Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے نجی حالات

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صاحبِ مظاہر حق بھی اسی روایت کی شرح میں لکھتے ہیں کہ حضرت امیرِ معاویہؓ کاتبِ وحی تھے اور بعض نے کہا کہ کاتبِ وحی نہیں تھے بلکہ حضورِ اکرمﷺ کے خطوط نویس تھے اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام کے حاکم ہوئے اور 20 سال تک حکومت کی اور 78 سال کی عمر میں رحلت فرمائی آپ کے پاس آپﷺ کا تہبند چادر اور قمیض تھی اور کچھ حضورِ اکرمﷺ کے موئے مبارک اور ناخن تھے حضرت امیرِ معاویہؓ نے وصیت فرمائی کہ آپﷺ کی قمیض میں مجھ کو کفنانا اور چادر میں لپیٹنا اور تہبند باندھنا اور میرے سجدہ کی جگہوں میں اور میرے حلق میں آپﷺ کے موئے مبارک اور ناخن باندھ کر اور رکھ کر میرے اور ارحم الراحمین کے درمیان تخلیہ کر دینا۔

(تتمہ مظاہر حق: جلد، 4 صفحہ، 199، 200)

اور احمد نے مسند میں ارباض بن ساریہ سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ الٰہی معاویہؓ کو حساب و کتاب سکھا دے اور اپنے عذاب سے ان کو بچا لے نیز مصنف ابنِ ابی شیبہ میں اور طبرانی کبیر میں عبدالملک بن عمیر سے روایت کرتے ہیں کہ خود حضرت امیرِ معاویہؓ نے کہا کہ مجھے خلافت کی اس وقت سے امید تھی جس وقت سے رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ معاویہؓ جب تو بادشاہ ہو جائے تو لوگوں سے اچھی طرح پیش آنا۔

(بیان الامراء: صفحہ، 207، 208) 

چنانچہ لوگوں کے ساتھ وہ حتی الوسیع عدل و انصاف کے ساتھ پیش آئے حضرت امیرِ معاویہؓ کو برا کہنے والے حضورِ اکرمﷺ کے ارشاد لا تسبوا اصحابی۔ (مسلم)

اور حدیث: اذا رايتم الدين يسبون اصحابی فقولوا لعنة الله على شركم۔ (ترمذی) 

کی وعید داخل ہے کہ جب تم ان کو دیکھو اور جو میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالیاں دیتے ہیں تو کہہ دو تمہارے شر پر خدا کی لعنت ہو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالی دینا حرام ہے جیسا کہ حضورِ اکرمﷺ کی نہی سے ظاہر ہے اور علامہ نوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:

واعلم الصحابه حرام فواحش المحرمات سواء من لابس الفتن من هم وغيره لانهم مجتهدون فی تلك والحرب متاولون۔

ترجمہ: اور جان لو کے حرام ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالی دینا فواحش محرمات میں سے ہے چاہے وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہوں جو فتنہ میں ملابس ہوں جیسے (امیرِ معاویہؓ رضی اللہ عنہ وغیرہ) کیونکہ وہ باہمی جنگوں میں مجتہد اور متاول ہیں۔

وقال القاضی وسب عهدهم من المعاصی الكبائر۔ 

ترجمہ: اور قاضی نے فرمایا صحابی کو گالی دینا کبیرہ گناہ میں سے ہے۔

اچھا اگر کوئی بدطینت بدبخت ایسا ہو جو نعوذ باللہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالیاں دے تو اس کا کیا حکم ہے؟ آگے فرماتے ہیں مذهبنا ومذهب جمهور انه يعذر ولا يقتل وقال بعض المالكيه يقتل۔

(نوی: صفحہ، 310)

اور جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اس کی تعزیر دی جائے اور قتل نہ کیا جائے اور بعض مالکیہ نے فرمایا کہ قتل کیا جائے۔

علماءِ کرام کے ارشادات مبارک ملاحظہ ہوں: 

ويكف عن ذكر الصحابة الا بخير۔ 

(شرح عقائد: صفحہ، 116) 

یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اللہ عنہم کے ذکر سے روکا جائے مگر خیر کے ساتھ۔

اس عبارت کے حاشیہ پر محشی بحوالہ شرح فقہ اکبر تحریر فرماتے ہیں: 

ولذا ذهب جمهور العلماء الى ان الصحابه كلهم عدول قبل فتنة عثمان وعلى كذا بعدها۔

اسی لیے جمہور علماء اس طرف گئے ہیں کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں اس وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فتنے سے پہلے اور ایسے ہی بعد فتنہ بھی۔

علامہ نسفی بھی اس متن کو شرح میں فرماتے ہیں: وبالجمله لم ينقلوا على السلف المجتهدين والعلماء وصالحین جواز للعن على معاويه وا احزابه۔

(شرح عقائد: صفحہ، 116)

الحاصل سلف مجتہدین اور علماء صالحین سے حضرت امیرِ معاویہؓ اور ان کے شرکاء پر جواز لعن منقول نہیں۔

 لہٰذا اب محقق ہو گیا کہ علماءِ اہلِ سنت و الجماعت کے نزدیک حضرت امیرِ معاویہؓ کو فاسق کہنا یا ان پر لعن طعن کو جائز قرار دینا بدعت ہے اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔ آمین