شیعہ ذاکروں کو ایک نصیحت جو نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کو…

شیعہ ذاکروں کو ایک نصیحت جو نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کو جائز قرار دیتے ہیں

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 1 از 3

گزشتہ میں ہم شیعہ کے فقیہ اکبر محمد بن مکی العاملی ملقب بہ الشہید الاول اور آیۃ اللہ العظمیٰ محمد الحسینی الشیرازی کے حوالہ سے بالتفصیل یہ بات ذکر کر آئے ہیں کہ اکابر شیعہ علماء جیسے شیخ الطائفہ، ابن حمزہ وغیرہ کے نزدیک سینہ کوبی اور نوحہ خوانی مطلق حرام ہے اور ان کی حرمت پر اجماع بھی منقول ہے۔ چنانچہ ہاشم الہاشمی فضل اللہ کے ساتھ ہونے والی اپنی گفتگو میں کہتا ہے کہ

’’ابن حمزہ اور شیخ الطائفہ نوحہ خوانی کے حرام ہونے کی طرف گئے ہیں اور شیخ نے تو ’’المبسوط‘‘ میں اس کی حرمت پر اجماع نقل کیا ہے۔‘‘ (حوار مع فضل اللہ حول الزہراء: صفحہ 232)

اور یہ بھی کہا ہے:

’’ہاں! جملہ اخبار میں نوحہ خوانی کی حرمت وارد ہوئی ہے۔‘‘ (حوار مع فضل اللہ حول الزہراء: صفحہ 231)

ان سب نصوص اور حرمت کے اجماع کے باوجود آخر پھر بھی یہ حسینی ماتمی مجالس کیوں منعقد کی جاتی ہیں اور اپنے ہی علماء کے اقوال کو دیوار پر کیوں دے مارا جاتا ہے؟!!

اے شیعہ ذاکر! ذرا ہوش سے سن! حضرات اہل بیت نے اپنی اولادوں کی تربیت صبر اور برداشت پر کی تھی اور انہیں یہ تعلیم دی تھی کہ ہر بڑی سے بڑی مصیبت میں بھی صرف انا للہ پڑھا کریں اور صبر کیا کریں، ناکہ واویلا برپا کر دیا کریں، جیسا کہ آج کل اور صدیوں سے مجالس اور تعزیتی مجلسوں میں اس نوحہ خوانی اور گریہ و بکا کا دستور جاری ہے۔

موسیٰ بن جعفر رحمۃ اللہ سے منقول ہے، وہ کہتے ہیں:

’’الصادق جعفر بن محمد کو ان کے سب سے بڑے بیٹے اسماعیل بن جعفر کے وفات پا جانے کی خبر دی گئی۔ اس وقت وہ کھانا کھانا چاہتے تھے۔ یہ خبر سن کر وہ زیر لب مسکرائے، کھانا منگوایا اور اپنے مصاحبوں کے ساتھ بیٹھ گئے اور باقی دنوں سے کہیں اچھے طریقے سے کھانا کھایا۔ پھر اپنے مصاحبوں کو بھی کھانے میں شریک ہونے کی دعوت دی اور کھانا بار بار ان کے سامنے رکھتے۔ یہ منظر دیکھ کر انہیں تعجب ہوا کہ موصوف پر تو بیٹے کی وفات کے غم کا کوئی اثر نظر ہی نہیں آ رہا۔ جب امام موصوف تناول فرما چکے، تو انہوں نے عرض کیا: اے رسول اللہﷺ کی اولاد! آج تو ہم نے آپ میں ایک عجیب تر بات دیکھی ہے۔ آپ کو ایسے بے مثال بیٹے کی وفات کا صدمہ پہنچا اور آپ کا یہ حال ہے؟

فرمانے لگے: مجھے کیا ہو گیا ہے جو میں ویسا نہ بنوں جیسا کہ تم مجھے دیکھ رہے ہو کہ سب سچوں کے سچوں کی خبر میں یہ بات آ چکی ہے کہ میں بھی مرنے والا ہوں اور تم بھی مرنے والے ہو۔ لوگوں نے موت کو پہچانا اور اسے آنکھوں کے سامنے رکھا، اسی لیے جب موت ان میں سے کسی کو اچک لے جاتی تھی، تو انہیں ذرا تعجب نہ ہوتا تھا، انہوں نے اپنا امر اپنے خالق عزوجل کے سپرد کر رکھا تھا۔‘‘ (عیون اخبار الرضا: جلد، 2 صفحہ 2)

امام جعفر صادق رحمۃ اللہ کی اس روایت کے بعد یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ حضرات اہل بیت ان مروجہ حسینی شعائر سے بالکلیہ بری ہیں۔

شیعہ حضرات انصاف سے کام کیوں نہیں لیتے اور شیعوں پر یہ حقیقت کیوں آشکارا نہیں کرتے کہ اہل سنت اس دن کا روزہ نبی کریمﷺ کی اتباع میں رکھتے ہیں جس کا ثبوت ان معتبر روایات سے ہوتا ہے، جو شیعہ اور سنی دونوں کے نزدیک معتبر ہیں۔ جن کا اعتراف شیعہ شیخ ابن طاؤ وس نے بارہا کیا ہے؟!!

اگر تم محض اس لیے سنیوں پر خار کھائے بیٹے ہو کہ عاشوراء کے دن یہ لوگ غم حسین میں اس طرح کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتے، جس طرح شیعہ کرتے ہیں، تو ہم انہیں دو جواب دیتے ہیں:

1۔ فریقین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس دن کا روزہ خود نبی کریمﷺ نے رکھا تھا اور یہی اہل سنت کا فعل ہے۔ الحمد للہ

2۔ نبی کریمﷺ نے عاشوراء کے دن کو سوگ منانے اور اس دن نوحہ کرنے کا حکم نہیں دیا۔ جیسا کہ شیعہ لوگ کرتے ہیں، بلکہ آپﷺ نے یہ فرما کر نوحہ کرنے سے منع فرمایا ہے: ’’نوحہ کرنا جاہلیت کا فعل ہے۔‘‘ یہ حدیث فریقین کے نزدیک بالاتفاق صحیح ہے۔

پھر یاد رہے کہ اہل ایمان و اسلام کے لیے سب سے بڑی مصیبت نبی کریمﷺ کی وفات ہے۔ ایک حدیث میں وارد ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جسے کوئی مصیبت پہنچے، تو میری مصیبت یاد کر لے کہ یہ سب سے بڑی مصیبت ہے۔‘‘ (الکافی للکلینی: جلد، 3 صفحہ 220)

لیکن اس سب کے باوجود اہل اسلام نے اس دن کو غم کا دن نہیں بنایا، حالانکہ یہ مصیبت عظمیٰ کا دن ہے۔ اسی طرح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی وفات کا دن، خلفائے ثلاثہ حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کی شہادتوں کے دن کہ مسلمانوں نے ان دنوں کو بھی شیعوں کی طرح غم اور نوحہ کے دن نہیں بنائے۔

اگر غم منانا ہی طے ہے، تو پھر یہ شیعہ لوگ نبی کریمﷺ کی وفات کے دن سوگ کیوں نہیں مناتے، جیسے دس محرم کے دن کرتے ہیں۔ حالانکہ نبی کریمﷺ کی وفات قتل حسین رضی اللہ عنہ سے بڑی مصیبت ہے۔

اور تو اور خود حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما نے اپنے والد ماجد سیدنا علی بن ابی طالب کی شہادت کے دن کو سالانہ سوگ اور نوحہ کا دن بنا کر کیوں نہ منایا؟

یہ کوفی رافضی ہی تو ہیں، جنہوں نے جناب حسین رضی اللہ عنہ کو بلا کر چھوڑ دیا اور مقتل کے حوالے کر دیا!!!

جناب دکتور راسم صاحب! کیا یہ آپ ہی کا قول نہیں کہ

’’اصل مسلمان شیعہ ہیں اور انصاف یہ ہے کہ کسی فرقہ کے عقائد و افکار جاننے کے لیے خود ان کی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے، ناکہ ان کے مخالفین کی کتابوں کا جو ان الزامات و اتہامات سے بھری ہوتی ہیں، جن کے اس مذہب والے قائل ہی نہیں ہوتے۔‘‘ (الطریق الی مذہب اہل البیت: صفحہ 27)

تو جناب موصوف دکتور راسم بتلائیں کہ کیا عاشوراء کے روزے کا ثبوت خود ان کی کتابوں سے نہیں؟ کیا ان کی کتابوں میں نوحہ خوانی کی حرمت بیان نہیں؟!!

تمہاری کتابیں عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دیتی ہیں اور تم لوگ اس روزہ کو امویوں کے سر دھرتے ہو؟

کیا ہم نے تمہارے مذہب کو آشکارا کرنے کے لیے خود تمہاری ہی کتابوں سے استناد نہیں کیا؟

صفحہ 1 از 3