صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں سلمان ندوی…

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں سلمان ندوی کے چند اقوال

  مامون رشید

صفحہ 1 از 8

یہ کوئی تفصیلی مضمون نہیں ہے اور نہ ہی ندوی صاحب کے شیعی، صوفی اور خارجی عقائد و نظریات کا تنقیدی جائزہ ہے، بلکہ صحابہ کرامؓ کی شان میں ان کی گستاخانہ باتوں کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے، ورنہ دیکھا جائے تو ان کی ہر تقریر صحابہ کرامؓ پر تنقید اور ان کی عدالت اور ایمان میں تشکیک آمیز مواد سے بھری پڑی ہے۔

1: سلمان ندوی نے جلیل القدر صحابی اور کاتبِ وحی سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے "کاتب وحی" ہونے کا انکار کیا ہے۔ اور انہیں نعوذ باللہ "جہنمی،'' "جہنم کا داعی،'' "اچھوت،" "شودر،" "بدمعاش" "قاتل" "مجرم" اور "خبیث" جیسے غلیظ الفاظ سے پکارا ہے۔ اور یہ جھوٹا دعویٰ کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان پر بددعا کی تھی جس کی وجہ سے سات سات بار کھا کر بھی ان کا پیٹ نہیں بھرتا تھا، انہوں نے احادیث کا تمسخر اڑاتے ہوئے حضرت معاویہؓ کی صحابیت کا بھی یکسر انکار کیا اور ان کا دفاع کرنے والے علمائے اہل سنت کو "شیطان کی اولاد" "مجرم،" "فراڈی،" "خبیث"، "جھوٹے"، "مکار"، "جہنمی" اور "ناصبی" قرار دیا ہے۔

مولانا کہتے ہیں:"کہتے ہیں کہ وہ کاتب وحی تھا چیلنج ہے پوری امت کو میرا چیلنج ہے ایک آیت قرآن کی لکھنا ثابت کر دے کہ اس نے آیت لکھی ہے۔

صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ فتح مکہ کے بعد وہ اور اس کا باپ اسلام لایا وہ ظاہری اسلام تھا اور باپ نے یہ کہا حضور پاک علیہ السلام سے کہ مسلمان ہمیں اچھوت سمجھتے ہیں، شودر سمجھتے ہیں۔ کوئی پاس بیٹھتا نہیں، کوئی ملتا نہیں، ہم آتے ہیں تو اٹھ کے چلے جاتے ہیں، ہم لوگوں کو اچھوت بنا رکھا ہے، لہٰذا کرم فرما دیجیے کوئی کام دے دیجیے میرے بیٹے کو اس کو کچھ لکھنا آتا ہے۔

تو حضور نے فرمایا ٹھیک ہے کوئی ضرورت پڑی تو میں کچھ لکھوا لوں گا، اب یہ خبیث، جھوٹے، مکار، فراڈی مولوی کہتے ہو کاتب وحی تھا، وہاں وحی تو نازل ہونا ہی بند ہو گئی، وحی کی تو کوئی آیت باقی تھی ہی نہیں جس کو اس کے لکھنے کی ضرورت پڑتی۔ حضور نے تو اس کو 100 اونٹ دیے تھے کہ اونٹ چراتا چراتا یہ مر جائے، اس کا شر ہم سے دور رہے۔

 تو جب یہ ہوا کہ چلو کچھ لکھوا لیا جائے گا، تو عبداللہ ابنِ عباسؓ کو ایک موقع پر بھیجا، صحیح حدیث ہے، کہ حضور بلا رہے ہیں تو اس نے کہہ دیا کہ کہہ دو کہ کھانا کھا رہے ہیں۔ حضرت عبداللہ ابنِ عباسؓ حضور کے پاس آئے اور بتایا کہ وہ کھانا کھا رہے ہیں، پھر حضور نے انتظار کیا 15، 20 منٹ کہ بھئی کھانا کھا لینے دو، پھر آپ نے عبداللہ بن عباسؓ کو بھیجا کہ اب بلا لاؤ۔

جب عبداللہ بن عباسؓ دوسری مرتبہ گئے اور کہا کہ حضور انتظار کر رہے ہیں تو اس نے کہا بتا دو کہ کھانا کھا رہے ہیں۔ عبداللہ بن عباسؓ واپس آئے، اب حضور کا جلال شدت اختیار کر رہا تھا کہ دو مرتبہ میں بلا چکا ہوں اور آدھا گھنٹے سے زیادہ گزر چکا ہے، یہ کہتا ہے کہ کھانا کھا رہا ہوں۔

پھر حضور نے انتظار کیا 15، 20 منٹ اور پھر بھیجا، جب تقریباً ایک گھنٹہ ہو چکا تھا تو عبداللہ بن عباسؓ تیسری مرتبہ پہنچے اور پھر جواب ملا کہ کھانا کھا رہا ہوں۔ حضور اکرمﷺ کے پاس عبداللہ بن عباس نے جب تیسری مرتبہ یہ بات کہی تو بالکل خلافِ عادت حضورﷺ کی جو شان تھی وہ تو بڑی شفقت کی، لیکن اس وقت اتنا غضبناک ہوئے آپ اس اچھوت پر، اس شودر پر، اس بگڑے ہوئے انسان پر کہ فرمایا: "لا أشبع الله بطنه" (خدا اس کا پیٹ کبھی نہ بھرے)۔

 تو تمام صحیح روایات میں ثابت ہے کہ پوری عمر اس کا پیٹ نہیں بھرا، روزانہ سات مرتبہ کھانا کھاتا تھا اور یہ کہتا تھا کہ کھاتے کھاتے تھک جاتا ہوں، پیٹ نہیں بھرتا۔

حضورﷺ کی بددعا قبول ہوئی اس کے بارے میں، جو فضیلت کی حدیثیں نقل کرتے ہیں وہ اتنے لپاڑی، اتنے جھوٹے، اتنے مکار، اتنے خبیث لوگ ہیں جن کی خباثت کی کوئی انتہا نہیں۔

محدثینِ کبار امام احمد ابن حنبل ہوں یا امام اسحاق بن راہویہ یا امام حاکم ہو یا امام عبدالرزاق ہو، تمام ائمہ متفق ہیں کہ اس کے بارے میں ایک حدیث بھی وارد نہیں۔ امام نسائی تو اسی میں شہید کر دیے گئے، اس حقیقت کو بتانے کی وجہ سے۔

 اس لیے جو بدمعاش اس دور میں اور اس سے پہلے دور میں بھی جو پیدا ہوئے ہیں اور جو صفائی پیش کرنے میں اور ظالم اور قاتل اور مجرم کی صفائی پیش کرنے اور دفاع کرنے میں لگے ہوئے ہیں، خدا کی قسم وہ اپنی جہنم تیار کر رہے ہیں اور وہ اپنی برزخ میں فرشتوں کی مار کے انتظار میں ہیں۔ جب فرشتے ان کو کوڑے بھی ماریں گے، ہتھوڑے بھی ماریں گے، اور کہیں گے تو قاتل کا ساتھ دے رہا تھا۔

قرآن نے کہا نہیں تھا کہ جو ایک مومن کا بھی قاتل ہے وہ ہمیشہ ہمیش کا جہنمی ہے۔ تو وہ بدمعاش، وہ مجرم اور خبیث جس نے بڑے بڑے صحابہ کو قتل کیا، جس نے اہل بیت کو قتل کیا، جس نے عظیم تابعین کو قتل کیا، اس پر فخر کرتا رہا اور ایک ظالمانہ حکومت قائم کی اور وہ جہنم کا داعی تھا، تو اس کے دفاع میں بےشرم و بےحیا شیطان کی اولاد لگا ہوا ہے، اپنی جہنم بھڑکا رہا ہے۔

خوب یاد رکھو قرآن صاف بات کرتا ہے، بے لاگ بات کرتا ہے۔ جب قرآن کی زبان بولی جائے گی تو حقیقت آشکارہ ہو جائے گی، ہر بات کھل کر سامنے آ جائے گی، اور جو قرآن پاک سے کترائیں گے اور جھوٹی تاویلیں کریں گے وہ جہنمی ہیں، مجرم ہیں، خبیث ہیں۔

اس امت کو چاہیے کہ چوکنہ ہو جائے کیونکہ اس طرح کے بدمعاش پھیل گئے ہیں جو اپنے کو اہل سنت کہتے ہیں اور نبی کے قاتلوں کی تعریف کرتے ہیں۔ نبی نے فرمایا تھا کہ جو علی سے جدا وہ مجھ سے جدا، جو علی سے جنگ کرے گا وہ مجھ سے کرے گا، جو علی کو گالی دے گا مجھے دے گا۔

ممبروں پر 60 سال جن بدمعاشوں نے حضرت علی بن ابی طالبؓ کو گالیاں دیں، ان کے جہنمی ہونے میں کوئی شک نہیں، وہ نبی کو گالی دیتے تھے، انہوں نے نبی سے جنگ کی اور نبی کریمﷺ نے فرما دیا تھا جو علی سے بغض رکھے گا وہ منافق ہے، نبی نے اعلان کر دیا تھا کہ پہچان لینا کہ علی سے الگ کون ہے وہ منافق ہوگا۔

یہ ہیں وہ حقائق جو قرآن بیان کر رہا ہے اب قرآن کو بھی کوئی نہ مانے، ڈھیٹ ہو، بدمعاش ہو، ضدی ہو، شیطان اس کا استاد ہو، وہ ابلیس کا شاگرد ہو تو اس کا کوئی علاج نہیں ہے، وہ اللہ ہی علاج کرے گا۔

صفحہ 1 از 8