Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

شیعہ صاحبان حضرت امیرِ معاویہؓ کو بہت کوستے ہیں کیونکہ انہوں نے جناب امیرؓ سے جنگ کی، اس کا جواب پہلے دیا جا چکا ہے کہ یہ ناگوار واقعہ طرفین کی اجتہادی رائے کی وجہ سے ہوا وہ باہم جدی بھائی تھے اصحابِ رسول اللہﷺ تھے سیدنا امیرِ معاویہؓ کاتبِ وحی بھی تھے حضورِ اکرمﷺ کے سالے بھی تھے آپ کی شان میں بہت سی احادیث وارد ہیں حضورِ اکرمﷺ سے آپ نے بہت سی احادیث روایت کی ہیں پھر اس ایک واقعہ سے جس کا خاتمہ صلح پر ہوا آپ کو برا کہنا اپنے نامہ اعمال کو سیاہ کرنا ہے بھائیوں کے درمیان تنازعات ہوا کرتے ہیں اور صلح و صفائی بھی ہو جاتی ہے لیکن ایک اجنبی شخص کا حق نہیں ہے کہ اس تنازعہ کی وجہ سے ایک کو برا بھلا کہے۔

حضرت یوسف علیہ السلام پر ان کے بھائیوں نے کسی قدر مظالم توڑے اور تکلیف دی تھی لیکن آخر حضرت یوسف علیہ السلام نے ان کی خطاء کو معاف کر دیا باہم بغل گیر ہوئے ایسا ہی یہ واقعہ ہے دیکھنا یہ ہے کہ جناب امیرؓ نے اس بارے میں کیا فتویٰ دیا ہے؟ ان کو مسلمان اپنا بھائی قرار دیا ہے یا کافر و منافق اور ان کو لعن طعن کرنے کا حکم دیا ہے یا اس سے منع فرمایا ہے آپ نے جو ایک مشتی چٹھی بدستِ خاص تحریر فرما کر مختلف بلاد و امصار میں شائع کی تھی جو نہج البلاغت مطبوعہ طہران صفحہ 502 میں ہے درج ذیل کی جاتی ہے جس سے امیرؓ کے خیالات کا پتہ چلتا ہے جو سیدنا امیرِ معاویہؓ اور ان کی جماعت کی نسبت بعد واقعہ جنگ تھے۔ 

ومن كتاب له عليه السلام كتبه الى اهل الامصار القوم يقتص به ما جرى بينه وبين اهل صفين وكان بدء امرنا انا التقيناها والقوم من اهل الشام والظاهر ان ربنا واحد ودعوتنا فی الاسلام واحدة ولا نستزيدهم فی الايمان بالله والتصديق برسوله ولا يستزيدوننا الامر واحد الا ما اختلفنا فيه من دم عثمان ونحن منه براء۔

ترجمہ: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک دستخطی چٹھی لکھ کر مختلف بلا دو امصار میں مشتہر فرمائی اس میں جنگِ صفین کا واقعہ درج تھا کہ ہمارے معاملہ کی ابتداء یوں ہے کہ ہماری اور اہلِ شام کی آپس میں جنگ چھڑ گئی اور یہ ظاہر ہے کہ ہم دونوں فریق کا ایک خدا اور ایک رسول ہے اور ہمارا اسلام میں بھی دعویٰ ایک رہا ہے ہم ان سے درباره اعتقادات توحید و رسالت کچھ زیادتی نہیں چاہتے اور نہ اس بارہ میں وہ ہم سے کچھ زیادتی کے طالب ہیں بات ایک ہی ہے اختلاف صرف خون عثمانِ غنیؓ دل اللہ کے متعلق تھا حالانکہ ہم اس الزام سے بری ہیں

حضرت امیرؓ کا یہ مکتوب امر متنازعہ کے متعلق ایک قاطع النزاع صریح فیصلہ ہے آپ نے اس میں بالتصریح تحریر فرمایا کہ ہمارا اور اہلِ شام (حضرت امیرِ معاویہؓ اور ان کے گروہ) کا اسلام اور ایمان کے بارے میں کوئی جھگڑا نہیں ہوا وہی خدا اور رسول اللہﷺ اُن کا ہے جو ہمارا ہے اور اسلام بھی ہر ایک فریق کا ایک ہی ہے اعتقادات میں بھی کوئی نزاع نہیں ہے۔ ہم ان کو توحید و رسالت میں کامل الایمان سمجھتے ہیں اور وہ ہم کو بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں ہمارا اور ان کا صرف یہ اختلاف تھا کہ انہوں نے اپنے خیال میں حضرت عثمانِ غنیؓ کے قتل کا ذمہ دار ہمیں قرار دیا حالانکہ ہم اس الزام سے سے بالکل بری الذمہ ہیں۔

بتلائیے ایسے صریح فیصلہ کے بعد حضرات شیعہ ہم سے کیا ثبوت چاہتے ہیں؟ جناب امیرؓ جن سے جنگ ہوئی وہ تو تمام اسلامی عقائد میں امیر معاویہؓ کو اپنے جیسا مسلمان سمجھتے ہیں لیکن شیعہ صاحبان برخلاف فیصلہ جناب امیرؓ کو کافر و منافق قرار دیتے ہیں اب ناظرین خود ہی انصاف کریں کہ امیرؓ کو معتبر سمجھا جائے یا شیعہ کو ہر ایک منصف شخص اس مکتوب کے پڑھنے کے بعد حضرت امیرِ معاویہؓ کو ایسا ہی کامل الایمان سمجھے گا جیسا امیرؓ ان کو سمجھتے تھے ہاں جن کے دلوں پر خدا نے مہر کر دی ہے وہ مجبور ہیں۔

اگر سیدنا امیرِ معاویہؓ معاذ اللہ فاسق و منافق ہوتے تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ ہرگز ان کی بیعت نہ کرتے بلکہ تلوار اٹھا کر ان سے مقابلہ کرتے جیسا کہ بعد میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے یزید لعین سے مقابلہ کیا اہلِ انصاف کے لیے اس قدر بحث اس بارے میں کافی ہے ہاں ضد کا کوئی علاج ہی نہیں۔

حضرت امیرِ معاویہؓ کے فضائل کے متعلق اخبار النجم (یہ اخبار بسر پرستی حضرت مولانا عبد الشکور صاحب اور ان کے صاجزدگان کے زیر ادارت لکھنو سے شائع ہوتا ہے جس کو اہلِ سنت والجماعت کا واحد آرگن کہنا چاہیے جو تشیع کے درجنوں جرائد اور رسائل کا اکیلا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے اس کے علمی محققانہ مضامین قابل داد ہے ہر ایک زی علم سنی مسلمان کے گھر میں ہونا چاہیے) لکھنؤ مورخہ سات ستمبر 1934ء میں ایک مضمون ہدیہ ناظرین کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ مسلمانان کو جمیع اصحابِ رسول اللہﷺ کی محبت و عقیدت عطا فرمائے۔ آمین