کیا حضرت امیر معاویہؓ کو حضورﷺ نے بد دعا دی؟ - ردِ رافضیت |…

کیا حضرت امیر معاویہؓ کو حضورﷺ نے بد دعا دی؟

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 1 از 6

کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضورﷺ نے بد دعا دی؟

بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضورﷺ نے بد دعا دی۔

چنانچہ مسلم شریف کی حدیث لاتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ  سے روایت ہے کہ ایک بار مجھے حضورﷺ نے حکم دیا کہ امیر معاویہؓ کو بلاؤ میں بلانے گیا تو وہ کھانا کھارہے تھے۔ میں نے آ کر عرض کر دیا پھر حضورﷺ نے فرمایا کہ امیر معاویہؓ کو بلاؤ۔ جب میں گیا تو وہ کھانا کھا رہے تھے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! وہ کھارہے ہیں۔ تو فرمایا ان کا پیٹ نہ بھرے اور حضور علیہ السلام کی دعا بھی قبول ہے بددعا بھی۔ چنانچہ حضرت امیر معاویہؓ کو حضور علیہ السلام کی بددعا لگی ہے۔ اس کا جواب دیں۔
جواب: اعتراض کرنے والے نے اس حدیث کو سمجھنے میں غلطی کی۔ کم از کم اتنی ہی بات سمجھ لی ہوتی کہ جو حضورﷺ گالیاں دینے والوں کو معاف کر دیتے، وہ حضورﷺ اس موقعہ پر حضرت امیر معاویہؓ کو بلا قصور کیوں بد دعا دیتے؟

تیسری بات یہ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے حضرت امیر معاویہؓ سے یہ کہا بھی نہیں کہ آپ کو سرکارﷺ بلا رہے ہیں۔ صرف دیکھ کر خاموش واپس آئے اور حضور علیہ السلام سے واقعہ عرض کیا۔

چوتھی بات یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا نہ کوئی قصور تھا، نہ کوئی خطا اور حضور علیہ السلام یہ بددعا دیں، یہ ناممکن ہے۔

اب اعتراضات کے جوابات سنتے ہیں کہ عرب میں محاورہ اس قسم کے الفاظ پیار و محبت کے موقع پر بھی بولے جاتے ہیں۔ ان سے بددعا مقصود نہیں ہوتی۔ مثلاً تیرا پیٹ نہ بھرے، تجھے تیری ماں روئے وغیرہ۔ کلمات غضب کیلئے نہیں بلکہ کرم کیلئے ارشاد ہوئے ہیں اور اگر مان بھی لیا جائے کہ سرکار علیہ السلام نے حضرت معاویہؓ کو بد دعا دی تو بھی یہ بددعا حضرت امیر معاویہؓ کے نتیجے میں رحمت بنی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت امیر معاویہؓ کو اتنا بھرا اور اتنا مال دیا کہ انہوں نے سینکڑوں کا پیٹ بھر دیا۔

ایک ایک شخص کو بات بات پر لاکھوں لاکھوں روپیہ انعام دیئے۔ کیونکہ حضور علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل سے عہد لیا تھا کہ مولیٰ عزوجل! اگر میں کسی مسلمان کو بلا وجہ لعنت یا بد دعا کروں تو اسے رحمت اجر اور پاکی کا ذریعہ بنا دینا۔

حدیث:

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت ابو ہریرہؓ سے کتاب الدعوات میں حدیث ہے کہ فرمایا حضور علیہ السلام نے کہ اے اللہ! جس کسی کو برا کہہ دوں تو قیامت میں اس کے لیے اس بد دعا کو قرب کا ذریعہ بنا۔

(بحوالہ مسلم شریف)

اب سمجھ میں آ گیا کہ حضرت امیر معاویہؓ پر لگائے گئے سارے الزامات بے بنیاد ہیں اور حضرت امیر معاویہؓ کاتب وحی، عاشق رسول اور جید صحابی رسول ہیں۔

"اللہ تعالیٰ ان کے پیٹ کو نہ بھرے۔“

[صحیح مسلم: جلد 2 صفحہ 325، حدیث: 2604]

یہ حدیث سیدنا معاویہؓ کی فضیلت بیان کرتی ہے۔ اس سے سیدنا معاویہؓ  کی تنقیص ثابت نہیں ہوتی، کیونکہ رسول اللہﷺ کا یہ کلام بطور بددعا نہیں تھا، بلکہ بطور مزاح اور بطور تکیہ کلام تھا۔ کلامِ عرب میں ایسی عبارات کا بطور مزاح یا بطورِ تکیہ کلام استعمال ہونا ایک عام بات ہے۔ عربی لغت و ادب کے ادنیٰ طلبہ بھی اس سے واقف ہیں۔

 مشہورلغوی ابومنصور، محمد بن احمد، ازہری (م: 370 ھ) ایسے کلمات کے بارے میں مستند لغوی ابوعبید سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وهٰذا علٰي مذهب العرب فى الدعائ على الشيئ من غير إرادة لوقوعه، لا يراد به الوقوع .

"ایسی باتیں عربوں کے اس طریقے کے مطابق ہیں، جس میں وہ کسی کے بارے میں بددعا کرتے ہیں لیکن اس کے وقوع کا ارادہ نہیں کرتے، یعنی بددعا کا پورا ہو جانا مراد ہی نہیں ہوتا۔“

[تهذيب اللغة: جلد 1 صفحہ 145]

سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا جو کہ سیدنا انسؓ کی والدہ تھیں، ان کے ہاں ایک لڑکی تھی۔ رسولِ اکرمﷺ نے اس لڑکی کو دیکھا تو فرمایا: یہ تو ہے؟ تو تو بڑی ہو گئی ہے۔ تیری عمر بڑی نہ ہو۔ یہ سن کر وہ لڑکی روتی ہوئی سیدہ ام سلیمؓ کی طرف دوڑی۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے پوچھا: بیٹی! تجھے کیا ہوا؟ اس نے عرض کیا: میرے بارے میں رسول اللہﷺ نے بددعا فرما دی ہے کہ میری عمر نہ بڑھے۔ اب تو میری عمر کبھی نہیں بڑھے گی۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا جلدی سے اپنی چادر زمین پر گھسیٹتے ہوئے گئیں اور رسول اللہﷺ سے ملیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ام سلیم! آپ کو کیا ہوا؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! آپ نے اس لڑکی کے لیے بددعا فرمائی ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: بات کیا ہے؟ عرض کیا: لڑکی کہتی ہے کہ آپ نے اس کو یہ بددعا دی ہے کہ اس کی عمر نہ بڑھے۔ اس پر رسول اللہﷺ  مسکرائے اور فرمایا: ام سلیمؓ! کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے اپنے رب سے یہ شرط منظور کرائی ہے اور دُعا کی ہے کہ میں ایک انسان ہوں، انسانوں کی طرح راضی بھی ہوتا ہوں اور ناراض بھی۔

لہٰذا جس کے لیے بھی میں بددعا کر دوں جس کا وہ مستحق نہ ہو، تو اس بددعا کو اس کے لیے گناہوں سے پاکیزگی اور طہارت بنا دے، نیز اس بددعا کو روزِ قیامت اپنے تقرب کا ذریعہ بنا دے۔“

(صحیح مسلم: 2603)

شارحِ صحیح بخاری، علامہ ابن بطال رحمۃاللہ (م: 449ھ) اس طرح کی ایک عبارت کے بارے میں فرماتے ہیں:

هي كلمة لا يراد بها الدعائ، وإنما تستعمل فى المدح، كما قالوا للشاعر، إذا أجاد، : قاتله الله، لقد أجاد ۔

"یہ ایسا کلمہ ہے کہ اس سے بددعا مراد نہیں ہوتی۔ اسے صرف تعریف کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جیسا کہ جب کوئی شاعر عمدہ شعر کہے تو عرب لوگ کہتے ہیں : قاتله الله ”اللہ تعالیٰ اسے مارے“، اس نے عمدہ شعر کہا ہے۔“

[شرح صحيح البخاري : جلد 9 صفحہ 329]

( "اللہ معاویہ کا پیٹ نہ بھرے "حدیث سے مرزا اور اسکے حواریوں کا باطل استدلال)
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَارَيْتُ خَلْفَ بَابٍ قَالَ فَجَاءَ فَحَطَأَنِي حَطْأَةً وَقَالَ اذْهَبْ وَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَأْكُلُ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِيَ اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَأْكُلُ فَقَالَ لَا أَشْبَعَ اللَّهُ بَطْنَهُ.
صفحہ 1 از 6