علم کلام اور علماء کی بیزاری - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

علم کلام اور علماء کی بیزاری

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 2

[علم کلام اور علماء کی بیزاری:]بیشک امام رازی نے جو بتلایا وہ حق ہے اور وہ اپنی بات میں سچے ہیں کہ انھیں متکلمین و کلامیہ کے طرق سے بحث و تحقیق کر کے سوائے قیل و قال اور کچھ نہیں ملا۔ نہ تو ان میں بیمار کی شفا تھی اور نہ پیاسے کی سیرابی۔ امام رازی کی سب کتابوں کو نگاہِ تدبر سے دیکھ جائیے آپ کو اصول دین کا کوئی ایک مسئلہ بھی حق کے موافق نظر نہ آئے گا کہ جس پر معقول اور منقول دونوں دلالت کرتے ہوں ۔ موصوف ایک مسئلہ کے تحت متعدد اقوال ذکر کرتے چلے جاتے ہیں ، لیکن حق قول نہ وہ جانتے تھے اور نہ اسے ذکر ہی کیا۔ یہی حال دوسرے متکلمین و فلاسفہ کا بھی ہے۔ یہ کوئی امام رازی کی ہی خصوصیت نہیں اور نہ فلسفہ و کلام اس خوبی کا مالک ہے کہ وہ حق کی راہ دکھائے۔[1][1] نص اپنی کتابوں میں کثرت کے ساتھ ذکر کی ہے۔ جیسے ’’مجموع فتاوی الریاض‘‘ (۴؍۷۱)، ’’الفرقان بین الحق و الباطل‘‘ (ص ۹۷)، ’’معارج الوصول‘‘ (ص ۱۸۵)۔بے شک حق ایک ہی ہے جو رسولوں کی لائی شریعت سے باہر نہیں نکلتا اور وہ اس صریح عقل و فطرت کے بھی عین موافق ہے جس پر رب تعالیٰ نے سب انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ لیکن یہ متکلمین و فلاسفہ اس حق سے ناآشنا ہیں بلکہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے اس دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود گروہوں میں بٹ گئے۔ ان لوگوں نے کتاب میں بھی اختلاف کیا، ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْ الْکِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍ بَعِیْدٍo﴾ (البقرۃ: ۱۷۶)

صفحہ 1 از 2