Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

چھبیسواں مسئلہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

یہ ہے کہ معتبر کتاب حدیث استبصار: صفحہ، 130 میں تشریح ہے کہ اپنی عورت سے خلاف فطری حرکت کرنا جائز ہے بلکہ اس کے متعلق ایک عجیب روایت کتاب مذکورہ جلد، 2 صفحہ، 30 میں یوں لکھی ہے:

عَنْ حَمَّادِ بُن عُثْمِانَ قَالَ سَئلْتُ أَبَا عَبْدِاللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَام عَنْ الرجَلُ يَاتِىَ الْمَرْٔةَ فِىْ ذٰلِکَ الْمَوْضِعِ وَ فِى البيت جَمَاعَةٌ وَقَالَ لِىْ وَرَفعَ صَوْتَهٗ قَالَ رسول اللهﷺ مَنْ كَلَّفْ مَمْلُوْكَةَ مَالَا يُطِيْقُ فَلْيَبعْهٗ ثُمَّ نَظَرَنِىْ وُجُوْهِ أَهْلِ الْبَيْتِ ثُمَّ صفىٰ اَبِىْ فَقَال لَا لَابَاسَ بِهٖ۔

ترجمہ: حماد بن عثمان روایت کرتا ہیں کہ میں نے سیدنا صادقؒ سے دریافت کیا کہ اپنی عورت کی مقعد میں دخول کرنا کیسا ہے اس وقت چونکہ آپ کے پاس بہت آدمی بیٹھے تھے آپ نے بلند آواز سے فرمایا کہ اپنے غلام سے اس کی طاقت سے بڑھ کر خدمت لینی جائز نہیں بلکہ اسے فروخت کر دینا چاہیے دوسرے لوگوں کے منہ کو دیکھ کر آپ نے اپنا منہ جھکا کر مجھے چپکے سے یہ فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں اسے معلوم ہوا کہ امام عالی مقام علانیہ طور پر یہ مسئلہ بتانے سے شرماتے تھے لوگوں کو مغالطہ میں ڈال کر راوی کے کان میں کہہ دیا کہ ہاں اس فعل سے کچھ حرج نہیں ہے۔ 

فروعِ کافی: جلد 2 صفحہ 234 میں ہے: 

قُلْتُ لِلرَّضَاء عَلَيْهِ السَّلَام اِنَّ رَجُلاً مِنَ مَوَالِيْكَ اَمَرَنىٰ لَا أَسْأَلَكَ عَنْ مَسْئَلةٍ ه‍ْا بَكَ واستحی مِنْكَ أَنْ يِّسئَلَكَ قَالَ وَمَا هُوَ قُلْتُ الرجَلَ يَاتِى امْرَءَتَهٗ فِى بُرِهَا قَالَ ذٰلِکَ لَهٗ قُلْتُ فَاَنْتَ تَفْعَلُ ذٰلِکَ قَالَ اِنَّا لَا تَفْعَل ذٰلِکَ۔

ترجمہ: راوی کہتا ہے کہ میں نے سیدنا رضا سے عرض کی کہ آپ کا غلام ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتا ہے آپ سے مارے دہشت و شرم کے نہیں پوچھ سکتا فرمایا کیا ہے؟ میں نے کہا مرد اپنی عورت کی مقعد میں ادخال کر سکتا ہے آپ نے کہا ہاں اسے اجازت ہے میں نے کہا آپ بھی ایسا کیا کرتے ہیں؟ کہا ہم ایسا نہیں کیا کرتے (خود رافضیت دیگراں را نصیحت)