Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

انیسواں طعن

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی نعش تین دن بے گور و کفن پڑی رہی اور نماز جنازہ بھی نہ ہوئی۔

جواب: اول تو یہ بات سراسر بہتان وافتراء ہے جب آپ کے بڑے بڑے مقتدر رشتہ دار حضرت طلحہ، زبیر، عمرو بن العاص رضی اللہ عنھم وغیرہ موجود تھے۔ جنہوں نے قصاص میں جنگ ہائے عظیم کیے اور نیز صدہا زرخرید جان نثار غلام بھی تھے، تو یہ کیونکر تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ آپ کی نعش تین روز بے گور و کفن پڑی رہی ہو۔ اگر فرض کرو کہ ایسا ہی ہوا، تو اس سے آپ کی شانِ اقدس میں کیا کمی آسکتی ہے کیا شہدائے کربلا کے ساتھ اشرار نے اس سے بڑھ کر سلوک نہیں کیا؟ بلکہ مرثیہ خوان لوگ بڑی آب و تاب سے مجلسوں میں جھوم جھوم کر واقعات اہانت و ذلت اہل بیت (شہیدان کربلا) بیان کیا کرتے ہیں۔ کیا اس سے معاذاللہ ان کی شان والا میں کچھ نقص واقع ہو سکتا ہے۔ ایسے اعتراضات کرنے کے وقت شیعوں کو یہ خیال کر لینا چاہیے کہ کیا اس سے ہم پر زد تو نہیں پڑتی مگر ان کا تو یہ اصول ہے کہ پرائی شگون کے لیے اپنی ناک کٹوادی جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ آپ کی نعش مبارک بڑی عزت و احترام سے جنت البقیع میں دفن کی گئی جو مدفن ازواج و اولاد امجاد اکثر اصحابؓ با صفا ہے۔ اس امر کی تصدیق شیعہ کی مستند تفسیر جامع عباسی باب دوم میں درج ہے۔

غرض حضرت عثمان غنیؓ برگزیده خلیفہ رسولﷺ تھے جن کو دوہری دامادی رسول مقبولﷺ کا فخر حاصل تھا۔ آپ کے مال طیب سے اسلام کو بہت بڑی مدد ملتی رہی۔ آپؓ کے عہد خلافت میں جانب غرب اندلس تک اور جانب مشرق کابل و بلخ تک اسلامی مقبوضات کی وسعت ہوئی۔ بری و بحری جنگ عظیم ہو کر اہل روم کو مسخر کیا گیا عراق و عجم و خراسان زیر نگین سلطنت ہوئے۔ پس آپ کی شہادت پر ترقئ اسلام کا خاتمہ ہو گیا۔ عہد امارت حضرت علیؓ میں صرف خانہ جنگیاں ہوتی رہیں اور بہت سے اسلامی نفوس حفاظ و اصحابؓ نے جامِ شہادت نوش کیا۔ کسی شاعر نے آپ کی منقبت میں یوں درفشانی کی ہے:

نبیﷺ کی بہن کے تھے عثمانؓ بیٹے

ہو کیا اس سے بڑھ کر نجابت غنیؓ کی 

سب اسلامیوں سے ہوئی دور عُسرت 

ہوئی نفع بخش ایسی دولت غنیؓ کی 

ہوئی فوت اک، دوسری دے دی بیٹی

یہ دل میں نبیﷺ کے تھی وقعت غنیؓ کی

نبیﷺ نے سفارت پر مکے کو بھیجا

تو لی ہاتھ اپنے سے بیعت غنیؓ کی

علیؓ ان کے ہم زلف زہراؓ تھی سالی

یہ سبطین سے تھی قرابت غنیؓ کی

ہے اوراق تاریخ میں محبت اب تک

شجاعت علیؓ کی سخاوت علیؓ کی

(دائرة الاصلاح: لاہور)

مطاعن اصحابؓ ثلاثہ پر مدلل بحث ہو چکی۔ آپ کے فضائل بہ شہادت کتاب اللہ و کتب شیعہ ثابت کر دیے گئے ہیں۔

اب ہم تھوڑا سا تذکرہ اس امر کا کر دینا مناسب سمجھتے ہیں کہ جناب امیرؓ اور ان کے اہل بیت کو اصحاب ثلاثہؓ سے کہاں تک محبت و پیار تھا۔ کہ زندگی میں تو ان سے شیر و شکر رہے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے اسمائے گرامی پر اولاد کے نام رکھے۔ تاکہ اگر ان کی صورتیں موجود نہیں تو ان کے نام پکار کر یاد تازہ کرتے رہیں۔