مدینہ میں مؤاخاۃ (بھائی چارہ)
علی محمد محمد الصلابیرسول اکرمﷺ نے علی بن ابی طالب اور سہل بن حنیف رضی اللہ عنہما کے درمیان مؤاخاۃ کا رشتہ قائم کیا۔
(الکاشف للذہبی: جلد 3 صفحہ 218)۔
اس ضمن میں بعض علماء نے یہ بحث چھیڑی ہے کہ کیا مکہ میں بھی ان مہاجرین کے درمیان کوئی مؤاخاۃ قائم ہوئی تھی، چنانچہ بلاذری نے اشارہ کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ہجرت سے پہلے مکہ میں راہِ حق میں مرمٹنے کے جذبہ کو پروان چڑھانے اور ایک دوسرے کی غمخواری کے لیے مسلمانوں میں باہمی مؤاخاۃ کا رشتہ قائم کیا تھا، چنانچہ سیدنا حمزہ اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کے درمیان، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان، عثمان بن عفان اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کے درمیان، زبیر بن عوام اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے درمیان، عبیدہ بن حارث اور بلال حبشی رضی اللہ عنہما کے درمیان، مصعب بن عمیر اور سعد بن ابی۔ وقاص رضی اللہ عنہما کے درمیان، ابوعبیدہ بن جراح اور سالم مولیٰ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہما کے درمیان، سعید بن زید بن عمرو بن نفیل اور طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہما کے درمیان اور اپنے اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے درمیان مؤاخاہ قائم کی تھی۔
(انساب الأشراف: جلد 1 صفحہ 270)۔
بلاذری متوفی 276ھ سب سے قدیم مؤرخ ہیں، جنھوں نے مکہ میں مؤاخاۃ کا ذکر کیا ہے، بعد میں ان کی متابعت کرتے ہوئے ابن عبدالبر متوفی 463ھ نے بھی اس کا ذکر کیا ہے، لیکن بلاذری سے نقل کرنے کی صراحت نہیں کی ہے۔ بعد میں ابن سیدالناس نے بھی انھیں دونوں پر اعتماد کرتے ہوئے اس کا ذکر کیا ہے، لیکن صراحت سے کسی کا حوالہ نہیں دیا ہے۔
(السیرۃ النبویۃ الصحیحۃ: جلد 1 صفحہ 40)۔
امام ابن تیمیہ رحمۃاللہ علیہ مہاجرین کی باہمی مؤاخاۃ کو تسلیم نہیں کرتے اور اس سلسلہ میں وارد شدہ روایات کے بارے میں آپ کی تحقیق یہ ہے کہ وہ سب جھوٹی ہیں، انھیں میں سے یہ روایت بھی ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے اپنے اور علیؓ کے درمیان مؤاخاۃ کا رشتہ قائم کیا تھا۔
(منہاج السنۃ: جلد 5 صفحہ 71، جلد 7 صفحہ 361)۔
امام ابن القیم بھی مکہ میں مؤاخاۃ کے قائل نہیں ہیں، چنانچہ آپ لکھتے ہیں:
’’بیان کیا جاتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے مہاجرین کے درمیان باہمی مؤاخاۃ کا رشتہ قائم کیا تھا اور اس میں سیدنا علیؓ کو اپنے ساتھ رکھا تھا، لیکن قابلِ اعتماد پہلی بات ہے۔ (یعنی صرف مؤاخاۃ مدینہ ) کیوں کہ مہاجرین کو آپس میں مؤاخاۃ کی ضرورت نہ تھی، ان کے درمیان اسلامی اخوت، گھریلو رشتے اور خاندانی تعلقات تو قائم ہی تھے، ہاں مہاجرین کا انصار کے ساتھ مؤاخاۃ کرانا اس سے مختلف چیز تھی کہ دونوں دو تھے جنھیں ایک کیا گیا۔‘‘
(زاد المعاد: جلد 2 صفحہ 79)۔
سیرت نبوی پر لکھی گئی قدیم ترین کتب میں بھی مکہ میں مہاجرین کے درمیان مؤاخاہ کا کوئی اشارہ نہیں ملتا ہے، حتی کہ خود بلاذری جنھوں نے اس کو تحریر کیا ہے اس کی کوئی سند ذکر نہیں کی ہے، بلکہ اس کے لیے صیغہ جہالت یعنی ’’قیل‘‘ بمعنیٰ کہا گیا ہے، سے اس واقعہ کا آغاز کیا ہے، جو کہ اس روایت کے ضعیف ہونے کے لیے کافی ہے، بلکہ مستند محققین کے نزدیک خود بلاذری ضعیف (ناقابل اعتماد) مانے جاتے ہیں، تاہم اگر اس روایت کو صحیح مان لیں تو مکہ میں مؤاخاۃ کا مطلب یہ ہوگا کہ ایسے دو افراد آپس میں ایک دوسرے کے خیرخواہ اور مددگار ہوں گے، یہ نہیں کہ دونوں میں وراثت کے وہ حقوق نافذ ہوں گے۔
(السیرۃ النبویۃ الصحیحۃ: جلد 1 صفحہ 241)۔
جسے بعد میں اس فرمان الہٰی سے منسوخ کر دیا گیا:
وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِىۡ كِتٰبِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ۞ (سورۃ الأنفال آیت 75)
ترجمہ: ’’اور رشتے دار اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔ بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔‘‘
نظامِ مؤاخاۃ کے سبب سے وراثت کے حقوق کو اس آیت میں منسوخ کر دیا گیا ہے۔
(السیرۃ النبویۃ الصحیحۃ: جلد 2 صفحہ 246)۔
اور یہ حکم باقی رکھا گیا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے مددگار، خیرخواہ اور پرسان حال ہوں گے۔
(التاریخ الإسلامی: حمید: جلد 4 صفحہ 25)۔
حافظ ابن کثیر رحمۃاللہ علیہ رقم طراز ہیں کہ بعض علماء سیدنا علیؓ کے ساتھ نبی کریمﷺ کی مؤاخاۃ کے قائل نہیں ہیں، وہ اس واقعہ کی صحت کے منکر ہیں اور ان کی دلیل یہ ہے کہ مؤاخاۃ کی مشروعیت کا اصل مقصد باہم الفت و محبت کا ماحول پیدا کرنا اور ایک دوسرے کی دل جوئی کرنا تھا اور وہ اس مقصد کے لیے پہلے ہی سے قربان تھے، کوئی ضرورت نہ تھی کہ آپﷺ کسی سے یا کوئی مہاجر کسی مہاجر سے مکہ میں مؤاخاۃ کا رشتہ قائم کرتا، لیکن ابن کثیرؒ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ہو سکتا ہے آپﷺ نے اپنے اور علی کے درمیان یہ تعلق اس لیے قائم کیا ہو تاکہ حضرت علیؓ کے مصالح دوسروں کے حوالہ نہ ہوں، کیوں کہ بچپن ہی سے جب ان کے باپ زندہ تھے آپﷺ ہی ان پر خرچ کرتے تھے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 3 صفحہ 226) مزید معلومات کے لیے عبدالعزیز نورولی کی کتاب ’’اثر التشیع علی الروایات التاریخیۃ فی القرن الأول: صفحہ 293-298) کا مطالعہ کریں۔)
حافظ ابن کثیر رحمۃاللہ علیہ نے یہاں اس توجیہ و تعلیل کو نقل تو کر دیا، لیکن آگے چل کر دوسرے مقام پر یہ اشارہ دے دیا ہے کہ علی اور نبی کریمﷺ کے درمیان مؤاخات کو ثابت کرنے والی تمام روایات ضعیف اور ناقابل حجت ہیں۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 348) ۔
چند اور دیگر مصادر بھی ہیں جو ان دونوں کے درمیان مواخاۃ کو ذکر کرتے ہیں، لیکن وہ سب بےسروپا روایات ہیں جس کی کوئی سند نہیں، مثلاً محمد بن حبیب، (المحبر: صفحہ 70)۔
ابن الجوزی (المنتظم فی تاریخ الملوک و الأمم: جلد 3 صفحہ 74)۔
اور ابن الاثیر (أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ: جلد 3 صفحہ 588، 601) کی روایات۔
مدینہ نبویہ میں مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخاۃ کا جو تعلق قائم ہوا تھا وہ عقیدہ و ایمان پر قائم ہوا تھا اور یہی عقیدہ و ایمان مواخاۃ میں ریڑھ کی ہڈی تھی، اس لیے کہ وہ عقیدہ بلاتفریق سارے انسانوں کو صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کی صف میں کھڑا کرتا ہے، اس کی نگاہ میں اگر کوئی چیز وجہ امتیاز ہے تو وہ صرف تقویٰ اور عمل صالح ہے۔ اس بات کی ہرگز توقع نہیں کی جاسکتی کہ جن انسانوں کے افکار و عقائد میں اختلاف ہو اور ان کا ہر فرد انانیت، ذاتی ترجیح اور نفس پرستی کا شکار ہو، ان کے درمیان اخوت اور تعاون کی فضا عام ہو۔
(فقہ السیرۃ: البوطی: صفحہ 148)۔
دراصل مہاجرین اور انصار کے درمیان یہ مواخاۃ رسول اللہﷺ کی طرف سے ایک طرح کی سیاسی پیش رفت تھی، جس کے ذریعہ سے آپﷺ دونوں کے احساس و شعور میں باہمی الفت و محبت کوٹ کوٹ کر بھر دینا چاہتے تھے اور ایسا کیوں نہ ہوتا جب کہ مہاجرین و انصار نے اس بےمثال رشتۂ اخوت و محبت کی حفاظت کے لیے اپنی نیندوں کو قربان کیا تھا اور اس کی پالیسیوں کو نافذ کرنے کے لیے ان کا ہر فرد ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتا تھا۔
(فصول من السیرۃ النبویۃ: عبدالمنعم السید: صفحہ 200)۔
بالخصوص وہ انصار کہ جن کی مدحت سرائی میں بڑے بڑے ادباء و مؤلفین اس ربانی تعریف سے بڑھ کر کوئی تعریفی کلمات نہ پیش کر سکے۔
(ہجرۃ الرسول و صحابتہ فی القرآن و السنۃ: جمل: صفحہ 524)
وَالَّذِيۡنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالۡاِيۡمَانَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ يُحِبُّوۡنَ مَنۡ هَاجَرَ اِلَيۡهِمۡ وَلَا يَجِدُوۡنَ فِىۡ صُدُوۡرِهِمۡ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَيُـؤۡثِرُوۡنَ عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٌ وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَـفۡسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ۞ (سورۃ الحشر آیت 9)
ترجمہ: (اور یہ مال فیئ) ان لوگوں کا حق ہے جو پہلے ہی سے اس جگہ (یعنی مدینہ میں) ایمان کے ساتھ مقیم ہیں۔ جو کوئی ان کے پاس ہجرت کے آتا ہے یہ اس سے محبت کرتے ہیں، اور جو کچھ ان (مہاجرین) کو دیا جاتا ہے، یہ اپنے سینوں میں اس کی کوئی خواہش بھی محسوس نہیں کرتے، اور ان کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، چاہے ان پر تنگ دستی کی حالت گزر رہی ہو۔ اور جو لوگ اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ ہو جائیں، وہی ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔