صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں سلمان ندوی…

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں سلمان ندوی کے چند اقوال

  مامون رشید

یہ کوئی تفصیلی مضمون نہیں ہے اور نہ ہی ندوی صاحب کے شیعی، صوفی اور خارجی عقائد و نظریات کا تنقیدی جائزہ ہے، بلکہ صحابہ کرامؓ کی شان میں ان کی گستاخانہ باتوں کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے، ورنہ دیکھا جائے تو ان کی ہر تقریر صحابہ کرامؓ پر تنقید اور ان کی عدالت اور ایمان میں تشکیک آمیز مواد سے بھری پڑی ہے۔

1: سلمان ندوی نے جلیل القدر صحابی اور کاتبِ وحی سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے "کاتب وحی" ہونے کا انکار کیا ہے۔ اور انہیں نعوذ باللہ "جہنمی،'' "جہنم کا داعی،'' "اچھوت،" "شودر،" "بدمعاش" "قاتل" "مجرم" اور "خبیث" جیسے غلیظ الفاظ سے پکارا ہے۔ اور یہ جھوٹا دعویٰ کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان پر بددعا کی تھی جس کی وجہ سے سات سات بار کھا کر بھی ان کا پیٹ نہیں بھرتا تھا، انہوں نے احادیث کا تمسخر اڑاتے ہوئے حضرت معاویہؓ کی صحابیت کا بھی یکسر انکار کیا اور ان کا دفاع کرنے والے علمائے اہل سنت کو "شیطان کی اولاد" "مجرم،" "فراڈی،" "خبیث"، "جھوٹے"، "مکار"، "جہنمی" اور "ناصبی" قرار دیا ہے۔

مولانا کہتے ہیں:"کہتے ہیں کہ وہ کاتب وحی تھا چیلنج ہے پوری امت کو میرا چیلنج ہے ایک آیت قرآن کی لکھنا ثابت کر دے کہ اس نے آیت لکھی ہے۔

صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ فتح مکہ کے بعد وہ اور اس کا باپ اسلام لایا وہ ظاہری اسلام تھا اور باپ نے یہ کہا حضور پاک علیہ السلام سے کہ مسلمان ہمیں اچھوت سمجھتے ہیں، شودر سمجھتے ہیں۔ کوئی پاس بیٹھتا نہیں، کوئی ملتا نہیں، ہم آتے ہیں تو اٹھ کے چلے جاتے ہیں، ہم لوگوں کو اچھوت بنا رکھا ہے، لہٰذا کرم فرما دیجیے کوئی کام دے دیجیے میرے بیٹے کو اس کو کچھ لکھنا آتا ہے۔

تو حضور نے فرمایا ٹھیک ہے کوئی ضرورت پڑی تو میں کچھ لکھوا لوں گا، اب یہ خبیث، جھوٹے، مکار، فراڈی مولوی کہتے ہو کاتب وحی تھا، وہاں وحی تو نازل ہونا ہی بند ہو گئی، وحی کی تو کوئی آیت باقی تھی ہی نہیں جس کو اس کے لکھنے کی ضرورت پڑتی۔ حضور نے تو اس کو 100 اونٹ دیے تھے کہ اونٹ چراتا چراتا یہ مر جائے، اس کا شر ہم سے دور رہے۔

 تو جب یہ ہوا کہ چلو کچھ لکھوا لیا جائے گا، تو عبداللہ ابنِ عباسؓ کو ایک موقع پر بھیجا، صحیح حدیث ہے، کہ حضور بلا رہے ہیں تو اس نے کہہ دیا کہ کہہ دو کہ کھانا کھا رہے ہیں۔ حضرت عبداللہ ابنِ عباسؓ حضور کے پاس آئے اور بتایا کہ وہ کھانا کھا رہے ہیں، پھر حضور نے انتظار کیا 15، 20 منٹ کہ بھئی کھانا کھا لینے دو، پھر آپ نے عبداللہ بن عباسؓ کو بھیجا کہ اب بلا لاؤ۔

جب عبداللہ بن عباسؓ دوسری مرتبہ گئے اور کہا کہ حضور انتظار کر رہے ہیں تو اس نے کہا بتا دو کہ کھانا کھا رہے ہیں۔ عبداللہ بن عباسؓ واپس آئے، اب حضور کا جلال شدت اختیار کر رہا تھا کہ دو مرتبہ میں بلا چکا ہوں اور آدھا گھنٹے سے زیادہ گزر چکا ہے، یہ کہتا ہے کہ کھانا کھا رہا ہوں۔

پھر حضور نے انتظار کیا 15، 20 منٹ اور پھر بھیجا، جب تقریباً ایک گھنٹہ ہو چکا تھا تو عبداللہ بن عباسؓ تیسری مرتبہ پہنچے اور پھر جواب ملا کہ کھانا کھا رہا ہوں۔ حضور اکرمﷺ کے پاس عبداللہ بن عباس نے جب تیسری مرتبہ یہ بات کہی تو بالکل خلافِ عادت حضورﷺ کی جو شان تھی وہ تو بڑی شفقت کی، لیکن اس وقت اتنا غضبناک ہوئے آپ اس اچھوت پر، اس شودر پر، اس بگڑے ہوئے انسان پر کہ فرمایا: "لا أشبع الله بطنه" (خدا اس کا پیٹ کبھی نہ بھرے)۔

 تو تمام صحیح روایات میں ثابت ہے کہ پوری عمر اس کا پیٹ نہیں بھرا، روزانہ سات مرتبہ کھانا کھاتا تھا اور یہ کہتا تھا کہ کھاتے کھاتے تھک جاتا ہوں، پیٹ نہیں بھرتا۔

حضورﷺ کی بددعا قبول ہوئی اس کے بارے میں، جو فضیلت کی حدیثیں نقل کرتے ہیں وہ اتنے لپاڑی، اتنے جھوٹے، اتنے مکار، اتنے خبیث لوگ ہیں جن کی خباثت کی کوئی انتہا نہیں۔

محدثینِ کبار امام احمد ابن حنبل ہوں یا امام اسحاق بن راہویہ یا امام حاکم ہو یا امام عبدالرزاق ہو، تمام ائمہ متفق ہیں کہ اس کے بارے میں ایک حدیث بھی وارد نہیں۔ امام نسائی تو اسی میں شہید کر دیے گئے، اس حقیقت کو بتانے کی وجہ سے۔

 اس لیے جو بدمعاش اس دور میں اور اس سے پہلے دور میں بھی جو پیدا ہوئے ہیں اور جو صفائی پیش کرنے میں اور ظالم اور قاتل اور مجرم کی صفائی پیش کرنے اور دفاع کرنے میں لگے ہوئے ہیں، خدا کی قسم وہ اپنی جہنم تیار کر رہے ہیں اور وہ اپنی برزخ میں فرشتوں کی مار کے انتظار میں ہیں۔ جب فرشتے ان کو کوڑے بھی ماریں گے، ہتھوڑے بھی ماریں گے، اور کہیں گے تو قاتل کا ساتھ دے رہا تھا۔

قرآن نے کہا نہیں تھا کہ جو ایک مومن کا بھی قاتل ہے وہ ہمیشہ ہمیش کا جہنمی ہے۔ تو وہ بدمعاش، وہ مجرم اور خبیث جس نے بڑے بڑے صحابہ کو قتل کیا، جس نے اہل بیت کو قتل کیا، جس نے عظیم تابعین کو قتل کیا، اس پر فخر کرتا رہا اور ایک ظالمانہ حکومت قائم کی اور وہ جہنم کا داعی تھا، تو اس کے دفاع میں بےشرم و بےحیا شیطان کی اولاد لگا ہوا ہے، اپنی جہنم بھڑکا رہا ہے۔

خوب یاد رکھو قرآن صاف بات کرتا ہے، بے لاگ بات کرتا ہے۔ جب قرآن کی زبان بولی جائے گی تو حقیقت آشکارہ ہو جائے گی، ہر بات کھل کر سامنے آ جائے گی، اور جو قرآن پاک سے کترائیں گے اور جھوٹی تاویلیں کریں گے وہ جہنمی ہیں، مجرم ہیں، خبیث ہیں۔

اس امت کو چاہیے کہ چوکنہ ہو جائے کیونکہ اس طرح کے بدمعاش پھیل گئے ہیں جو اپنے کو اہل سنت کہتے ہیں اور نبی کے قاتلوں کی تعریف کرتے ہیں۔ نبی نے فرمایا تھا کہ جو علی سے جدا وہ مجھ سے جدا، جو علی سے جنگ کرے گا وہ مجھ سے کرے گا، جو علی کو گالی دے گا مجھے دے گا۔

ممبروں پر 60 سال جن بدمعاشوں نے حضرت علی بن ابی طالبؓ کو گالیاں دیں، ان کے جہنمی ہونے میں کوئی شک نہیں، وہ نبی کو گالی دیتے تھے، انہوں نے نبی سے جنگ کی اور نبی کریمﷺ نے فرما دیا تھا جو علی سے بغض رکھے گا وہ منافق ہے، نبی نے اعلان کر دیا تھا کہ پہچان لینا کہ علی سے الگ کون ہے وہ منافق ہوگا۔

یہ ہیں وہ حقائق جو قرآن بیان کر رہا ہے اب قرآن کو بھی کوئی نہ مانے، ڈھیٹ ہو، بدمعاش ہو، ضدی ہو، شیطان اس کا استاد ہو، وہ ابلیس کا شاگرد ہو تو اس کا کوئی علاج نہیں ہے، وہ اللہ ہی علاج کرے گا۔

بہرحال آج کے درس میں قتلِ خطا اور قتلِ عمد، عمد کہتے ہیں جان بوجھ کر قتل کرنا، اس کا ذکر ہے اور میں نے بتایا کہ ابوبکر صدیق نے صحابہ کو قتل کیا، بے شمار صحابہ کو قتل کیا چونکہ وہ باغی ہو گئے تھے۔ علی نے قتل کیا ان کو جو باغی تھے اور جو باغی تھے انہوں نے صحابہ کو قتل کیا، تابعین کو، اہل بیت کو کیونکہ وہ ظالم اور جہنم کے داعی تھے۔

اور یہ بھی نبیﷺ نے بیان فرمایا تو اب نبی کی باتوں کو نبی کے منہ پہ مارا جائے؟ بدمعاش جو اپنے کو اہل سنت کہتے ہیں۔ سنت کے قاتل، نبی کے قاتل، نبی کے صرف گستاخ نہیں، نبی کا کلیجہ پھاڑنے والے، سینہ چھلنی کرنے والے، وہ *فراڈی اہل سنت جو ناصبی ہی صرف نہیں ہیں، بڑے مجرم، قاتل، جہنمی ہیں۔

 ان کے بارے میں قرآن بھی یہی کہتا ہے، حدیثیں یہ کہتی ہیں لیکن ایک بھیڑ ہے جس کو گمراہ کر دیا گیا ہے۔ پاگلوں کی بھیڑ، مجنونوں کی بھیڑ، منافقوں کی بھیڑ ہے، اس بھیڑ میں کوئی مومن پھنس جائے تو اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ارے شیطانوں کے مجموعے اور ابلیس کے جتنے بھی تعلق رکھنے والے اس کے شاگرد اور اس کے چیلے چپاٹے ہیں، وہ ایسوں کے خلاف ہوتے ہیں جو نبی کی بات کریں، قرآن کی بات کریں۔

 کیونکہ ان کے نظریات ٹوٹتے ہیں، ان کا نظامِ ابلیسی ٹوٹتا ہے، ان کا نظامِ دجالی ٹوٹتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کے دفاع میں وہ اپنی جانیں دیتے ہیں۔ حقائق کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے اور ہر مسلمان کو یہ آیتیں یاد رکھ لینا چاہیے، یاد کر لینا چاہیے تاکہ اس کے علاوہ کوئی بات چلنے نہ پائے۔ قرآن کی بات چلے گی وہی آخری اور قطعی ہوگی۔

ایک مومن کا بھی جو قاتل ہے وہ جہنمی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اور جو صحابہ کا قاتل ہے، اہل بیت کا قاتل ہے، تابعین کا قاتل ہے، اوہو اس سے تو قصاص ہزاروں مرتبہ لیا جائے گا۔ ہزاروں مرتبہ قصاص لیا جائے گا۔ اس کی بوٹی بوٹی کاٹی جائے گی۔ ہمیشہ ہمیشہ جہنم کی سزا دی جائے گی۔ یہ قرآن کہتا ہے کوئی ملا نہیں کہتا، کوئی مفتی نہیں کہتا۔

 تو وہ مفتی جو اس سے ہٹ کر بات کرے۔ وہ ملا جو اس سے ہٹ کر بات کرے۔ خوب یاد رکھو کہ وہ ابلیس کا شاگرد اور شیطان کی اولاد ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔"

https://youtu.be/kkcDbgPIGtY?si=p6XBhTB5ebiVKbzp

سلفِ صالحین اور اہل سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) عادل ہیں۔ حضرت امیر معاویہؓ جلیل القدر صحابی، کاتبِ وحی اور مسلمانوں کے ماموں (خال المؤمنین) ہیں۔ ان کو "اچھوت"، "شودر"، "بدمعاش" اور "خبیث" کہنا صریح رافضیت، ضلالت اور رسول اللہﷺ کی صحبت کی کھلی توہین ہے۔ احادیث کے مفہوم کو مسخ کر کے ایک صحابی کی تذلیل کرنا، اور ان کا دفاع کرنے والے علمائے حق کو "شیطان کی اولاد" اور "درباری مولوی" قرار دینا دراصل خوارج اور سبائیوں کا منہج ہے۔ صحابہ کرامؓ پر طعن و تشنیع کرنے والا دراصل دینِ اسلام کی بنیادوں پر حملہ آور ہوتا ہے کیونکہ یہی وہ ہستیاں ہیں جن کے ذریعے ہم تک دین پہنچا ہے۔

2: ندوی صاحب نے ایک گمراہ اور رافضی ذہنیت کے حامل شخص (حسن بن فرحان مالکی) کی کذب و افترا پر مبنی ایک کتاب کی خوب تعریف کی ہے اور اس کا سہارا لے کر نہایت ڈھٹائی کے ساتھ ایک من گھڑت اور باطل روایت کا دفاع کرتے ہوئے حضرت امیر معاویہؓ کو نعوذ باللہ "اس امت کا فرعون" قرار دیا ہے۔

کہتے ہیں: "بڑی بحث چلی کہ معاویہ کو فرعون کہہ دیا مولانا نے!

یہ کتاب ذرا دیکھیے: ضخیم کتاب ہے، سینکڑوں صفحات پر مشتمل ہے اور اس کتاب کے لکھنے والے ایک محدثِ جلیل علامہ حسن بن فرحان مالکی ہیں، جو سعودیہ کے ہیں۔

علامہ حسن بن فرحان مالکی کی یہ جو کتاب ہے، اس حدیث پر "معاویہ فرعونُ الأمۃ"، اس میں زبردست تحقیقات کی گئی ہیں اور ان کا یہ کہنا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ کم از کم درجے میں حسن ہے۔

انہوں نے اس کے متعدد شواہد بیان کیے ہیں، رجال پر زبردست بحث کی ہے؛ کیونکہ حسن بن فرحان متونِ حدیث پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں اور اسانید پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں اور انہوں نے تقابلی مطالعہ بھی کیا ہے۔

اور خاص طور پر چونکہ انہوں نے سلفیوں کی تردید کی ہے، اس لیے ان کے خلاف طوفان اٹھایا گیا، ورنہ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ جہاں تک تعلق ہے حضرت علیؓ اور اہل بیتؓ کے فضائل کا، اور باغیوں کے جو پہلو ہیں۔ ظالمانہ، جابرانہ، ان کے وہ ایکسپرٹ ہیں، ان کے متخصص ہیں۔

میں طلبہ سے یہ کہوں گا، دارالمحجۃ البیضاء سے یہ کتاب شائع ہوئی ہے، اس کو آپ نیٹ سے نکال سکتے ہیں، اس کتاب کو ضرور پڑھیں اور یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ کم از کم درجے میں حسن ہے۔

اور اس حدیث کے طرق کو بہت تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے، محاکمہ کیا ہے، زبردست بحث کی ہے، محدثانہ بحث کی ہے؛ صرف متکلمانہ بحث نہیں ہے بلکہ محدثانہ بحث ہے۔

اس لیے پڑھنا چاہیے، جو تحقیق ہے اس کو سامنے رکھنا چاہیے، اول فول بکنا اور چیخنا اور چلانا نہیں چاہیے، اب ظاہر ہے کہ جنہوں نے حضرت علیؓ کو گالیاں دیں، جنہوں نے حضرت حسنؓ کو زہر دیا، جنہوں نے حضرت حسینؓ کو شہید کیا، جو ان کے راستے پر چلیں گے، ان سے تو سب کچھ متوقع ہے۔

اور خدا کا عذاب ان پر کب اترے گا یہ تو نہیں معلوم، لیکن جس طرح بنی امیہ پر اللہ کا عذاب آیا اور پھر خراسان کا لشکر تھا، جس نے بنی امیہ کو چن چن کے ختم کیا؛ خراسان کا لشکر۔ یہی خراسان کا لشکر حدیثوں میں بیان کیا گیا ہے، امام مہدی کے ساتھ ہوگا، جو چن چن کے ناصبیوں کا خاتمہ کریں گے، ان شاء اللہ"

https://youtu.be/ho-Nqsdzweo?si=L5vfxAqRv4QTg2D

حسن بن فرحان مالکی ایک معروف گمراہ شخص ہے۔ جس کے افکار شیعیت اور اعتزال سے بھرے ہوئے ہیں۔ ایک جلیل القدر صحابی کو "فرعونِ امت" کہنا بدترین بغض کی علامت اور زندیقیت ہے۔ سلف کے نزدیک جو شخص صحابہ کرامؓ کی تنقیص کرے وہ گمراہ، زندیق اور بدعتی ہے۔ ایسی باطل اور مردود روایات کو "حسن" یا "صحیح" قرار دے کر ان کی ترویج کرنا، اور سلفی علماء کی تردید پر خوش ہونا اس بات کا غماز ہے کہ یہ شخص علمی دیانت سے مکمل عاری اور ایرانی و سبائی ایجنڈے کا پیروکار ہے۔

مزید یہ کہنا کہ "خراسان کا لشکر امام مہدی کے ساتھ ہوگا، جو چن چن کے ناصبیوں کا خاتمہ کریں گے" یہ در اصل رافضی اثر کا کمال ہے، یہ روافض کے امام مہدی ہیں، جن کے بارے میں ان کا عقیدہ ہے کہ وہ ابو بکر وعمر وعثمان کو قبروں سے نکال کر قتل کریں گے، حضرت عائشہ صدیقہؓ پر حد نافذ کریں گے اور سنیوں کا قتل عام کریں گے۔

اسی طرح حضرت معاویہؓ کے بارے میں اللہ کے رسولﷺ کی طرف منسوب رافضیوں کی ایک جھوٹی روایت کا سہارا لے کر کہتے ہیں: "رسول اللہ نے فرمایا کہ معاویہ کو جب میرے منبر پر دیکھو تو اسے قتل کر دینا" 

https://youtube.com/shorts/HLvJhTkLNjI?si=It3_r6zfv7aTXdA9

مزید کہتے ہیں: "بڑے معصوم بن کر کہتے ہیں کہ بھائی! یزید ایسا تھا، ویسا تھا۔ یزید کو کس نے پالا تھا؟ کس نے پوسا تھا؟ کس گھر میں شراب کی خرید و فروخت ہوتی تھی؟ وہ بڑی تفصیل سے بڑے بڑے علماء ومحدثین کے اقوال میں بیان کر چکا ہوں۔ *کہ معاویہ کے یہاں شراب کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ معاویہ کے یہاں سود جائز تھا۔ معاویہ کے یہاں ریشم کے کپڑے پہنے جاتے تھے۔ معاویہ کے یہاں صحابہ کی گردنیں کاٹی جاتی تھیں۔ معاویہ کے یہاں حضرت علی کو گالی دی جاتی تھی۔ حضرت فاطمہ، جو خواتینِ جنت کی سردار ہیں، ان کو گالی بک جاتی تھی۔ حسین اور حسن کو قتل کروایا، اور دھمکیاں دیں، اور گالیوں سے نوازا جاتا تھا۔ وہ گھر تھا جہاں یہ سب ہوتا تھا۔ اور میں بہت تفصیل سے بتا چکا ہوں کہ جس وقت حضرت حسین کا سر اور دیگر افراد کے سر یزید کے دربار میں لائے گئے، تو فخر کے ساتھ یہ شعر پڑھ رہا تھا کہ:

کاش! میرے وہ اجداد جن کو بدر میں کاٹ کے پھینکا تھا علی نے، کاش! وہ ہوتے تو خوش ہوتے کہ میں نے محمد کے خاندان سے بدلہ لے لیا ہے" 

https://youtu.be/W1vYuUSMY7E?si=Bx_P1tG-5kNzFzgq

3: سلمان ندوی نے بار بار راوی اسلام، جلیل القدر صحابی حضرت ابوہریرہؓ کی ذات پر براہ راست حملہ کیا ہے، انہیں "سرکاری مولوی" قرار دیا ہے اور ان پر بزدلی، خوف اور مصلحت کے تحت احادیث کا بڑا ذخیرہ چھپا لینے ("گول کر دینے") کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔

کہتے ہیں: "یہ جو ایک عقیدہ گھڑا گیا ہے، (یعنی تمام صحابہ کے عادل ہونے کا) جھوٹا عقیدہ ہے، اور ملمع سازی کر کے اہل سنت پر اس کو مڑھ دیا گیا ہے۔ صحابہ کرامؓ کے بیانات اس کے بالکل خلاف ہیں۔ ان کے بیانات پڑھیے مثلاً حضرت حذیفہؓ کے، حضرت عمارؓ کے، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے، حضرت علی بن ابی طالبؓ کے، اور اس کے بعد آگے آئیے تو حضرت حسنؓ کے اور حضرت حسینؓ کے؛ ان کے بیانات پڑھیے، وہی ہیں جو (حق کی) نمائندگی کر رہے ہیں۔

بعد کے جو مُلّا مولوی ہیں، جو بنی امیہ کے ان حاضر باش اور ان کے سرکاری مولوی بن گئے، ان کے دباؤ میں رہے؛ جن میں سب سے بڑے مشہور صحابی اور جن کی 5000 حدیثیں ہیں، ابوہریرہؓ، ان کا حال یہ ہے کہ انہوں نے آدھی حدیثیں "گول" کر دیں۔ اب یہ جملہ برا نہیں لگنا چاہیے۔ وہ خود کہتے ہیں اور بخاری اسے روایت کرتے ہیں کہ "حضورِ پاک علیہ السلام سے میں نے دو خزانے لیے، ایک تو تمہیں بتا دیا، ایک نہیں بتایا؛ اس لیے کہ اگر میں اسے بتا دوں گا تو گردن کاٹ دی جائے گی۔"کون کاٹ دے گا؟ وہ کس دور میں تھے؟

ظاہر ہے کہ اس وقت گردن کاٹنے کی طاقت صرف اور صرف معاویہ کے پاس تھی؛ کیونکہ وہ حاکم تھے۔ تو معلوم ہوا کہ یہ ایک ظالم حکومت تھی، اس کا خوف تھا، اور جو امراء تھے وہ ظالم تھے۔ 

تو انہوں نے حدیثوں کا ایک بڑا ذخیرہ چھوڑ دیا۔ یہ خود ان کا بیان ہے، اب وہ حدیثیں اگر وہ بیان کرتے تو کتنا اچھا ہوتا! جو کام مہدی بعد میں آ کر کریں گے، اسی وقت ہو جاتا۔ تو نبیﷺ نے حدیثیں بیان کی، کسی کو حق ہے کہ حضور کی حدیثوں کو چھپائے؟ حضورﷺ فتنوں اور ملاحم کے بارے میں بتائیں اور پھر اس کے بعد کوئی ٹولہ یہ کہے کہ "اس موضوع کو نہ چھیڑا جائے"، مشاجرات کے بارے میں گفتگو نہ کی جائے؛ یہ دھوکہ ہے، یہ فراڈ ہے، یہ جھوٹ ہے۔"

https://youtu.be/TzSdXlH9gm0?si=5t4sqGW8r_sE9U1H

حضرت ابوہریرہؓ امت کے لیے احادیث کا سب سے بڑا اور مستند ذریعہ ہیں۔ ان پر سرکاری مولوی ہونے اور احادیث چھپانے اور بزدلی کا الزام دراصل دین کی حفاظت اور بنیاد پر سیدھا حملہ ہے جو خالص مستشرقین اور روافض کا حربہ ہے۔ 

4: سلمان ندوی نے سیدنا عمرو بن العاصؓ کو برا بھلا کہنے اور ان پر لعن طعن کرنے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت عائشہ ان کے لیے بددعا کرتی تھیں: 

"امام ذہبی اور دیگر محدثین یہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ اپنی نماز میں معاویہ اور عمرو بن عاص کا نام لے کر قنوت نازلہ پڑھتی تھیں بددعا کرتی تھیں۔"

 https://youtu.be/0rjrZ0WHHWI?si=jvBUxu5MgDLSDTUs

5: حضرت ابو ہریرہؓ پر تنقید کے سلسلے میں سلمان ندوی نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا تھا جو کہ "عذر گناہ بدتر از گناہ" کے قبیل سے ہے، جس میں وہ اپنی پہلی گستاخی پر پردہ ڈالنے کے بجائے مزید ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت ابوہریرہؓ کو تو ناصبیوں کے دباؤ میں دکھاتے ہی ہیں، ساتھ ہی فاتح مصر صحابی رسول عمرو بن العاص اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما پر حضرت عائشہؓ کی طرف سے بددعا کیے جانے کا من گھڑت الزام بھی تراشتے ہیں، اور مزید طعن و تشنیع کے نشتر چلاتے ہیں۔

کہتے ہیں: "جو ہمارے عزیز ہیں، ہمارے شاگرد ہیں، ہمارے ساتھی ہیں، ہماری باتیں سنتے ہیں، کوئی بات ہوتی ہے تو ناصبیوں کی، مجرموں اور بدمعاشوں کی پروپیگنڈا مشنری جب متحرک ہوتی ہے تو یہ گھبرا جاتے ہیں، ارے ایسا ہو گیا، ایسا ہو گیا، مولانا آپ نے ایسی کوئی بات کہہ دی، تو بہرحال میں ان کو سمجھاتا ہوں بتاتا ہوں، ذرا تھوڑا سا ٹھہرو۔

ان کے پروپیگنڈا سے متاثر نہ ہو، یہ شیطانی پروپیگنڈا ہے، ناصبی پروپیگنڈا ہے، یہ باغیوں کا پروپیگنڈا ہے۔ انہوں نے نہ ابوبکر کو بخشا، نہ عمر کو، نہ عثمان کو، نہ علی کو، یہ ایسے لوگ ہیں کہ جو حکمرانوں کے پٹھو ہیں، شیطانوں کے ایجنٹ ہیں اور جب کوئی بات ہوتی ہے ادھر جزیرہ عرب میں، کہ اس کو مسخ کیا جاتا ہے اور صہیونی کے اڈے قائم کیے جاتے ہیں، اور عورتوں کا پردہ اتار دیا جاتا ہے اور فحاشی کے اڈے قومِ ثمود اور قومِ لوط کے علاقے میں قائم کیے جاتے ہیں تو یہ اندھے، بہرے، گونگے بن جاتے ہیں۔ یہی مولوی چھوٹے چھوٹے، چھٹ بھئے جو ہیں، یہ اس وقت ایسے بن جاتے ہیں جیسے کوئی واقعہ نہیں پیش آیا۔

میری گفتگو میں اس کا ذکر آیا کہ حضرت ابوہریرہؓ کی ایک حدیث ہے جس سے اس دور کی صورتِ حال کو سمجھا جا سکتا ہے۔

وہ فرماتے ہیں کہ نبیِ پاک علیہ الصلوۃ والسلام سے علم کے دو خزانے میں نے لیے۔ ایک خزانہ میں نے پھیلا دیا، عام کر دیا، بتا دیا اور ایک خزانہ وہ ہے کہ اگر میں اس کو پھیلا دوں، نشر و اشاعت کروں تو میری گردن کاٹ دی جائے گی۔

تو جو دور تھا جنابِ معاویہ کا، اس دور میں کیونکہ ملک عضوض تھا، یہ نبی کا فرمانا ہے، ہمارا اور آپ کا نہیں کہنا ہے۔ جب نبیِ پاک علیہ الصلوۃ والسلام اس بات کو بیان کر رہے ہیں اور ابو ہریرہؓ جانتے ہیں کہ نبیِ پاک علیہ السلام کا یہ ارشاد ہے اور انہیں معلوم ہے کہ اگر میں بتا دوں گا نام لے لے کر تو یہ قاتل مجھے مار دیں گے، جیسے کتنوں کو مارا، بدری صحابہؓ کو قتل کر دیا، حدیبی صحابہؓ کو قتل کر دیا، محمد ابن ابی بکر کو قتل کیا اور اس کے بعد گدھے کی کھال میں ان کا جسم ڈالا اور آگ لگا دی۔

جب حضرت عائشہ صدیقہؓ کو معلوم ہوا کہ میرے بھائی کے ساتھ یہ کیا ہے تو امام ذہبیؒ اور دیگر محدثین یہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہؒ اپنی نماز میں معاویہ اور عمرو بن عاص کا نام لے کر قنوتِ نازلہ پڑھتی تھیں، بددعا کرتی تھی۔ ہمارے محدثین لکھ رہے ہیں۔

یہ روایت باہر کی کسی شخص کی نہیں ہے، اپنے گھر کے جلیل القدر محدثین کی روایت ہے۔

 حضرت حجر بن عدی اور چھ صحابہ کے ساتھ جو جرم ہوا کہ ان سے کہا گیا کہ علی پر لعن طعن کرو، جب وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوئے تو گردن ان کی کاٹ دی گئی۔ یہ سارے حقائق ظاہر ہے کہ ہمارے ائمہ محدثین نے بیان کیے ہیں، یہ محدثین کے بیانات ہیں جو نقل کیے گئے ہیں۔

 تو بہرحال اب میں نے جب یہ بات کہی تو میں نے ایک بات ساتھ ساتھ یہ کہی کہ جو لوگ سرکاری اور درباری مولوی تھے، یعنی جن کو لگا دیا گیا تھا کہ وہ جمعہ کے خطبوں میں حضرت علی پر لعن طعن کریں، وہ کرتے تھے، شام کی ہر مسجد میں اور جہاں جہاں پر غلبہ تھا ملکِ عضوض کا، وہاں حضرت علی پر سب و شتم ہوتا تھا، یہاں تک کہ مسجدِ نبوی میں مروان حضرت علی پر لعن طعن کرتا تھا۔

یہ بات ثابت ہے اتنے قوی دلائل سے ثابت ہے کہ جن کا اگر انکار کر دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ اب حضرت ابوبکرؓ کی سیرت باقی رہ جائے گی نہ حضرت عمرؓ کی رہ جائے گی کیونکہ جو بھی سیرتیں ہیں حضرت عثمانؓ کی، حضرت عمرؓ کی، حضرت علیؓ کی، وہ انہی کتابوں کی رہینِ منت ہیں۔ انہی کتابوں سے تو ہم ان کی سیرت کا خاکہ بناتے ہیں۔ اور جب یہ کتابیں ان حقائق کو بیان کرتی ہیں جن سے ناصبی چڑتے ہیں، بدکتے ہیں تو اس وقت یہ حدیث، یہی روایات اور کتابیں غیر معتبر ہو جاتی ہیں۔

 معاویہ کی خانہ جنگی کی وجہ سے کئی لاکھ لوگ غیر مسلم ہوئے، کئی لاکھ لوگ اسلام سے دور ہوئے۔ پورا روم کا جو علاقہ ہے وہ اسلام سے محروم ہو گیا، دیکھا خانہ جنگی ہو رہی ہے۔ یہ تو نبی کے مؤتمِن لوگوں کو مار رہے ہیں، نبی کے صحابہ کو مار رہے ہیں تو ان کے دلوں میں اسلام کی نفرت بیٹھ گئی۔ پورا ایران نکل گیا، خراسان نکل گیا، اور سارا یہ علاقہ جو امام ابو حنیفہ کے حلقے کا علاقہ، وہ نکل گیا۔

تو ظاہر ہے کہ یہ اس خانہ جنگی اور خلافتِ راشدہ کے خلاف میں کوشش کے نتیجے میں گیا اور پھر جب لوگوں نے دیکھا یزید کے دور میں کہ حضور کے لاڈلے پوتے، سید شباب اہل الجنہ، اور ان کے خاندان کے لوگ کربلا میں کاٹے جا رہے ہیں تو اسلام سے بے شمار لوگوں میں نفرت ہو گئی کہ اگر یہ اسلام سکھاتا ہے کہ نبی ہی کے لاڈلوں کو، نبی کا نام لینے والے مارے، تو پھر ایسے اسلام کا کیا اعتبار؟

 اس لیے لاکھوں انسانوں کو حق سے دور کرنے کا جرم ان مجرموں نے کیا جنہوں نے خلافتِ راشدہ کے خلاف پوری جنگ چھیڑی اور پھر اس کے بعد یزید جیسے ملعون کو مسلط کیا گیا، جس کی وجہ سے بے شمار مسلمان ایمان سے محروم ہو گئے اور بے شمار کافر ایمان سے دور رہ گئے۔"

https://youtu.be/0rjrZ0WHHWI?si=U_Rtbw5pMJKcnouN

یہ بیان سلمان ندوی کی علمی خیانت اور تاریخ کو مسخ کرنے کی بدترین مثال ہے۔ حضرت عائشہؓ کی طرف سے جلیل القدر صحابہ پر بددعا کرنے کی من گھڑت اور ضعیف تاریخی روایات کو بنیاد بنا کر وہ صحابہؓ کی پاکیزہ جماعت میں پھوٹ اور نفرت دکھانا چاہتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ کو دباؤ کا شکار ثابت کرنا اور حضرت امیر معاویہؓ کے دورِ خلافت کو دہشت گردانہ اور کفر پھیلنے کا سبب بتانا سراسر دجل اور جھوٹ ہے۔ صحابہ کرامؓ کے مابین مشاجرات کو حق و باطل کا معرکہ بنا کر پیش کرنا اور ایک فریق کو ظالم و مجرم قرار دینا صریح ضلالت اور عقیدہ اہل سنت کے منافی ہے۔

6: انہوں نے جنگِ احد کے موقع پر رسول اللہﷺ کا ساتھ چھوڑنے والے منافقین کو صحابہ باور کرا کر، اور حوضِ کوثر کی حدیث کو صحابہ پر منطبق کر کے، اسی طرح حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جن مرتدین سے قتال کیا تھا انہیں بھی صحابی قرار دے کر لوگوں کو صحابہ کرامؓ سے متنفر کرنے کی کوشش کی بارہا کوشش ہے۔

کہتے ہیں: "(ہجرت کے) دوسرے سال وہ موقع آیا جس میں جنگِ بدر ہوئی۔ اب ظاہر ہے کہ جنگِ بدر میں جانے کے لیے لوگ تیار نہیں تھے۔ جو مخلص تھے، سچے صحابہ، جانثار صحابہ، قربانی دینے والے صحابہ، صرف وہی چن چن کے آئے، وہ 313 ہوئے۔ بس 313 تھے جو نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ نکلے اور بدر تک گئے اور باقی جو مدینے میں رہے، ان میں ایسے بھی تھے جو یہ کہتے تھے کہ بھائی یہ موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ ان کی لاشیں ہی واپس آئیں گی۔ یہ حالات تھے اور یہ تو بدر کی بات ہوئی۔

میں بار بار بیان کر چکا ہوں کہ ایک سال کے بعد احد کی جنگ ہوئی۔ جب تین ہزار کفار یلغار کر کے مدینے تک پہنچے اور نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک ہزار صحابہ سے مسجد نبوی میں مشورہ کیا۔ اور مشورے میں خود نبی نے طے کیا کہ اب نکلنا ہے احد پہاڑ کے دامن کی طرف اور وہ وہاں پھر ان سے جنگ کرنا ہے، کیونکہ اس کے شمالی حصے میں کافروں کی فوج موجود تھی۔

تو نبیﷺ ایک ہزار صحابہ کو لے کر نکلے۔ ابھی آدھے راستے پر پہنچے تھے کہ عبداللہ ابن ابی جو منافقوں کا سردار بنا رہا اول سے آخر تک اس نے اعلان کیا، ہم لوگ نہیں جائیں گے، ہمارے لوگ واپس چلیں۔ تو 300 صحابہ اس کے ساتھ نبی سے بغاوت کر کے غداری کر کے دھوکہ دے کر واپس آ گئے۔

ہر سیرت کی کتاب میں یہ واقعہ لکھا ہے، ہر کتاب میں یہ واقعہ موجود ہے۔ کوئی انکار کرے گا؟ کوئی اس کو جھٹلا سکتا ہے؟

 ظاہر ہے کہ جنہوں نے یہ حرکت کی نبی سے غداری کی انہی کی طرح کے لوگ تھے جن کو آگے چل کر سیدنا عثمانؓ سے غداری کرنا تھی، سیدنا علیؓ سے غداری کرنا تھی، انہی میں وہ لوگ تھے جو آگے چل کر سیدنا حسنؓ کو شہید کرنے والے تھے۔ یہ سب وہ مجرم و بدمعاش تھے جو صبح شام نبی کو دیکھتے تھے اور نبی کی مجلس میں بھی جاتے تھے اور نبی کا کھانا بھی کھاتے تھے، لیکن ان کے دل سیاہ تھے۔ اسی لیے نبی پاک علیہ الصلوة والسلام نے جو کھلے منافق تھے ان کے بارے میں تو تفصیلات نہیں بتائیں علامتیں بتا دیں، لیکن جو چھپے ہوئے اپنی صفوں میں تھے اور ان کو لوگ ملّا سمجھتے تھے، صوفی سمجھتے تھے، شیخ سمجھتے تھے، ان کے نام حضرت حذیفہ بن الیمانؓ کو باقاعدہ بتائے کہ فلاں فلاں فلاں فلاں میرے صحابی منافق ہیں۔ اس کو اخفاء میں رکھنا یہ راز ہے، اس کو بیان نہ کرنا تاکہ معلوم رہے، تم کم از کم سمجھتے رہو ضرورت ہو تو کسی کو بتا سکتے ہو۔ تو حضرت عمر بن الخطابؓ کا حال یہ تھا، ایک گھبراہٹ کی کیفیت کہ وہ حضرت حذیفہؓ سے پوچھنے لگے، ارے میرا نام تو نہیں ہے؟ تو حضرت حذیفہؓ نے ان کو اطمینان دلایا کہ آپ کا نام نہیں ہے، لیکن اب آئندہ میں کسی کو نہیں بتاؤں گا۔

اسی طرح حضور پاک علیہ السلام نے ام المؤمنین حضرت ام سلمہؓ سے فرمایا کہ "میرے بہت سے صحابہ ہیں جو مرنے کے بعد مجھے نہیں دیکھیں گے، میں انہیں نہیں دیکھوں گا، یعنی وہ مجھ سے جدا کر دیے جائیں گے۔ تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ حضرت ام سلمہؓ سے ایک موقع پر جب ملنے گئے تو انہوں نے یہ حدیث سنائی تو وہ پریشان ہو گئے، گھبرا گئے کہ بھائی جی پتہ نہیں کون کون لوگ ہوں گے۔

وہ حضرت عمرؓ کے پاس پہنچے اور کہا کہ ام سلمہؓ یہ حدیث سنا رہی ہیں۔ حضرت عمرؓ پر تو بڑا غلبہ رہتا تھا خشیت الہٰی کا، ڈرتے رہتے تھے کہیں اللہ کی کوئی پکڑ نہ ہو جائے، تو وہ حضرت ام سلمہؓ کے پاس گئے اور حضرت عمرؓ نے حضرت ام سلمہؓ سے کہا کہ ام المؤمنین، مومنوں کی ماں آپ کو جو راز نبی نے بتایا ہے، جن صحابہ کے بارے میں یہ کہا ہے کہ وہ مجھے نہیں دیکھیں گے، میں انہیں نہیں دیکھوں گا، ان میں میں تو نہیں ہوں؟

حضرت ام سلمہؓ نے کہا کہ آپ نہیں ہیں، لیکن اب میں کسی کو نہیں بتاؤں گی کہ کس کس کا نام ہے۔ کھلی ہوئی باتیں ہیں اور وہ حدیث کہ نبی پاک علیہ السلام حوض کوثر پر ہوں گے اور اس وقت ایک بھیڑ آ رہی ہوگی جن کو فرشتے دھکے دے رہے ہوں گے۔ تو نبیﷺ کہیں گے، یہی الفاظ ہیں صحیح روایتوں کے، "أصحابي، أصحابي" (میرے صحابہ، میرے صحابہ)۔ تو فرشتے جواب میں کہیں گے کہ اے نبیﷺ! آپ کو نہیں معلوم کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا ہے۔ آپ کے بعد انہوں نے آپ کے جگر گوشوں کو کاٹ دیا ہے، کلیجے چھلنی کر دیے ہیں۔ آپ کے بعد یہ علی سے لڑے اور صحابہ کو قتل کیا اور تابعین کو قتل کیا۔ آپ کے بعد انہوں نے حسین کو شہید کرنے کے لیے اپنے ملعون بیٹے کو مسلط کیا۔ آپ کے بعد آپ کے نواسے حسن کو زہر دے کے مارا۔ آپ کے بعد یہ وہ مجرم لوگ ہیں کہ جن کی معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ان کی مغفرت نہیں ہو سکتی، اس لیے ان کو دھکہ دیا جا رہا ہے کہ حوض کوثر کے قریب نہ بھٹکنے پائے۔

ظاہر ہے کہ جو بھی ان کی تائید کرنے والے ہیں، ان ظالموں کی ان مجرموں کی تو وہ اسی بھیڑ کے پیچھے ہوں گے، دور۔ جب آگے صحابہ کا یہ حال ہوگا کہ ان کو دھکے مل رہے ہوں گے تو پھر جو ان کے تابعین ان کے تابعین جو ان کے ساتھ، جو ان کا دفاع کرتے ہیں، جو ان کی بولی بولتے ہیں، جو ان کی بات کرتے ہیں، وہ سب اسی بھیڑ میں ہوں گے جن کو فرشتے دھکے دے کر حوض کوثر سے ہٹا دیں گے۔

 پھر اللہ یہ فرماتا ہے کہ انہی (صحابہ) میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کا حال یہ ہے کہ کوئی ان کو خوشی ملتی ہے، کوئی مال ملتا ہے، کوئی نفع حاصل ہوتا ہے تو کہتے ہیں ہاں اللہ کا فضل ہے، اللہ کا کرم ہے، اللہ کا فضل ہے، اللہ کا کرم ہے۔ اور اگر کوئی تکلیف ہوتی ہے، کوئی مشکل آتی ہے، کوئی مصیبت آتی ہے تو نعوذ باللہ کہتے ہیں نبی کو مخاطب کر کے، یہ آپ کی طرف سے، یعنی آپ کی غلطیوں کے سبب سے ایسا ہوا، ویسا ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون کیسی تکلیف نبی کو دیتے تھے وہ کیسا دکھ دیتے تھے، کس طرح کی باتیں کرتے تھے۔ تو اللہ جواب میں کہتا ہے ، قل کل من عند اللہ"۔ اے نبی کہہ دیجیے کہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک موقع پر نبیﷺ کی ایک حدیث بیان کی تو جو صحابہ مخاطب تھے، وہ بھی صحابی تھے، انہوں نے کہا ابوبکر تو یہ کہتے ہیں عمر نے تو یہ کہا، تو عبداللہ ابن عباس غصے میں بالکل سرخ ہو گئے اور کہا کہ جاہل میں کہہ رہا ہوں رسول اللہ نے یہ کہا، تو کہتا ہے ابوبکر نے کہا، عمر نے کہا، اے مجرم تیری عقل ماری گئی۔ ظاہر ہے کہ سیدنا عمرؓ اور ابوبکرؓ نبی کے غلام تھے۔

جو نبی کہہ دیں وہ ماننا ابوبکرؓ کو بھی عمرؓ کو

بھی عثمانؓ کو بھی علیؓ کو بھی۔

ہر عالم کو ہر ولی کو۔ نبیﷺ کی بات صاف طور پر سامنے آ جائے، اس کے بعد ایچ پیچ کرنا تاویلیں کرنا، کترانا جھوٹ بولنا اور صحیح حدیث کے مقابلے میں موضوع اور جھوٹی حدیثیں پیش کر کے عوام کو گمراه کرنا، یہ دجالوں کا کام ہے۔ یہ وقت کے شیطانوں کا کام ہے جو ملّا کی شکل میں دِکھتے ہیں، صوفی کی شکل میں دِکھتے ہیں لیکن یہ ڈکیت ہیں امت کے۔

تو یاد رکھو اس حقیقت کو، یہ ہے قرآن جو صاف کھول کھول کر بات کرتا ہے، صحابہ کی بات کرتا ہے۔ 

یہاں انہوں نے منافقین کے بارے میں قرآن کی اور بھی بہت ساری آیتوں کو نقل کر کے صحابہ پر چسپاں کیا ہے)

https://youtu.be/i2SNr1jXaLg?si=tKVyqpe5S89du4CU

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے صحابہ کو قتل کیا، بےشمار صحابہ کو قتل کیا چونکہ وہ باغی ہو گئے تھے۔ سیدنا علیؓ نے قتل کیا ان کو جو باغی تھے اور جو باغی تھے انہوں نے صحابہ کو قتل کیا، تابعین کو اہل بیت کو کیونکہ وہ ظالم اور جہنم کے داعی تھے۔"

https://youtu.be/i2SNr1jXaLg?si=xptr4cA21nLkyvMb

غزوہ احد کے موقع پر عبداللہ بن ابی کے ساتھ واپس پلٹنے والے 300 منافقین کو بار بار "صحابہ" کہنا امت مسلمہ کے اجتماعی عقیدے پر سیدھا حملہ ہے تاکہ صحابہ کرامؓ کی مجموعی عدالت پر شک پیدا کیا جا سکے۔ حوض کوثر کی حدیث مرتدین یا منافقین کے بارے میں ہے، اسے زبردستی جلیل القدر صحابہ، فاتحین اور حضرت امیر معاویہؓ پر چسپاں کرنا بدترین دجل اور کھلی ضلالت ہے۔

اسی طرح حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جن کے ساتھ قتال کیا تھا وہ صحابہ نہیں تھے بلکہ مرتد ہو گئے تھے۔

ایسا لگتا ہے موصوف صحابہ کی اصطلاح سے واقف نہیں ہیں یا جان بوجھ کر تلبیس کاری کر رہے ہیں تاکہ منافقین و مرتدین کو صحابہ باور کرا کر امت کو صحابہ سے متنفر اور بیزار کر دیا جائے اور ان کے دلوں میں صحابہ کرامؓ کی نفرت ڈال دی جائے۔

اہل السنہ جب تمام صحابہ عادل ہیں"کہتے ہیں تو اس سے لغوی صحابہ مراد نہیں ہوتے جو نبی کے ساتھ رہے ہوں اور دل میں کفر چھپائے بیٹھے ہوں، یہ تو منافقین تھے جن کو خود قرآن نے منافقین کہا ہے اور ان کی مذمت کی ہے جبکہ مؤمنین صحابہ کرامؓ کی تعریفیں کی ہیں اور انہیں جنت کی بشارت سنائی ہے۔ اس لیے ہم بھی انہیں منافقین ہی کہتے ہیں۔

 صحابی تو ایک خاص اصطلاح ہے جس سے مراد وہ مکرم ہستیاں ہیں جنہوں نے ایمان کی حالت میں رسول اللہ سے ملاقات کی ہیں اور ایمان پر وفات پائی ہیں۔

7: سلمان ندوی نے حضرت ابو سفیان اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے اسلام پر شک و شبہ اور اعتراض وارد کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا اسلام بس ظاہری اور برائے نام تھا، کہتے ہیں: "صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ فتح مکہ کے بعد وہ اور اس کا باپ اسلام لایا وہ ظاہری اسلام تھا۔

حضور نے تو اس کو 100 اونٹ دیے تھے کہ اونٹ چراتا چراتا یہ مر جائے، اس کا شر ہم سے دور رہے۔

https://youtu.be/i2SNr1jXaLg?si=uTLSJZipF81Xdvfx

اسی طرح انہوں نے ایک قصے کا سہارا لیتے ہوئے غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریمﷺ کو شہید کرنے کی سازش کرنے والے منافقین کو صحابی قرار دیا اور اس گھناؤنی سازش کا الزام جلیل القدر صحابی حضرت ابو سفیانؓ اور ان کے بیٹوں پر عائد کر کے ان پر لعنت بھیجنے کی جسارت کی ہے۔

مولانا عبد الرؤف فاروقی ان پر رد کرتے ہوئے کہتے ہیں: چند دن پہلے بھارت کی ایک شخصیت جو مذہبی حلقوں میں متعارف بھی ہے اور معروف بھی جس کا نام سید سلمان حسینی ندوی ہے، ان کا ایک ویڈیو بیان سننے کا اتفاق ہوا جس میں انہوں نے غزوۂ تبوک کے حوالے سے ایک قصہ بیان کیا ہے کہ غزوۂ تبوک میں نبی کریمﷺ تشریف لے جا رہے تھے کہ آپ نے فرمایا: "ہمارے ہمسفر ساتھیوں اور صحابہ میں 12 شخص منافق ہیں۔ اور پھر بلاذری کے حوالے سے اس پر گرہ لگائی کہ وہ 12 لوگ جو منافق تھے، وہ نبی کریمﷺ کو اس سفر کے دوران شہید کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضور اکرمﷺ کو محفوظ رکھا۔ پھر موصوف نے غالباً شیطان کی طرف سے الہام پا کر اسے حضرت ابوسفیان اور ان کے صاحبزادوں پر منطبق کرنے کی کوشش کی۔ ان 12 افراد کے نام تو نہیں لیے، لیکن اسی کہانی یا اس سے ملتی جلتی کہانی کا یہ حصہ بھی شامل کیا کہ اونٹ پر تین افراد سوار تھے؛ ان میں سے ایک حضرت ابوسفیانؓ تھے، ایک ان کے پیچھے ان کا بیٹا تھا اور ایک ان کے آگے ان کا بیٹا تھا اور حضورﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ: اونٹ پر سوار یہ تینوں شخص جو ہیں، ان پر اللہ کی لعنت ہے۔"

https://youtu.be/XyOoYFqWxxU?si=g9y5KUBWySC-b6Xp

حضرت ابو سفیانؓ صحابی رسول ہیں، اور فتح مکہ کے بعد ان کا اسلام لانا اور نبی کریمﷺ کی ان پر شفقت احادیث صحیحہ سے قطعی ثابت ہے۔ ان کے بارے میں یہ خبيث الزام تراشنا کہ انہوں نے نبی کریمﷺ کے قتل کی سازش کی سراسر بہتان اور شیعہ راویوں کی گھڑی ہوئی جھوٹی اور مردود روایات کا شاخسانہ ہے۔

8: ندوی صاحب نے حوض کوثر کی حدیث جو مرتدین کے بارے میں مرتدین کے بارے میں ہے) کو جلیل القدر صحابہ کرام، تابعین اور مشاجرات صحابہ پر منطبق کیا ہے۔ انہوں نے حضرت امیر معاویہؓ اور دیگر افراد کے لیے انتہائی غلیظ بازاری اور شرمناک گالیاں ملعون ،خبیث ،گندی ،ناپاک، جھوٹے لپاڑیے) استعمال کی ہیں اور ان پر حضرت حسنؓ کو زہر دینے کا من گھڑت الزام لگایا ہے اور حضرت معاویہؓ کی جماعت جن میں صحابہ کرامؓ کی ایک اچھی خاصی تعداد تھی کو باغی اور جہنم کے داعی قرار دیا ہے، ان کی روایتوں کو مردود اور انہیں ملعون قرار دیا ہے۔ مزید برآں ان صحابہ کا دفاع کرنے والے تمام تابعین، تبع تابعین، قاضیوں اور مفتیوں پر بھی گھٹیا زبان استعمال کی ہے اور ان پر قیامت تک کی لعنتیں بھیجی ہیں۔

کہتے ہیں: "حدیثوں سے صحیح طور پر یہ ثابت ہے۔ جو ناصبی بھی ہیں، وہ حضرت حسنؓ کی طرف اس کی نسبت کرتے ہیں، کیونکہ وہ پھر یہ بھی سمجھاتے ہیں کہ حضرت معاویہؓ کو حضرت حسنؓ نے مان لیا تھا۔ وہ جھوٹے لپاڑیے، گندے ناپاک مجرم خبیث، اتنے بے شرم ہیں! حضرت حسنؓ کو زہر دے کے مروانے والا معاویہ اور یزید تھا۔ وہ گندے ناپاک اس پر غور نہیں کرتے کہ حضرت حسنؓ مسجد نبوی میں ہوتے تھے اور معاویہ کا گورنر مروان ملعون خبيث، حضرت علیؓ کو گالیاں دیتا تھا۔ حضرت حسنؓ کو شہید کیا گیا اور جب ان کی لاش حضرت عائشہؓ کی اجازت سے اپنے نانا کے پاس دفن ہونے کے لیے لے جائی جانے لگی تو وہی ملعون مروان تھا جس نے روکا۔ وہ ملعون تھا، ہزار لعنتیں ہوں اس پر جس نے حضرت حسنؓ کی لاش کو اپنے نانا کے پاس دفن نہیں ہونے دیا۔ جب اس سے کہا گیا کہ عائشہ کہتی ہیں کہ اجازت ہے، تو اس نے کہا: "عائشہ جھوٹ بولتی ہے، تم جھوٹ بولتے ہو، ہم نہیں ہونے دیں گے۔

اور جو منافق تھے، مجرم تھے، خبیث تھے جن کے بارے میں نبیﷺ نے فرمایا اور امام بخاریؒ نے لکھا کہ وہ باغی اور جہنم کے داعی تھے، ان کی روایتیں مردود ہیں، ان کی زندگی ان کی زبانیں مردود ہیں، ان پر لعنتیں، قیامت تک لعنتیں اور محشر میں دیکھ لو گے کہ انہی کے بارے میں نبیﷺ فرمائیں گے، جب دیکھیں گے کہ صحابہ کو فرشتے دھکے دے رہے ہیں تو نبی فرمائیں گے، صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کہیں گے: "ارے یہ تو میرے صحابہ ہیں، یہ تو میرے صحابہ ہیں۔ تو فرشتے کہیں گے حضور آپ کو یہ نہیں معلوم کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا حرکتیں کیں، کتنے ظالم، کیسے ملعون کتنے بدمعاش تھے! انہوں نے علی کو پانی سے روکا انہوں نے حسین کو پانی سے روکا، انہیں شہید کیا آپ کے صحابہ کو شہید کیا ، آپ کے صحابہ کے تابعین کو شہید کیا، یہ مرتد ہوئے، یہ ملعون ہیں۔

اس لیے حوض کوثر پر انہیں حاضر نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اور جو بھی ان کو ماننے والے تابعین، تبع تابعین اور ملا، مولوی، مفتی قاضی تھے، سب ملعون ہیں اور سب محشر کے دن حوض کوثر کے قریب حاضر نہیں ہو سکیں گے۔"

https://youtu.be/1UJTgaTqDpA?si=AAO5w6Bfcx-1qffF

حوض كوثر والی حدیث کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو رسول اللہﷺ کی وفات کے فوراً بعد مرتد ہو گئے تھے جیسے مسیلمہ کذاب کے پیروکار وغیره یا منافقین تھے۔ ان احادیث کا اطلاق مشاجرات صحابہ میں شریک جلیل القدر صحابہ فاتحین اور حضرت امیر معاویہؓ پر کرنا روافض کا بدترین اور باطل ترین عقیدہ ہے۔ صحابہ کرامؓ کو مرتد اور ملعون کہنا دین کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کے مترادف ہے۔

اسی طرح حضرت امیر معاویہؓ پر حضرت حسنؓ کو زہر دے کر شہید کرنے کا الزام قطعی طور پر باطل اور ابو مخنف بشام کلبی جیسی شیعہ کذاب مورخین کی گھڑی ہوئی جھوٹی روایات پر مبنی ہے۔ علامہ ابن خلدون قاضی ابوبكر ابن العربی اور حافظ ابن كثير سميت تمام محققین اہل سنت نے اس الزام کو صریح جھوٹ اور بہتان قرار دیا ہے۔

حضرت حسنؓ نے خود امت کے مفاد میں خلافت حضرت معاویہؓ کے سپرد کی تھی، جسے ندوی صاحب "لپاڑیوں اور گندے لوگوں کا عقیدہ کہہ کر دراصل حضرت حسنؓ کے اس عظیم فیصلے کی توہین کر رہے ہیں، جس پر نبیﷺ نے سیدنا حسنؓ کی تعریف کی تھی اور انہیں "سید" کہا تھا۔

اس کے علاوہ بھی اشارہ کنایہ میں متعدد اجلہ و اکابر صحابہ پر طعن کیا ہے، مثال کے طور پر کہتے ہیں خلافت پر قبضہ کرنے کے چکر میں حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ نے آخری وقت میں حضورﷺ کی کھل کر مخالفت کی تھی ۔

(دیکھیے: علماء اہلسنت سے چند سوالات: صفحہ 11) مزید کہتے ہیں: حضورﷺ کے بعد خلافت کے حقدار حضرت ابوبکر و عمر نہیں بلکہ حضرت علی تھے۔

تمام صحابہ نے حضرت علیؓ کے تعلق سے حضورﷺ کی وصیت کو ٹھکرا دیا تھا، اگر وہ آپ کے حکم کو مانتے اور علی کو خلیفہ بنا لیتے تو یہ اختلافات جنم ہی نہ لیتے۔

 (دیکھیے: علماء اہلسنت سے چند سوالات: صفحہ 10-13)

https://youtu.be/__N1PmVfJws?si=GerFBUszpf1GEOSa

مزید کہتے ہیں: حضرت علیؓ کے خلاف نکلنے والے تمام صحابہ (جن میں حضرت طلحہ، زبیر، ام المؤمنین عائشہ، مغيرة بن شعبہ، امیر معاویہ رضی اللہ عنہم وغیرہ شامل تھے فاسق ہیں اور ان کی روایت و شہادت مردود ہے۔

(لفظ صحابہ کے بارے میں غلط فہمیاں: صفحہ 18) 9: ندوی صاحب نے اپنی متعدد تقریروں میں کھل کر یہ بات کی ہے کہ حضرت علیؓ کے خلاف قتال کرنے والے تمام صحابہ باغی، مجرم، قاتل، ظالم اور فاسق ہیں، اس لیے انہیں حوض سے بھگا دیا جائے گا، ان کا ساتھ دینے والے بھی قاتل ظالم مجرم اور جہنمی ہیں، کہتے ہیں: "جو یہ کہتے ہیں کہ "مشاجرات صحابہ کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہیے، وہ دھوکہ دیتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں، وہ خود مجرم ہیں۔ اللہ تعالیٰ یہ پسند نہیں کرتا کہ بری باتیں کھلم کھلا کہی جائیں، ہاں! یہ اللہ ضرور کہتا ہے کہ جو مظلوم ہے وہ ظالم کے خلاف کھل کر بات کر سکتا ہے۔ مظلوم کو یہ حق دیا گیا ہےکہ وہ کہہ سکتا ہے کہ: یہ ظالم ہے، یہ مجرم ہے یا یہ خطاکار ہے۔"

ظالم کی تعریف کرنے والے خود ظالم ہیں، ظالم کا ساتھ دینے والے خود ظالم ہیں، قاتل کا ساتھ دینے والے خود قاتل ہیں اور مجرم و بدمعاش کا ساتھ دینے والے خود مجرم اور بدمعاش ہیں۔ خلیفہ راشد امیر المومنين سيدنا و امامنا على ابن ابی طالب علیہ السلام اور سیدا شباب اہل الجنة الحسن والحسين اور عظیم صحابۂ کرام اجلہ عظام کے خلاف جس نے ہتھیار اٹھائے، جنگ کی یا بغاوت کی وہ مجرم تھے، ظالم تھے اور قاتل تھے۔ ان کا جو ساتھ دے یا ان کی تعریف کرے، وہ مجرم اور جہنمی ہے۔ اس وقت جس نے یہ کیا وہ مجرم تھا، اس کے بعد کی نسلوں میں جس نے یہ کیا وہ مجرم ہے اور آج جو ان ظالموں، ان قاتلوں، ان مجرموں اور ان باغیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ بھی مجرم ہیں اور اپنے جرائم کا نتیجہ دیکھ لیں گے۔ جنہوں نے نبی کو ستایا نبی کا کلیجہ پھاڑ دیا سینہ چھلنی کر دیا اور نبی کے محبوبوں کے خلاف ہتھیار لے کر نکلے، ان پر حملے کیے، کیا ان سے زیادہ کوئی مبغوض کوئی شقی کوئی بدبخت اور کوئی مجرم ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں!

اس کے بعد بھی اگر کوئی گنجائش نکالتا ہے، تو وہ جھوٹی حدیثیں گھڑنے والا ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرما دیا تھا: جو بھی میری طرف جان بوجھ کر جھوٹی حدیث منسوب کرے گا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ تو جن لوگوں نے بھی ان مجرموں کے بارے میں حدیثیں وضع کیں، جھوٹی حدیثیں گھڑیں۔ںم جن کے بارے میں محدثین کا فیصلہ ہے کہ ان کی فضیلت میں ایک حدیث بھی صحیح ثابت نہیں ہے ان جھوٹی حدیثوں سے کام چلانے والے گندے، جھوٹے لپاڑیے، بدمعاش اور مجرم قسم کے لوگ جو قاتل کا ساتھ دے رہے ہیں، وہ جہنم سے بچ نہیں سکیں گے۔ وہ گویا اس کا اعلان کر رہے ہیں کہ: "ہم بھی اس قاتل کے ساتھ ہیں، ہم بھی مومنوں کے قاتل کے ساتھ ہیں، ہم بھی صحابۂ کرامؓ کے قاتلوں کے ساتھ ہیں، ہم بھی ان کو گالی دینے والوں کے ساتھ ہیں، ہمارا نام بھی انہی میں لکھا جائے، ہمارا حشر بھی یزید کے ساتھ کیا جائے، ہم یزیدی ہیں۔ ہمیں حسین نہیں چاہئیں۔ جو ایسے بدمعاش خبیث ،بدبخت بیہودہ اور گندے لوگ ہیں، ظاہر ہے کہ وہ دنیا میں بھی جہنمی ہیں اور آخرت کی جہنم ان کی منتظر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ظالم کے خلاف بات کرنے کا حق ایک مظلوم کو دیا گیا ہے کہ وہ کھل کر ظالم کے خلاف بولے۔ اس لیے جو یہ کہتے ہیں کہ مشاجرات کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہیے، وہ دھوکہ دیتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں اور خود مجرم ہیں۔

https://youtu.be/W2ug_vP5o6s?si=ovAYMIHaEgb0IlxG

یہ خبیث قسم کی تکفیری رافضی سوچ ہے، جس کے زیر اثر ندوی صاحب سیدنا معاویہؓ کی جماعت جن میں متعدد اجلہ و اکابر صحابہ بھی تھے کو مجرم باغی قاتل اور ظالم وغیرہ قرار دے رہے ہیں اور تمام ائمہ و علماء اہل سنت کو مجرم قاتل ظالم جھوٹے مکار اور جہنمی وغیرہ ہر طرح کی گالی دے رہے، یہ باتیں اس قدر واضح طور پر باطل ہیں کہ ان کی تردید و ابطال کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

10: ندوی صاحب نے صحابہ کرامؓ کے بارے میں اہل سنت کے اس متفقہ عقیدے کہ الصحابہ کلہم عدول" (تمام صحابہ عادل ہیں) کا صراحتاً انکار کیا ہے اور اس اصول کا تمسخر اڑاتے ہوئے امت کے اکابرین کو جاہل، احمق، اور بےشرم قرار دیا ہے۔ کہتے ہیں: سارے صحابہ مقدس ہیں، سب عدول ہیں! اے بے شرموں، بے حیاؤں نبی کے منکروں، حدیثوں کے منکروں، جاہلوں، احمقوں کچھ تو شرم کرو۔ حضرت زید بن وہبؓ، حضرت حذیفہؓ اور دیگر حضرات سے منقول ہے کہ حضور اکرمﷺ نے اپنے صحابہ میں سے متعدد لوگوں کے نفاق کے بارے میں حضرت حذیفہؓ کو مطلع کر دیا تھا۔ لہٰذا جب جب ان میں سے کسی کا جنازہ آتا تو حضرت حذیفہؓ اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے، یعنی صحابی کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے۔"

https://youtu.be/mCarWeClJX0?si=LcTp3OAIagH6xo1q

ندوی صاحب نے انتہائی مکاری سے احادیث میں موجود لغوى لفظ "اصحابی" کو شریعت کی اصطلاح"صحابی" کے ساتھ خلط ملط کیا ہے۔ 

اہل سنت والجماعت اور سلف صالحین کے نزدیک "صحابی" وہ ہے جس نے ایمان کی حالت میں رسول اللہﷺ سے ملاقات کی ہو اور اسی ایمان پر اس کا خاتمہ ہوا ہو۔ منافقین، چاہے وہ رسول اللہ کے ساتھ ہی کیوں نہ رہے ہوں، شرعی اعتبار سے ہرگز صحابی نہیں ہیں۔ ان پر صحابیت کا اطلاق کرنا دراصل صحابہ کرامؓ کی مقدس جماعت کی توہین اور انہیں بدنام کرنے کا گھناؤنا رافضی حربہ ہے۔