ایک عورت سے بار بار متعہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہایک عورت کو نکاح کر کے طلاق مثلثہ دی جائے تو دوبارہ اس سے نکاح نہیں ہو سکتا لیکن متعہ کے متعلق عام اجازت ہے ایک عورت سے کئی بار متعہ کیا جا سکتا ہے۔
عَنْ زَرَارَةَ عَنْ أَبِی جَعْفَرَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ قُلْتُ لَهُ جُعِلْتُ فِدَاكَ الرَّجُلُ يَتَزَوَّجُ الْمُتَعَةَ وَ يَنْقَضِی شَرُطُهَا ثُمَّ يَتَزَوْجُهَا رَجُلٌ اخَرُ حَتى بِانَتَ مِنْهُ ثُمَّ يَتَزَوَجُهَا الْأَوَّلُ حَتى بَانَتَ مِنْهُ ثَلَاثًا وَتَزَوَّجَتُ ثَلاثَةَ أَزْوَاجِ يُحِلُّ لِلأَوَّلِ أَنْ يَتَزَوْجَهَا قَالَ نَعْمُ كَمُ شَآءَ لَيْسَ هَذِهِ مِثْلَ الْحُرَّةِ هَذِهِ مُسْتَاجِرَةٌ وَهِی بِمَنْزِلَة الإِمَاءِ۔
ترجمہ: زرارہ کہتا ہے میں نے سیدنا باقرؒ سے کہا میں آپ پر قربان کوئی شخص متعہ کرے اور اس کی شرط پوری ہو جائے پھر دوسرا شخص اس سے متعہ کرے حتیٰ کہ اس سے قطع تعلق ہو جائے پھر اس سے متعہ کرے، حتیٰ کہ تین دفعہ اس سے قطع تعلق ہو اور تین خاوند کر چکی ہو کیا پہلا شخص اس سے متعہ کر سکتا ہے؟ آپ نے کہا جتنی دفعہ چاہے متعہ کرے یہ آزاد اصیل عورت جیسی نہیں بلکہ کرایہ کی عورت اور لونڈیوں کی جابجا ہے۔
متعہ دوریہ
حضرات شیعہ نے متعہ کے متعلق ایک اور لطیف صورت یہ پیدا کی کہ ایک ایک عورت سے ایک رات میں دس بیس آدمی متعہ کریں اور یکے بعد دیگرے سب سے ہم بستر ہو اگر وہ عورت ایسی ہو کہ اس کا حیض بند ہو چکا ہو تو یہ متعہ دوریہ بھی جائز ہے چنانچہ قاضی نور اللہ شوستری نے کتاب "مصائب النوائب" میں تحریر کیا ہے:
وَأَمَا تَاسِعًا فَلَأَنَّ مَا نَسَبَهُ إِلَى أَصْحَابِنَا مِنْ أَنَّهُمْ جَوْزُوا أَنْ يَتَمَتَّعَ الرِّجَالُ الْمُتَعَدِّدُونَ لَيْلاً وَاحِدَةً مِنْ امْرَأَةً سَوَاءٌ كَانَتْ مِنْ ذَوَاتِ الْأَقْرَاءِ ام لا فَمِمَّا خَانَ فِي بَعْضٍ قُيُودِهِ وَذَلكَ أَنَّ الَاصُحَابَ قَدْ خَصُّوا ذَالكَ بِالْآئِسَةِ لَا بِغَيْرِهَا مِنْ ذَوَاتِ الْأَقْرَاءِ۔
ترجمہ: مصنف نواقص الروافض نے (نواقص الروافض یہ فخر اہلِ سنت علامہ مرزا مخدوم الحنفیؒ متوفی 995ھ) کی تالیف ہے بڑی بے مثل کتاب ہے کاش یہ علمی کتاب اس دور میں چھپ سکے۔ (عبدالجبار سلفی)
نے جو ہمارے اصحاب کی طرف منسوب کیا ہے کہ اس بات کو جائز رکھتے ہیں کہ بہت سے اشخاص ایک رات مل کر ایک عورت سے متعہ کریں وہ حیض والی ہو یا آئسہ ہو اس میں خیانتاً بعض قیود چھوڑ دی گئی ہیں کیونکہ ہمارے اصحاب نے اس کو اس عوررت کے ساتھ مختص کر دیا ہے جس کو حیض نہ آتا ہو نہ یہ کہ جس سے چاہے متعہ کرے۔
بہر حال آئسہ ہی کیوں نہ ہو ایک رات میں ایک عورت سے بے تعداد اشخاص کا متعہ کرنا کتنا بڑا بے حیائی کا فعل ہے جس کو حضراتِ شیعہ جائز سمجھتے ہیں۔
ایک بیہودہ حکایت
دلدادگان متعہ نے اس بارہ میں عجیب و غریب حکایتیں واضع کی ہیں اور یہ بھی خیال نہیں کیا کہ ایسی بیہودہ حکایات سے ائمہ اہل بیت کی کہاں تک ہتک و تو ہین ہوتی ہے؟ فروع کافی: جلد 2 صفحہ 190 میں ہے۔
جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بِنُ عُمَيْرِ اللَّيثي إِلَى أَبِي جَعَفَرٍ فَقَالَ لَهُ مَا تَقُولُ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ فَقَالَ احَلَّهَا اللَّهُ فِي كِتَابِهِ وَعَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ فَهِيَ حَلالٌ إِلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَقَالَ يَا أَبَا جَعْفَرَ مِثْلُكَ يَقُولُ. هذَا وَقَدْ حَرَّمَهَا عُمَرُو نَهَى عَنْهُ فَقَالَ وَإِنْ كَانَ فَعَلَ فَقَالَ اعِيُدُكَ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ أَنْ تُحِلُّ شَيْئًا حَرَّمَهُ عُمَرُ قَالَ فَقَالَ لَهُ فَأَنْتَ عَلَى قَوْلِ صَاحِبِكَ وَأَنَا عَلَى قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا عَنْكَ فَإِنَّ الْأَوَّلَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَ الْبَاطِلَ مَا قَالَ صَاحِبُكَ قَالَ فَاقْبَلَ عَبْدُ اللَّهِ بن عُمَيْرٍ فَقَالَ أَيَسُّرُكَ أَنَّ نِسَائِكَ وَبَنَاتِكَ وَأَخْوَاتِكَ وَبَنَاتِ عَمِكَ يَفْعَلْنَ قَالَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ أَبُو جَعْفَرَ عَلَيْهِ السَّلامُ حِيْنَ ذَكَرِ نِسَاءهُ وَبَناتَ عَمِّهِ۔
ترجمہ: ابن عمر لیثی نے امام باقر علیہ السلام سے متعہ کا مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے کہا خدا نے اس کو اپنی کتاب میں اور اپنے رسولﷺ کی زبان سے حلال کیا ہے، پس وہ قیامت تک حلال ہے، ابن عمیر نے کہا، آپ جیسا امام یہ بات کہے۔ حالانکہ عمر نے اس کی حرمت کا فتویٰ دے دیا ہے۔ آپ سے یہ زیب نہیں کہ جس چیز کی حرمت عمر نے بیان کی اُسے آپ حلال کریں ۔ امام باقر نے کہا، تو عمر کے قول پر اور میں رسول اللہﷺ کے قول پر کار بند رہوں گا۔ پہلی بات قول رسول ہے اور تیرے صاحب عمر کا قول باطل ہے۔ ابن عمیر نے کہا کیا آپ کو یہ بات پسند ہے کہ آپ کی عورتیں، لڑکیاں، بہنیں، پھوپھیاں، یہ فعل کریں؟ امام باقر نے یہ بات سن کر اس کی طرف سے منہ پھیر لیا اور کچھ جواب نہ دیا۔
ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ یہ قصہ یار لوگوں کا وضع کیا ہوا اور محض غلط ہے۔ اگر امام باقر معاذ اللہ متعہ کی حلت کے اس قدر قائل تھے کہ اس کو سنت الرسول اور قیامت تک جائز سمجھتے تھے تو پھر عورتوں کا سوال آجانے سے کیوں خفگی آ جاتی؟ کہ بات ہی منقطع ہو گئی اور کوئی جواب نہ بن پڑا۔ یہ عجیب بات ہے کہ جو فعل مردوں کے لیے قیامت تک حلال اور موجب ثواب ہو وہ عورتوں کے لیے باعث شرم و عار ہو، کوئی حکم اسلام میں ایسا نہیں ہے کہ جو ذکور کے لیے مباح اور اناث کے لیے حرام ہو۔ و بالعکس۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ متعہ عورت مرد کے لیے یکساں حرام ہے نہ عقل اس کو درست سمجھتی ہے نہ نقل سے اس کا کوئی ثبوت ہے۔
اسی طرح اس کتاب میں صفحہ 119 پر ایک دوسری حدیث میں درباره متعہ سیدنا باقرؒ اور امام ابو حنیفہؒ کے مابین مکالمہ درج کیا گیا ہے۔ مضمون ہر دو حدیث کا قریباً ایک ہی قسم کا ہے اس لیے اس کا اندراج ضروری نہیں سمجھا گیا۔