2۔ محاصرہ کے دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا موقف:
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ سخت ہوگیا اور اتنا سخت کہ آپؓ کو مسجد میں نماز کے لیے جانے سے روک دیا گیا، لیکن آپؓ فرمانِ رسولﷺ کی تعمیل کرتے ہوئے اس مصیبت پر صبر کرتے رہے اور قضاء وقدر پر ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ یہ کوشش کرتے رہے کہ اس مصیبت اور تشویشناک صورتِ حال کا حل نکالا جائے، اسی لیے حضرت عثمانؓ نے کبھی مسلمانوں کے خون کی حرمت کے موضوع پر خطبہ دیا اور بتایا کہ اسلام کے حق کے علاوہ کسی بھی شکل میں مسلمان کا خون بہانا حرام ہے اور کبھی لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ان سے اپنے فضائل کا تذکرہ کرتے، اپنی اسلامی خدمات کا ذکر چھیڑتے، اور عشرہ مبشرہ میں سے جو باحیات تھے ان کو اس پر گواہ بناتے رہے۔
(خلافۃ علی بن أبی طالب: عبدالحمید علی، صفحہ 85)۔
گویا یہ اشارہ دیتے رہے کہ جس شخص کا ماضی اتنا بہترین ہو اور جس کی اتنی فضیلت ہو کیا اس کے بارے میں یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ وہ دنیا کا اتنا لالچی ہوگا کہ اسے آخرت پر ترجیح دے گا؟ اور کیا عقل میں یہ بات آتی ہے کہ وہ امانت میں خیانت کرے گا اور امت کے اموال و خون سے اس طرح کھلواڑ کرے گا؟ جب کہ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ اللہ کے یہاں اس کا انجام کتنا برا ہے اور اس نے نبی کریمﷺ کے سامنے تربیت پائی ہے آپ نے اسے جنت کی بشارت دی ہے اور آپﷺ کے ساتھ دوسرے افاضل صحابہ نے بھی اس کا تزکیہ کیا ہے، کیا وہ اس طرح کر سکتے ہے؟ تاہم بغاوت کی گرفت مدینہ پر اتنی سخت ہوگئی کہ باغیوں ہی نے اکثر نمازوں میں امامت کروانا شروع کر دی۔
(سیر أعلام النبلاء ء: جلد 3 صفحہ 515)۔
اور جب صحابہؓ کے سامنے حقیقت عیاں ہونے لگی اور سمجھ گئے کہ ہم سے غلط فہمی ہوئی اور یہ خدشہ ہونے لگا کہ کہیں ناخوشگوار حادثہ نہ پیش آ جائے، کیونکہ انھیں دور نزدیک سے یہ اطلاع ہوچکی تھی کہ یہ بغاوت کرنے والے لوگ حضرت عثمانؓ کو قتل کر دینا چاہتے ہیں، تو انھوں نے امیرالمؤمنین عثمانؓ سے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو ہم ان باغیوں کا مقابلہ کریں اور اس شورش کو مدینہ سے باہر نکال دیں، لیکن حضرت عثمانؓ نے اس سے انکار کر دیا، تاکہ کہیں خون ریزی کا سبب آپ نہ بن جائیں۔
(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 167، المسند: جلد 1 صفحہ 396 أحمد شاکر)
تاہم بعض ممتاز و برزگ صحابہؓ نے اپنے اپنے بیٹوں کو حضرت عثمانؓ سے پوچھے بغیر ان کے دفاع کے لیے بھیج دیا، انھیں میں سے حضرت حسن بن علی اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی تھے، جیسا کہ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما بلوائیوں کے حملہ کے دن زخم خوردہ حالت میں اٹھا کر لائے گئے۔
(الطبقات اہل سعد: جلد 8 صفحہ 128 سند صحیح ہے)
اور ان کے علاوہ، عبداللہ بن زبیر، محمد بن حاطب اور مروان بن حکم بھی زخمی ہوگئے، اسی طرح ان لوگوں کے ساتھ حضرت حسین بن علی اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔
(تاریخ خلیفہ بن خیاط: صفحہ 174)۔
ایسے نازک ترین موقع پر حضرت علیؓ نے سب سے زیادہ دفاع کیا، اس کے گواہ مروان بن حکم ہیں،
(تاریخ الإسلام: الخلفاء الراشدون الذہبی: صفحہ 460، 461 اس کی سند قوی ہے)
جو کہ اس دلدوز اور درد ناک آزمائش کے موقع پر حضرت عثمانؓ سے سب سے قریب تھے۔ ابنِ عساکر نے جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا کہ حضرت علیؓ نے حضرت عثمانؓ کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ میرے پاس پانچ سو زرہ پوش افراد ہیں، مجھے اجازت دیجیے کہ میں بلوائیوں سے آپ کی حفاظت کروں، کیونکہ آپ نے کوئی ایسا کام نہیں کیا ہے جس سے آپ کا خون حلال ہو جائے، حضرت عثمانؓ نے جواب دیا کہ اللہ تمھیں بہترین بدلہ عطا کرے، میں یہ نہیں پسند کرتا کہ میری وجہ سے خون ریزی ہو۔
(تاریخ دمشق: صفحہ 403)۔
متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ محاصرہ کے دوران حضرت عثمانؓ کے پہلو بہ پہلو دفاع کر رہے تھے، انھیں میں سے ایک روایت یہ ہے کہ جب بلوائیوں نے حضرت عثمانؓ پر سے پانی بند کر دیا اور آپ کے اہل و عیال پیاس کی شدت سے مرجانے کے قریب تھے تو حضرت علیؓ نے ان کے پاس تین مشکیزہ بھر کر پانی بھیجا، لیکن وہ آپ تک بآسانی نہ پہنچا، بلکہ اس کے لیے بنو ہاشم اور بنو اُمیہ کے کئی غلاموں کو زخمی ہونا پڑا۔
(انساب الا شراف البلادری: جلد 5 صفحہ 67)۔
اس طرح بلوائیوں کی منظم شازش یکے بعد دیگرے تیزی سے انجام پاتی رہی، اور حادثات ہوتے رہے۔ بلوائیوں نے حضرت عثمانؓ پر دھاوا بول دیا اور آپ کو شہید کر دیا۔ جب یہ خبر صحابہ کرامؓ تک پہنچی تو ان میں سے اکثر لوگ مسجد میں تھے، ان کی عقلیں اڑ گئیں، حضرت علیؓ نے اپنے بیٹوں اور اپنے برادران کی اولادوں سے کہا: گھر کے دروازہ پر تمھارے ہوتے ہوئے حضرت عثمانؓ کیسے قتل کر دیے گئے؟ آپ نے حسن کو ایک طمانچہ بھی مارا، حالانکہ وہ دفاع میں زخمی تھے۔
(ابن أبی عاصم، الآحادو المثانی: جلد 1 صفحہ 125) بحوالہ خلافت علی، عبدالحمید علی: صفحہ 87)۔
حضرت حسینؓ کے سینے پر گھونسہ مارا، ابنِ زبیرؓ، اور ابن طلحہؓ کو سخت سست کہا اور سخت غصہ کی حالت میں یہ کہتے ہوئے اپنے گھر گئے: قیامت تک قاتلین پر لعنت ہو، اے اللہ! میں عثمان کے خون سے تیری بارگاہ میں برأت چاہتا ہوں، نہ میں نے انھیں قتل کیا ہے، نہ کسی کو ان کے قتل پر ابھارا ہے۔
(مصنف ابن أبی شیبۃ: جلد 15 صفحہ 209، اس کی سند صحیح ہے۔)
یہ تھا حضرت علیؓ کا موقف، جو محض خیرخواہی، مشورہ اور سمع واطاعت سے لبریز تھا، دوران فتنہ حضرت عثمانؓ کے پہلو بہ پہلو سخت دفاعی موقف، انھیں کبھی بھی برے و نامناسب کلمات سے یاد نہ کیا، ہمہ وقت اس اصلاح کی کوشش میں رہے کہ خلیفہ اور باغیوں کے درمیان سمع واطاعت کا جو پردہ چاک ہو گیا ہے اسے جوڑ دیں، لیکن معاملہ آپ کی طاقت اور ارادہ سے باہر تھا، اللہ کا ارادہ اور مرضی یہ تھی کہ حضرت عثمانؓ منصب شہادت ہی سے سرفراز ہوں۔
(خلافۃ علی بن أبی طالب، عبدالحمید علی: صفحہ 87)