Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ایک عجیب روایت

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

 حيات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 452 میں ہے چوں ایں آیت نازل شد قرار کردند کہ روز دیگر مباہلہ کنند و نصاریٰ بجاہائے خود بر گشتند پس ابو حارثہ باصحاب خود گفت کہ فردا نظر کنیدا اگر محمد باقر زندان واہل بیت خودمی آید پس بتر سید از مباہلہ اوو اگر باصحاب و اتباع خودمی آیداز مباہلہ اوپر واہ نکنیدا۔

جب آیتِ مباہلہ نازل ہوئی اور دوسرا دن مباہلہ کے لیے مقرر ہوا اور نصاریٰ اپنی جگہ پر واپس ہوئے تو ہاں ابوحارثہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ کل دیکھنا اگر محمدﷺ اپنے فرزندوں اور اہلِ بیتؓ کے ساتھ مباہلہ کے لیے نکلے تو تمہیں ڈرنا چاہیے اور اگر اصحاب کے ساتھ نکلے تو ذرا پروا نہ کرنا۔

اب جائے غور ہے کہ نصاریٰ نجران کو جناب امیر رضی اللہ عنہ اور دیگر اہلِ بیتؓ سے اس قدر خوش اعتقادی جس وجہ سے ہوگئی تھی کہ یہ مباہلہ کے لیے ان کے نکلنے سے ان کی روح کانپتی تھی ممکن ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تو انہوں نے دیکھا ہو اور ان کے بشرہ کو دیکھ کر قیافہ سے ایسا حکم لگا لیا ہو لیکن حسینؓ اور سیدہ فاطمہؓ کو انہوں نے کیسے دیکھ لیا کہ ان کے مباہلہ میں شمولیت سے اس قدر خوف پیدا ہوا یہ سب کچھ شیعہ حضرات کی خوشی اعتقادی کی باتیں ہیں ورنہ کفار کو دہشت جناب رسول اللہﷺ اور ان کے اصحاب رضی اللہ عنہم کبار جو (أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ الخ۔ کے مصداق تھے) سے تھی اور ان کے کارناموں سے آگاہ ہو چکے تھے انہی کے خوف سے انہوں نے نہ مباہلہ منظور کیا نہ مقابلہ بلکہ مصالحت پر مجبور ہوگئے۔ 

اگر بالفرض مان لیا جائے کہ مہم نجران سیدنا امیرؓ کے طفیل ہی سر ہوئی تو یہ ایسی کون سی بڑی بات ہے کہ ایک موضوع جس میں صرف 40 یا 50 آدمیوں کی آبادی ہو قبضہ میں آ جانے سے اسلام کی شوکت میں اضافہ ہو سکتا تھا (یہ ایک الزامی جواب ہے، فنِ مناظرہ سے شد بد رکھنے والے اس انداز سے بخوبی واقف ہوتے ہیں لہٰذا محض اس اقتباس کو پڑھ کر مصنف رحمۃاللہ کے متعلق بغضِ على المرتضیٰؓ کا کوئی شبہ اپنے دل میں پیدا نہ ہونے دیں۔ (عبد الجبار سلفی)

سچ تو یہ ہے کہ خلفاءِ ثلاثہؓ کی جد و جہد اور جانفشانی و جان سپاری کا نتیجہ ہے کہ شرق سے غرب تک اور شمال سے جنوب تک اقطاع الارض میں نورِ اسلام پھیلا اور ظلمتِ کفر دور ہوئی۔ 

رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ‌ الخ۔

(سورۃ المائدہ: آیت 119)

غرض شیعہ بیچارے اثباتِ مدعا، خلافت بلافصل امیر کے لیے ہر چند ہاتھ پاؤں مارتے ہیں مگر ساحلِ مقصود پر پہنچنا مشکل ہے:

ترسم کہ بکعبہ نہ رسی اے اعرابی 

کیں راہ کہ میروی به ترکستان است 

غرضِ قرآن و حدیث میں کوئی دلیل خلافتِ بلافصل على المرتضیٰؓ پر نہیں اور شیعہ اپنے دعویٰ پر کوئی ثبوت نہیں رکھتے نصِ قرآن اور حدیث اس کے خلاف ہے اور واقعات بھی اس عمل کی تصدیق کرتے ہیں کہ خلافت خلفاءِ ثلاثہؓ کا حق تھی حسبِ منشاء ایزدی مجلسِ شوریٰ مہاجرین و انصار کے اجماع سے عمل میں آئی اس لیے تنقیح نمبر 2 بھی بحقِ اہلِ سنت خلافِ شیعہ ثابت ہے یہ دو تنقیحات اہم تھیں اس لیے ان کی بحث طویل ہوگئی ہے اب باقی دو امروں پر مختصر بحث کی جاتی ہے۔