سنت اور اجماع سے دلیل کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم…

سنت اور اجماع سے دلیل کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو اپنا وارث نہیں بنایا

  علی محمد محمد الصلابی

امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’نبی کریمﷺ کا کسی کو وارث نہ بنانا صحیح و قطعی سنت اور اجماع صحابہ کرامؓ سے ثابت ہے اور یہ دونوں قطعی دلیل ہیں، لہٰذا اپنے ظن پر مبنی عمومی مفہوم سے انھیں ٹکرانا اور دونوں میں تعارض پیدا کرنا جائز نہیں ہے اور اگر عمومی مفہوم کو درست مان لیا جائے تو اس میں تخصیص سے کوئی چیز مانع نہیں ہے، بہرصورت یہ دلیل ظنی ہوگی جو کہ قطعی کے معارض نہیں ہو سکتی، کیونکہ ظنی قطعی کی معارض نہیں ہوتی۔

اسی طرح ہماری دلیل کے قطعی ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ’’ہم انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا‘‘ والی روایت کو مختلف اوقات میں اور مختلف مجالس میں کئی صحابہ کرامؓ نے روایت کیا ہے اور کسی نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا، بلکہ اسے قبول کیا اور سچ جانا اور یہی وجہ تھی کہ آپﷺ کی ازواج مطہراتؓ میں سے کسی نے میراث نبویﷺ کے مطالبہ پر اصرار نہیں کیا، نہ ہی آپﷺ کے چچا (سیدنا عباسؓ) نے اس مطالبہ پر اصرار کیا، بلکہ اگر کسی نے مطالبہ کیا اور اسے نبی کریمﷺ کا فرمان سنایا گیا تو وہ اپنے مطالبہ سے فوراً باز آ گیا۔ حضرت علیؓ کے دور خلافت تک تمام خلفائے راشدینؓ کے عہد میں یہی حالت برقرار رہی، کسی نے نہ کوئی تبدیلی کی اور نہ ہی آپﷺ کا ترکہ تقسیم کیا۔ 

(منہا ج السنۃ: ابن تیمیہ: جلد 4 صفحہ 220)۔

امام ابن تیمیہ رحمۃاللہ علیہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عثمان ذی النورینؓ کے بعد سیدنا علیؓ نے منصبِ خلافت سنبھالا، فدک وغیرہ کی زمینیں آپ کی حکومت کے زیرنگرانی ہوگئیں، لیکن حضرت علیؓ نے اس میں سے کچھ بھی نہ اولادِ فاطمہؓ کو دیا، نہ ازواج مطہراتؓ کو دیا اور نہ ہی عباسؓ کی آل اولاد کو۔ پس اگر گزشتہ تینوں خلفاء کے دور میں یہ چیز ظلم تھی اور اب حضرت علیؓ اسے مٹانے کی طاقت رکھتے تھے تو حضرت علیؓ کے لیے سیدنا معاویہؓ اور ان کی فوج سے لڑنے کے بالمقابل یہ کام آسان اور مقدم تھا کہ گزشتہ تین ادوار سے چلے آرہے ظلم کا خاتمہ کریں، کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ وہ حضرت معاویہؓ اور ان کی فوج سے جنگ تو چھیڑیں اور حق حق دار رسید کے تحت نبی کریمﷺ کے محروم ورثاء کو ان کا تھوڑا سا مال نہ دلائیں؟ جب کہ یہ بہت معمولی بات تھی۔

(منہاج السنۃ: ابن تیمیہ: جلد 6 صفحہ 347)۔

عباسی خلیفہ ابو العباس السفاح نے اسی مسئلہ میں اپنے بعض مناظرین کے خلاف خلفائے راشدینؓ کے اجماع سے دلیل قائم کی تھی، علامہ ابن الجوزیؒ نے اپنی کتاب ’’تلبیس ابلیس‘‘ میں اس واقعہ کو نقل کیا ہے کہ ’’سفاح کے بارے میں ہمیں معلوم ہوا کہ ایک دن انھوں نے خطبہ دیا، دوران خطبہ ایک آدمی اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا، میں اولادِ علیؓ میں سے ہوں، اے امیرالمؤمنین! ظالم کے خلاف میری مدد کیجیے، خلیفہ نے پوچھا تم پر کس نے ظلم کیا ہے؟ اس نے کہا: میں آلِ علی میں سے ہوں اور ابوبکر نے فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کو فدک کی زمین وراثت میں نہ دے کر مجھ پر ظلم کیا، خلیفہ نے پوچھا، اور یہ ظلم تم پر ایسے ہوتا رہا ہے؟ اس نے کہا، ہاں، خلیفہ نے پوچھا، ان کے بعد کون ہوا؟ اس نے کہا، عمر، خلیفہ نے پوچھا، اور انھوں نے بھی یہ ظلم روا رکھا؟ اس نے کہا: ہاں، خلیفہ نے کہا: ان کے بعد کون ہوا؟ اس نے کہا، عثمان، خلیفہ نے کہا، اور انھوں نے بھی یہ ظلم روا رکھا؟ اس نے کہا، ہاں، خلیفہ نے پوچھا: ان کے بعد کون ہوا؟ اب وہ اِدھر اُدھر دیکھنے لگا اور بھاگنے کی تاک میں لگ گیا۔ 

(تلبیس إبلیس: صفحہ 135)۔

میراث نبویﷺ کے مسئلہ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے اجتہاد کی درستگی اور سچائی کا اعتراف خود سیده فاطمہؓ کے بطن سے پیدا ہونے والی اولادِ علی کی نسلوں نے بھی کیا۔ امام بیہقیؒ اپنی سند سے فضیل بن مرزوق سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا، زید بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب نے کہا: سنو! اگر حضرت ابوبکر صدیقؓ کی جگہ میں ہوتا تو فدک کی زمین سے متعلق میں بھی وہی فیصلہ دیتا جو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے دیا تھا۔

(تاریخ المدینۃ: ابن شبۃ: جلد 1 صفحہ 200) البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 253)۔

اسی طرح ابو العباس قرطبی نے جملہ اہل بیت کا اتفاق نقل کیا ہے کہ وہ لوگ فدک کی زمین کی ملکیت کے کبھی خواہاں نہ ہوئے، بلکہ وہ ہمیشہ اس کی آمدنی کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرتے رہے، آپ نے اہل بیت کے ذکر میں سب سے پہلے حضرت علیؓ، پھر آپ کی اولاد اور پھر عباسؓ کی اولاد کا ذکر کیا ہے جن کے ہاتھوں میں اللہ کے رسولﷺ کے صدقہ کی نگرانی تھی، آپ فرماتے ہیں: ’’جب حضرت علیؓ نے منصبِ خلافت سنبھالا تو ابوبکر، عمر، اور عثمان رضی اللہ عنہم کی عہد خلافت میں جاری کسی نظام میں تبدیلی نہیں کی، اس کی ملکیت سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی، اور نہ ہی اس کی کوئی جائیداد تقسیم کی، بلکہ خلافت کی املاک کے جو مصارف پہلے سے چلے آ رہے تھے انھیں سے خرچ کیا، اس کے بعد خلافت حسنؓ بن علیؓ کے ہاتھوں میں منتقل ہوئی، پھر سلسلہ وار حسینؓ بن علیؓ، پھر علیؒ بن حسینؓ پھر حسینؒ بن حسینؓ، پھر زیدؒ بن حسینؓ پھر عبداللہؒ بن حسینؓ پھر آل عباسؓ کے ہاتھوں میں منتقل ہوتی رہی، جیساکہ ابوبکر البرقانی نے اپنی صحیح میں ذکر کیا ہے۔ بہرحال یہ سب اہل بیت کے بزرگ شرفاء ہیں اور یہ لوگ شیعہ اور ان کے ائمہ حضرات کے نزدیک سب سے زیادہ معتمد اور قابلِ قدر ہیں، لیکن ان میں سے کسی سے کوئی ایک بھی روایت نہیں ملتی کہ انھوں نے نبی کریمﷺ کے ترکہ کو اپنی وراثت اور ملکیت سمجھا ہو، لہٰذا اگر شیعہ حضرات کا دعویٰ سچ ہے تو حضرت علیؓ یا آپ کے اہل بیت میں سے کسی کو اپنا حق ضرور لے لینا چاہیے تھا، کیونکہ اب حکومت انھیں کے ہاتھوں میں تھی ورنہ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ دعویٰ صحیح نہیں۔ 

(المفہم: القرطبی: جلد 3 صفحہ 564)۔

حافظ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں:

’’روافض نے اس مقام پر بڑی جہالت و نادانی کا ثبوت دیا ہے اور ایسی کذب بیانی کی ہے جس کی حقیقت سے وہ خود ہی ناواقف ہیں، انھوں نے غیر ضروری باتوں میں خود کو الجھا رکھا ہے، اگر یہ لوگ معاملات کی حقیقت سمجھنے کی کوشش کرتے تو صدیق کی فضیلت کا ضرور اعتراف کرتے اور آپ کی دلیل و معذرت کو ضرور قبول کرتے، لیکن کیا کیا جائے یہ عجیب قوم ہے، متشابہ اور لوچ لچر دلائل سے استدلال کرتی ہے اورصحابہ و تابعین اور ہر دور اور ہر جگہ کے معتبر علمائے اسلام کے یہاں جو باتیں مسلّم انھیں چھوڑ دیتی ہے۔‘‘ 

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 251، 253)۔