Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی نگاہ میں۔

  جعفر صادق

فقال ابنِ عباسؓ ليس احد منا اعلم من معاويةؓ۔
ترحمہ: ہم موجود صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑا عالم کوئی نہیں ہے۔
(السنن الکبریٰ للبیہقی: جلد، 3 صفحہ، 26)
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے میں نے حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سے اچھی حکومت چلانے والا نہیں دیکھا۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب تاریخِ کبیر: جلد، 4 صفحہ، 327 قسم اول میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ حکومت کے لائق کسی کو نہیں دیکھا آپ کو تمام لوگوں نے حد درجہ سخی اور کشادہ دل پایا آپ تنگ نظر تنگ دل اور متعصب کی طرح نہ تھے یہ حدیث صحیح ہے۔
اہم نکات:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے نزدیک حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ ظالم حق تلف نہیں بلکہ رعایا کہ ساتھ اچھا سلوک کرنے والے حکمران تھے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا زمانہ جس میں صلحاء علماء صوفیہ اور فقہاء کی کثرت تھی اس کے باوجود آپ کی نگاہ میں حضرت امیرِ معاویہؓ کی حکمرانی لاجواب تھی۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی ساری زندگی دیکھنے کے بعد کیا جیسا کے بعد والے کلام کی تعریض سے پتا چلا۔
اگر سیدنا امیرِ معاویہؓ کی تعریف کرنا ناصبیت ہوتی تو کبھی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نہ کرتے
اس روایت کی متعدد سندیں ہیں امام بخاریؒ نے اس کو تاریخِ کبیر امام عبد الرزاق کی الامالی فی آثار الصحابہ میں اسی طرح جامع المعمر میں انہی کی سند سے اور ابوبکر الخلال نے السنہ میں نقل کیا تمام سندیں معمر پر جا کر ایک ہو جاتی ہیں۔
تفصیل ملاحظہ کیجیئے:
پہلی سند اور دوسری سند:
 أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِی إِسْمَاعِيلُ ثَنَا أَحْمَدُ بنُ مَنْصُورٍ ثَنَا عَبْدُ الرَّزَاقِ أنا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍؓ يَقُولُ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا كَانَ أَخْلَقَ لِلْمُلْكِ مِنْ مُعَاوِيَةَّ كَانَ النَّاسُ يَرِدُونَ مِنْهُ عَلَى أَرْجَاءِ وَادٍ رَحْبٍ لَيْسَ كَالضَّيِّقِ الْحَصِرِ الْمُتَغَضِّبِ يَعْنِی ابْنَ الزُّبَيْرِؓ۔
(الأمالی فی آثار الصحابة للحافظ الصنعانی: حدیث، 97)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍؓ يَقُولُ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا كَانَ أَخْلَقَ لِلْمُلْكِ مِنْ مُعَاوِيَةَؓ كَانَ النَّاسُ يَرِدُونَ۔
(الكتاب الجامع منشور كملحق بمصنف عبد الرزاق: جلد، 11 صفحہ، 453)
پہلا راوی: ثقہ
إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مِهْرَانَ، أَبُو عَلِی الْوَرَّاقُ المتوفى: 323 ھجری وَوَثَّقَهُ الدَّارَقُطْنِی۔
دارقطنی نے اس کی توثیق کی ہے۔
(تاريخِ الإسلام: ذہبی جلد، 7 صفحہ، 474)
دوسرا راوی: ثقہ
زَاج أَبُو صَالِحٍ أَحْمَدُ بنُ مَنْصُوْرِ بنِ رَاشِدٍ المَرْوَزِیالإِمَامُ المُحَدِّثُ الثِّقَةُ أَبُو صَالِحٍ أَحْمَدُ بنُ مَنْصُوْرِ بنِ رَاشِدٍ المَرْوَزِی زَاج۔
امام محدث ثقہ ابو حاتم نے کہا کہ صدوق ہیں
قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: صَدُوْقٌ ابو حاتم کہتے ہیں صدوق ہے۔
(سير أعلام النبلاء: ذہبی جلد، 12 صفحہ، 388)
تیسرا راوی: ثقہ
 عَبْدُ الرَّزَّاقِ بنُ هَمَّامِ بنِ نَافِعٍ الحِمْيَرِی الحَافِظُ الكَبِيْرُ عَالِمُ اليَمَنِ أَبُو بَكْر الحِمْيَری مَوْلاَهُمْ الصَّنْعَانِی الثِّقَةُ الشِّيْعِی۔
عبد الرزاق ،کبیر حافظ عالم یمن ثقہ شیعی ہیں۔
(سير أعلام النبلاء: جلد، 9 صفحہ، 556)
تیسری سند: 
قال إبراهيم بن موسیٰ فيما حدثونی عنه عن هشام بن يوسف عن معمر قال سمعت همام بن منبه عن ابن عباسؓ قال ما رأيت أحدا أخلق للملك من معاويةؓ۔
ترجمہ: میں نے معاویہؓ سے زیادہ کسی کو بھی بادشاہت کا اہل نہیں دیکھا اس میں صرف اتنے ہی کلمات ہیں۔
(التاريخ الكبير: جلد، 7 صفحہ، 326)
پہلا راوی: ثقہ
إِبْرَاهِيم بن موسیٰ بن يزيد بن زاذان التميمی أبو إسحاق الرازی الفراء المعروف بالصغير، وكان أحمد بْن حنبل ينكر على من يقول له الصغير ويقول هو كبير فی العلم والجلالة قال أبو زُرْعَة هو أتقن من أبی بكر بْن أَبی شَيْبَة وأصح حديثا منه وَقَال أبو حاتم من الثقات وهو أتقن من أبی جعفر الجمال۔
ابراہیم بن موسیٰ بن یزید جو ابراہیم صغیر کے نام سے مشہور ہے امام احمد بن حنبلؒ اس کو منع کرتے جو ان کو صغیر کہتا اور فرماتے وہ علم اور جلالت شان میں کبیر ہیں۔
ابو حاتمؒ فرماتے ہیں وہ ابو بکر بن ابی شیبہ سے زیادہ متقن مضبوط اور حدیث میں ان سے اصح ہیں۔
ابوحاتمؒ فرماتے ہیں ثقہ راویوں سے ہیں اور ابو جعفر جمال سے زیادہ متقن ہی ۔
وَقَال النَّسَائی: ثقة امام نسائیؒ فرماتے ہیں وہ ثقہ ہیں۔
(تہذيب الكمال فی أسماء الرجال: جلد، 2 صفحہ، 220)
هِشَامُ بنُ يُوْسُفَ الصَّنْعَانِی الإِمَامُ الثَّبْتُ قَاضِی صَنْعَاءِ اليَمَنِ وَفَقِيْهُهَا۔
ترجمہ: ہشام بن یوسف صنعانی امام ،ثابت ، یمنی صنعا کی قاضی اور فقیہ ہیں۔
ذَكَرَهُ أَبُو حَاتِمٍ فَقَالَ ثِقَةٌ مُتْقِنٌ۔
ترجمہ: ابو حاتم نے ان کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ثقہ اور متقن ہیں۔
(سير أعلام النبلاء: جلد، 9 صفحہ، 581)
چوتھی سند:
 أَخْبَرَنِی عَبْدُ الْمَلِكِ الْمَيْمُونِی قَالَ ثَنَا أَبُو سَلَمَةَ قَالَ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍؓ يَقُولُ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا كَانَ أَخْلَقَ لِلْمُلْكِ مِنْ مُعَاوِيَةَؓ إِنْ كَانَ النَّاسُ لَيَرِدُونَ مِنْهُ عَلَى وَادِی الرَّحْبِ۔
(السنہ لابی بکر: رقم 677)
پہلا راوی:
 عَبْد الملك بْن عَبْد الحميد بْن عَبْد الحميد بْن ميمون بن مهران، أبو الْحَسَن الميمونی الرَّقی، الوفاة: 271ھ صاحب الْإِمَام أَحْمَد كان من جِلّة الفقهاء و كبار المحدِّثين وَعَنْهُ النسائی ووثّقه
عبد الملک بن عبد الحمید امام احمد کے اصحاب میں سے ہیں جلیل فقہاء اور کبار محدثین میں سے تھے۔
امام نسائی نے ان سے روایات لیں اور ان کو ثقہ قرار دیا۔
(تاریخِ الاسلام: جلد، 6 صفحہ، 571)
دوسرا راوی:
التَّبُوْذَكِی أَبُو سَلَمَةَ مُوْسَىٰ بنُ إِسْمَاعِيْلَ الحَافِظُ الإِمَامُ الحُجَّةُ شَيْخُ الإِسْلاَمِ أَبُو سَلَمَةَ مُوْسَىٰ نُإِ سْمَاعِيْلَ المِنْقَرِی مَوْلاَهُمْ البَصْرِی التَّبُوْذَكِی وَقَالَ الحُسَيْنُ بنُ الحَسَنِ الرَّازِی سَأَلْتُ يَحْيَىٰ بنَ مَعِيْنٍ عَنْ أَبِی سَلَمَةَ، فَقَالَ ثِقَةٌ، مَأْمُوْنٌ وَقَالَ ابْنُ سَعْدٍ كَانَ ثِقَةً، كَثِيْرَ الحَدِيْثِ۔  
ترجمہ: ابو سلمہ موسیٰ بن اسماعیل حافظ امام حجہ شیخ السلام یحییٰ بن معین کہتے ہیں ثقہ مامون ہیں۔ابنِ سعد کہتے ہیں ابو سلمہ ثقہ اور کثیر احادیث بیان کرنے والے تھے۔
(سير أعلام النبلاء: جلد، 10 صفحہ، 362)
تیسرا راوی:
عَبْدُ اللهِ بنُ المُبَارَكِ بنِ وَاضِحٍ الحَنْظَلِیالإِمَامُ، شَيْخُ الإِسْلاَمِ، عَالِمُ زَمَانِهِ، وَأَمِيْرُ الأَتْقِيَاءِ فِی وَقْتِهِ،أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الحَنْظَلِی مَوْلاَهُم، التُّرْكِی ثُمَّ المَرْوَزِی الحَافِظُ الغَازِی أَحَدُ الأَعْلاَمِ وَكَانَتْ أُمُّهُ خُوَارِزْميَّةٌ وَحَدِيْثُهُ حُجَّةٌ بِالإِجْمَاعِ وَهُوَ فِی المَسَانِيْدِ وَالأُصُوْلِ۔
ترجمہ: عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ امام شیخ السلام اپنے زمانے کے عالم اتقیا کے امیر حافظ غازی ان کی حدیث بالاجماع حجت ہے اور اگرچہ وہ مسانید اور اصول میں ہو۔
(سير أعلام النبلاء: جلد، 8 صفحہ، 380)
یہاں پر آکر تمام اسناد معمر پر مشترک ہو جاتی ہیں:
1: مَعْمَرُ بنُ رَاشِدٍ أَبُو عُرْوَةَ الأَزْدِی مَوْلاَهُم الإِمَامُ الحَافِظُ شَيْخُ الإِسْلاَمِ أَبُو عُروۃ أَبِی عَمْرٍو الأَزْدِی مَوْلاَهُم البَصْرِی، نَزِيْلُ اليَمَنِ وَكَانَ مِنْ أَوْعِيَةِ العِلْمِ، مَعَ الصِّدْقِ وَالتَّحَرِّی وَالوَرَعِ وَالجَلاَلَةِ وَحُسْنِ التَّصْنِيْفِوَ حَدِيْثُهُ حُجَّةٌ بِالإِجْمَاعِ وَهُوَ فِی المَسَانِيْدِ وَالأُصُوْلِ۔
ترجمہ: معمربن راشد امام حافظ شیخ السلام رحمۃ اللہ علم کے سمند راس کے ساتھ صادق صاحبِ تدبر متقی جلالت شان کے مالک اور اچھے مصنف ان کی حدیث بالاجماع حجت ہے اور اگرچہ وہ مسانید اور اصول میں ہے۔
(سير أعلام النبلاء: جلد، 7 صفحہ، 6)
هَمَّامُ بنُ مُنَبِّهِ بنِ كَامِلِ بنِ سِيْجَ الأَبْنَاوِیالصَّنْعَانِی المُحَدِّثُ المُتْقِنُ أَبُو عُقْبَةَ صَاحِبُ تِلْكَ الصَّحِيْفَةِ الصَّحِيْحَةِ الَّتِی كَتَبَهَا عَنْ أَبِی هُرَيْرَةَؓ وَهِی نَحْوٌ مِنْ مائَةٍ وَأَرْبَعِيْنَ حَدِيْثاً حَدَّثَ بِهَا عَنْهُ: مَعْمَرُ بنُ رَاشِدٍ وَقَدْ حَفِظَ أَيْضاً عَنْ مُعَاوِيَةَؓ وَابْنِ عَبَّاسٍؓ وَطَائِفَةٍ وَ ثَّقَهُ يَحْيَىٰ بنُ مَعِيْنٍ وَغَيْرُهُ۔
ہمام بن منبہ بن کامل محدث متقن اس صحیح صحیفے کے مصنف جس میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے احادیث نقل کی گئی اور وہ تقریباً ایک سو چالیس تھیں۔
ان سے معمر نے روایت لی اور انہوں نے حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور ایک جماعت سے احادیث یاد کی۔
یحییٰ بن معین اور ان کے علاوہ ایک تعداد نے ان کو ثقہ قرار دیا۔
(سير أعلام النبلاء: جلد، 5 صفحہ، 313)