سیدنا حسینؓ کی تین تجاویز - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدنا حسینؓ کی تین تجاویز

  مولانا اقبال رنگونی

جب سیدنا حسینؓ نے اپنے ہی شیعوں کی بے وفائی کھلی آنکھوں دیکھ لی اور سمجھ لیا کہ یہ لوگ مجھے دھوکہ دے کر یہاں لائے ہیں اور اب مجھے اکیلا چھوڑ گئے ہیں، تو آپ نے حالات کے پیشِ نظر فریقِ مقابل کے سربراہ عمر بن سعد سے کہا کہ میں تین باتیں پیش کر رہا ہوں، ان میں سے ایک چیز آپ اختیار کر لیں:  

1: میں اسلامی سرحدوں میں سے کسی ایک سرحد پر نکل جاؤں، وہاں جا کر اسلامی فوج کی حفاظت کروں اور ان کے ساتھ مل کر اعدائے اسلام کا مقابلہ کروں۔  

2: میں واپس مدینہ منورہ چلا جاؤں۔  

3: مجھے یزید کے پاس لے چلو تاکہ میں براہِ راست اس سے گفتگو کروں۔  

(تاریخِ طبری: جلد 4 صفحہ 207 مترجم)