب کی سر زمین گرم ترین علاقوں میں شمار ہوتی ہے اور عموماً گرم علاقوں میں بلوغت قدرے پہلے شروع ہو جاتی ہے۔ اسی لیے شادی بھی جلدی ہوتی ہے اور موجودہ زمانے میں بھی جزیرۃ العرب میں یہی کچھ مروج ہے۔ نیز ہر علاقے کی خواتین کا مزاج اس علاقے کی آب و ہوا، قبائل اور خاندانوں کے اعتبار سے اپنی ہم عصر و ہم عمر خواتین سے مختلف ہوتا ہے، بلکہ بعض حالات میں تو یہ فرق زیادہ ہو جاتا ہے۔
قارئین کرام! آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہراتؓ کے حالات کا مطالعہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی کنواری لڑکی سے شادی نہیں کی۔ آپﷺ کی بقیہ تمام بیویاں آپ کے ساتھ شادی کے بندھن میں آنے سے پہلے شادی کر چکی تھیں، کوئی مطلقہ تھی تو کوئی بیوہ (اور ان میں سے بعض کی اپنے پہلے شوہروں سے اولاد بھی تھی)تو اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان شادیوں کی وجہ ازدواجی خوشیاں نہیں تھا(بلکہ ان شادیوں کا ایک مخصوص پس منظر تھا۔ متفرق نوعیت کے مصالح تھے جن کا اسلام کی دعوت اور اسلام کے پیغام کی نشر و اشاعت سے تھا) جب کسی کا شادی سے مقصود حصول لذت ہو تو وہ اپنے لیے سب سے پہلے ایسی عورتیں منتخب کرتا ہے جن میں حسن و جمال اور ترغیب کا وافر سامان موجود ہو(یہاں اس بات کو بھی پیش نگاہ رکھئے کہ طاہر و مطہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی شادی پچیس برس کی بھر پور جوانی کی عمر میں چالیس برس کی بیوہ سے کی، جو اولاد والی تھی۔ پھر تقریباً بائیس برس کا طویل عرصہ یعنی اپنی جوانی کا عرصہ اس ایک زوجہ مطہرہ کی رفاقت میں بسر کیا۔ جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات ہوئی تو ان کی عمر باسٹھ برس تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سینتالیس سال کے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواجی زندگی کا یہ پہلو ان لوگوں کے ناروا پروپیگنڈے کے خلاف بہت بڑی دلیل ہے جو حضرت آقا علیہ الصلاۃ والسلام کے بارے میں نازیبا اعتراض کرتے ہیں۔
اس مسئلے کی مزید معلومات کے لیے درج ذیل مصادر سے استفادہ کر لیا جائے:
1: مقالہ ’’تحقیق سنّ عائشہ رضی اللہ عنہا ‘‘جو علامہ احمد شاکر کی تالیف’’کلمۃ الحق‘ میں شامل ہے۔
2: مقالہ ’’الرد علی من طعن فی سن زواج عائشہ رضی اللہ عنہا ‘‘ محمد عمارہ۔
3: بحث ’’ السہام الرائشۃ للذب عن سنّ زواج السیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ‘‘ ایمن خالد۔
4: کتاب ’’السنا الوہاج فی سنّ عائشہ رضی اللہ عنہا عند الزواج ‘‘ فہد غُفَیلی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کرنے سے پہلے انھیں خواب میں دیکھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أُرِیْتُکِ فِی الْمَنَامِ ثَلَاثَ لَیَالٍ، جَائَ نِیْ بِکَ الْمَلَکُ فِیْ سَرَقَۃٍ مِنْ حَرِیْرٍ فَیَقُوْلُ: ہٰذِہٖ اِمْرَأَتُکَ، فَأَکْشَفَ عَنْ وَجْہِکَ، فَإِذَا أَنْتِ ہِيَ، فَأَقُوْلُ: إِنْ یَکُ ہٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ یُمْضِہٖ
(صحیح بخاری: 3895۔ صحیح مسلم: 2438)
’’تین راتوں میں مجھے خواب میں تمھیں دکھایا گیا۔ فرشتہ ایک ریشمی ٹکڑے میں تمہاری تصویر لایا اور اس نے کہا: یہ آپ کی بیوی ہے۔ جب میں نے تمہارے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو تم وہی تھی۔ چنانچہ میں نے کہا: اگر یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہی اسے نافذ کرے گا۔‘‘
اس مبارک خواب کے بعد منگنی کا مرحلہ طے ہوا جس کا تذکرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خوب تفصیل کے ساتھ کیا ہے۔ وہ ایسا کیوں نہ کرتیں کیونکہ ان ایام کی حلاوت نے ہی ان کی زندگی کو یادگار بنا دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
’’جب خدیجہ رضی اللہ عنہا (سیدہ خدیجہ بنت خویلد بن اسد قریشی کو سب سے پہلے ام المؤمنینؓ بننے کا شرف حاصل ہوا۔ بعثت نبوی سے پہلے ان کو ’’الطاہرہ‘‘ کہا جاتا تھا۔ بعثت سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی سے شادی نہ کی۔ سب سے پہلے مطلق طور پر یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں۔ اس نیک خاتون نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو پھیلانے میں خوب مدد کی۔ یہ ہجرت سے تین سال قبل فوت ہوئیں۔ (الاستیعاب: جلد 2 صفحہ 86۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 7 صفحہ 700) نے وفات پائی تو سیدنا عثمان بن مظعون کی بیوی سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہما نے مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا آپﷺ شادی نہیں کریں گے؟ تو آپ نے جواب دیا: اور کون مجھ سے شادی کرے گی؟ تو انھوں نے کہا: اگر آپﷺ کنواری سے شادی کرنا چاہیں تو بھی موجود ہے، اور اگر آپ بیوہ یا مطلقہ سے شادی کرنا چاہیں تو وہ بھی موجود ہے۔ آپﷺ نے پوچھا: کنواری کون ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی مخلوق میں سے آپﷺ کے نزدیک محبوب ترین شخص کی بیٹی ہے۔ سیدہ عائشہ بنت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہما۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: بیوہ یا مطلقہ کون ہے؟ اس نے کہا: سودہ بنت زمعہ بن قیس (سودہ بنت زمعہ بن قیس قریشی رضی اللہ عنہا ہیں۔ ان کی کنیت ام الاسود ہے۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی۔ وہ 54ھ میں فوت ہوئیں۔ (الاستیعاب: جلد 2 صفحہ 104۔ الاصابۃ: جلد 7 صفحہ 720)۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور آپﷺ کے دین کی انھوں نے پیروی کی۔ آپﷺ نے فرمایا: تم جاؤ اور ان دونوں کے پاس میرا تذکرہ کرو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ میرے پاس تشریف لائیں اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوئی۔ وہاں اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ محترمہ سیدہ ام رومان ملیں، انھوں نے کہا: اے ام رومان! اللہ عزوجل نے تمہارے اوپر کتنی خیر و برکت نازل کی ہے۔ اس نے پو چھا: تیری کیا مراد ہے؟ اس نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے عائشہ کی منگنی کے لیے بھیجا ہے۔ ام رومان نے کہا: مجھے منظور ہے۔ (وددت: میری بھی تمنا ہے یا میری یہی خواہش ہے۔ (الصحاح للجو ہری: جلد 2 صفحہ 529۔ لسان العرب لابن المنظور: جلد 3 صفحہ 454) تم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آنے کا انتظار کرو۔ وہ تشریف لانے ہی والے ہیں۔ کچھ دیر بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ابوبکر! اللہ عزوجل نے تمہارے گھر پر کتنی خیر و برکت نازل فرمائی ہے۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے عائشہ کی منگنی کے لیے بھیجا ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا یہ آپﷺ کے لیے مناسب رہے گی؟ کیونکہ یہ ان کی بھتیجی بنتی ہے۔ ‘‘
بقول خولہ رضی اللہ عنہا میں واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ کو پورا واقعہ بتایا تو آپﷺ نے فرمایا: تم واپس ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور انھیں کہو کہ آپ میرے اسلامی بھائی ہو، اور میں آپ کا بھائی ہوں۔ آپ کی بیٹی میرے لیے مناسب ہے۔ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور انھیں یہ بات بتلائی۔ انھوں نے خولہ رضی اللہ عنہا سے کہا: تم جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے پاس لے آؤ۔ آپ ان کے پاس آئے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بیٹی عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح کر دیا۔ اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر چھ سال کی تھی۔‘‘
(احمد: جلد 6 صفحہ 210۔ الطبرانی: جلد 23 صفحہ 23۔ الحاکم: جلد 2 صفحہ 181۔ بیہقی: جلد 7 صفحہ 129۔ حدیث: 14118۔ امام حاکم نے کہا: یہ مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ ’’البدایہ والنہایہ‘‘میں ابن کثیر رحمہ اللہ نے جلد 3 صفحہ 129 پر کہا یہ سیاق مرسل کی طرح ہے لیکن رو ایت متصل ہے۔ امام ہیثمی رحمہ اللہ نے ’’مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 228 میں کہا: اس کی اکثر رو ایات مرسل ہیں ۔ اس کی سند میں محمد بن عمرو بن علقمہ کی توثیق اکثر محدثین نے کی ہے اور اس سند کے دیگر راوی صحیح مسلم کے راوی ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’فتح الباری: جلد 7 صفحہ 266‘‘ میں اس کی سند کو حسن کہا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی رخصتی کے متعلق خود بیان کرتی ہیں اور یہ کہ انھیں ان کی والدہ محترمہ نے کس طرح تیار کیا۔ وہ کہتی ہیں :’’میری والدہ محترمہ مجھے خوب کھلاتی پلاتیں، وہ چاہتی تھیں میں صحت مند ہو جاؤں، تاکہ وہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیں۔ لیکن ان کی یہ تمنا پوری ہوتی نظر نہ آئی، بالآخر میں نے تازہ کھجوروں کے ساتھ کھیرا یا ککڑی ( القِثَّاء: کھیرا اور ایک قول کے مطابق کھیرے کی طرح ایک چیز کو کہتے ہیں۔ (تہذیب اللغۃ الازہری: جلد 9 صفحہ 205۔ الصحاح للجوہری: جلد 1 صفحہ 64۔ لسان العرب لابن منظور: جلد 15 صفحہ 171) ملا کر کھائیں تو خوب صحت مند ہو گئی۔‘‘
(ابوداؤد: 3903۔ ابن ماجہ: 2701۔ المعجم الاوسط للطبرانی: جلد 5 صفحہ 262، حدیث: 5264۔ بیہقی: جلد 7 صفحہ 254، حدیث: 14862۔ اس حدیث کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ابن ماجہ میں صحیح کہا ہے)
جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر تشریف لائیں تو ان کے کھلونے ان کے ساتھ تھے۔
(صحیح مسلم: 1422)